English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) during travel would delay Zuhr and hasten Asr, delay Maghrib and hasten Isha." [Narrated by Al-Tahawi, Ahmad, and Al-Hakim with a Hasan chain]
In a narration by Ahmad and Ibn Abi Shaybah: "The Prophet (ﷺ) would delay Zuhr and hasten Asr, delay Maghrib and hasten Isha during travel."
The narrator Mughirah ibn Ziyad was deemed trustworthy by Ibn Ma’in and Abu Zur’ah.
Al-Allamah Al-Ayni explained: "This does not mean praying both in the time of Isha, but delaying Maghrib to its latest time, then praying it, followed by Isha. This is a form of combination, not a time combination."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٧٥٤ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَيُقَدِّمُ الْعَصْرَ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُقَدِّمُ الْعِشَاءَ رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاكِمُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُؤَخِّرُ الظَّهْرَ وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ فِي السَّفَرِ. وَفِيْهِ مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، وَثَقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ.
قَالَ الْعَلَّامَةُ الْعَيْنِيُّ: لَيْسَ الْمُرَادُ مِنْهُ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ، وَلَكِنَّ الْمُرَادَ مِنْهُ أَنْ يُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ إِلَى آخِرِ وَقْتِهَا ثُمَّ يُصَلَّيْهَا، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، وَهُوَ جَمْعُ بَيْنَهُمَا صُورَةً لَا وَقْتًا.
اردو
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے تو ظہر کو (ایسے وقت) پڑھتے کہ وہ ظہر کا اخیر
(جیسا کہ علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12) وقت ہوتا تھا اور عصر کا وقت شروع ہوتے ہی
عصر ادا فرماتے تھے، اور مغرب ایسے وقت پڑھتے جبکہ مغرب کا اخیر وقت ہوتا، اور عشاء کا وقت
شروع ہوتے ہی نماز عشاء ادا فرماتے تھے۔
اور امام احمد کی دوسری روایت ابن ابی شیبہ کی روایت کی جیسی اس طرح ہے کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے تو ظہر کو ایسے وقت پڑھتے کہ وہ ظہر کا آخر وقت
ہوتا تھا اور عصر کا وقت شروع ہوتے ہی عصر کے فرض کو جلد ادا فرماتے اور مغرب ایسے وقت پڑھتے
جبکہ مغرب کا آخر وقت ہوتا، اور عشاء کا وقت شروع ہوتے ہی نماز عشاء جلد ادا فرماتے تھے۔(اس
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(اس کی روایت امام طحاوی اور امام احمد اور حاکم نے کی ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے۔)
Note 2
حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کسی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے تھے بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرما کر صورۃً دو نمازوں کو جمع کئے ہیں، واقعی طور پر ایک نماز کا وقت گزرنے کے بعد یا اس کا وقت ہونے کے پہلے دو نمازوں کو جمع نہیں کئے ہیں)