English
Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever skips Friday prayer without a valid excuse should give a dinar in charity. 2 If he cannot afford it, then half a dinar.’"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٧٩٦ - وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ2 فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2077
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بغیر کسی عذر کے (سستی اور کاہلی سے) نماز جمعہ ترک کرتا ہے
(سابقہ وعید کی حدیثوں سے بھی متاثر نہیں ہوتا ہے) تو اس کو چاہئے کہ ایک دینار یا نصف دینار
خیرات کرے (مال کا خرچ کرنا نفس پر سخت پر بہت گراں ہوتا ہے (یہ ایک دینار ساڑھے چار ماشہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1053 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) "Because good deeds erase bad deeds. The apparent meaning is that this command is for recommendation, as there is a choice between a dinar and half a dinar. However, repentance is also necessary, as it erases sins. Allah knows best. This is mentioned by Al-Sindi."
Note 2
(۲) قوله: فليتصدق بدينار إلخ لأن الحسنات يذهب السيئات والظاهر أن الأمر للاستحباب، ولذلك جاء التخيير بين الدينار والنصف. ولا بد من التوبة مع ذلك؛ فإنها الماحية للذنب، والله تعالى أعلم. قاله السندي.
Note 1
سونے کا ہونا ہے۔12) مال کے بچانے کے خیال سے، مال کے خرچ کا بار اس پر نہ پڑنے کے خوف سے بھی وہ جمعہ ترک کرنا چھوڑ دے گا، اس لئے نماز جمعہ ترک کرنے کا ایک یہ بھی علاج بتایا گیا ہے اس میں دوسرا فائدہ یہ بھی مضمر ہے کہ یہ ⟦?⟧ پروریوں کا بھی ذریعہ ہے۔) (اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔) (1) مقیم ہونا، مسافر پر نماز جمعہ واجب نہیں (2) تندرست ہونا، مریض پر نماز جمعہ واجب نہیں (3) آزاد یعنی غلام نہ ہونا، غلام پر نماز جمعہ واجب نہیں (4) مرد ہونا، عورت پر نماز جمعہ واجب نہیں (5) عاقل ہونا، دیوانہ پر جمعہ واجب نہیں (6) بالغ ہونا، بچوں پر جمعہ واجب نہیں۔ جمعہ واجب ہونے کے یہ شرائط ہیں۔ ان شرائط کے نہ پائے جانے کے باوجود اگر کوئی شخص نماز جمعہ پڑھ لے، مثلاً مسافر یا مریض جمعہ پڑھ لے تو ان کا جمعہ اداء ہو جائے گا اور فرض ظہر کی ادائی ان سے ساقط ہو جائے گی۔ 1۔ مصر (یعنی جس جگہ جمعہ ادا کیا جا رہا ہے اس کا مصر یعنی شہر ہونا۔ فقہ حنفی کی رو سے ضروری ہے۔ مصر سے مراد وہ مقام جہاں کے لوگ جمع ہوں تو وہاں کی بڑی مسجد میں نہ سما سکیں) یا فنائے مصر (حدود مصر کے بعد سے ایک فرسخ یعنی تین میل کا علاقہ فنائے مصر کہلاتا ہے) یا چھوٹے قصبہ، کھیڑے یا جنگل میں نماز جمعہ درست نہیں۔ 2۔ ظہر کا وقت۔ وقت ظہر کے پہلے اور ظہر کا وقت نکل جانے کے بعد نماز جمعہ درست نہیں۔ 3۔ خطبہ۔ بغیر خطبہ کے نماز جمعہ نہ ہوگی۔ 4۔ خطبہ کا نماز سے پہلے ہونا۔ نماز کے بعد خطبہ پڑھا جائے تو نماز نہیں ہوگی۔ 5۔ خطبہ وقت ظہر کے اندر ہونا، وقت ظہر شروع ہونے سے پہلے خطبہ پڑھ لیا جائے تو نماز جمعہ نہ ہوگی۔ 6۔ جماعت یعنی امام کے سوا کم از کم تین آدمیوں کا شروع خطبہ سے پہلی رکعت کے پہلے سجدہ تک موجود ہونا۔ اگر سجدہ اولی سے پہلے ان تین آدمیوں میں سے ایک بھی چلا جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی، ہاں اگر پہلی رکعت کا سجدہ اولی کرنے کے بعد چلا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ 7۔ ایسے مقام پر نماز جمعہ پڑھنا جہاں نماز جمعہ کے لئے آنے کی لوگوں کو عام اجازت ہو، اگر کسی ایسے مقام میں نماز جمعہ پڑھی جائے جہاں لوگوں کو آنے کی عام اجازت نہ ہو یا مسجد کے دروازے بند کر کے نماز جمعہ پڑھی جائے تو نماز جمعہ نہ ہوگی، جمعہ کے اداء یعنی صحیح ہونے کے یہ شرائط ہیں، ان شرائط کے نہ پائے جانے کے باوجود اگر کوئی شخص نماز جمعہ پڑھ لے، مثلاً جنگل میں پڑھے تو اس کی نماز جمعہ صحیح نہ ہوگی۔ اور اس کو فرض ظہر پڑھنا ہوگا۔ الحاصل جمعہ کے وجوب اور جمعہ کے اداء میں فرق یہ ہے کہ وجوب کے شرائط نہ پائے جانے کے باوجود اگر کوئی نماز جمعہ پڑھ لے تو نماز جمعہ اداء ہو جائے گی اور ظہر کے فرض اس سے ساقط ہو جائیں گے اس کے برخلاف اگر کوئی شخص جمعہ کے اداء کے شرائط نہ پائے جانے کے باوجود جمعہ پڑھ لے تو نماز جمعہ درست نہ ہوگی اور اس کو فرض ظہر پڑھنا ہوگا (درالمختار، ہدایہ، شرح وقایہ ملتقیٰ) جمعہ کے وجوب کے شرائط اور جمعہ کے اداء یعنی صحت کے شرائط تو آپ سن چکے مگر عام طور پر ایک غلطی ہو رہی ہے اس کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ عموماً یہ سمجھا جا رہا ہے کہ جمعہ کے شرائط میں دارالاسلام کا ہونا بھی ضروری ہے۔ دارالحرب میں جمعہ قائم کرنا صحیح نہیں ہے، اس بارے میں کوکب دُرّی میں لکھا ہے: معلوم نہیں کہ یہ شرط عوام نے کہاں سے نکال لی ہے۔ فقہ میں اس کا کہیں تذکرہ نہیں ہے، دارالحرب ہو یا دارالامن ان میں جمعہ قائم کرنا صحیح ہے، جمعہ اداء ہو جاتا ہے، پھر ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں، شاید عوام کو اس سے دھوکا ہو رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ معظمہ میں جبکہ وہ دارالحرب تھا جمعہ نہیں اداء فرمائے۔ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ مکرمہ میں جمعہ نہ پڑھنا دارالحرب ہونے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس وجہ سے جمعہ نہیں پڑھا گیا کہ کفار جمعہ قائم کرنے ہی نہیں دیتے تھے۔ اس لئے دارالاسلام کی طرح دارالحرب اور دارالامن میں جمعہ قائم کرنا چاہئے اور ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اس تمہید کو ذہن نشین رکھ کر ذیل کے احادیث کو پڑھئے: