English
Abu Sa’id and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported:
"The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever performs Ghusl (ritual bath) on Friday, wears his best clothes, applies perfume if available, attends Friday prayer without stepping over people’s necks, prays what is prescribed for him, and remains silent when the Imam speaks until he finishes his prayer—it will be an expiation for the sins between that Friday and the previous one.’" [Narrated by Abu Dawud while Al-Tahawi narrated a similar version]
In a narration by Ahmad: ‘He does not harm anyone. If he does not find the Imam, he prays as he wishes. If he finds the Imam has already come out, he sits, listens, and remains silent until the Imam finishes his sermon and prayer.’ The narrators are reliable, as mentioned in Majma’ al-Zawa’id.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٨٠٤ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنهما) قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسَ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ : لَا يُؤْذِي أَحَدًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْإِمَامَ خَرَجَ صَلَّى مَا بَدَا لَهُ، وَإِنْ وَجَدَ الْإِمَامَ قَدْ خَرَجَ جَلَسَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ جُمُعَتَهُ وَكَلَامَهُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ أَحْمَدَ، وَهُمْ ثِقَةٌ، قَالَهُ فِي مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ».
اردو
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں
کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا، اور
اس کے پاس جو کپڑے ہیں، اور ان میں سے جو اچھے کپڑے ہیں (اور جو شریعت میں ناجائز نہیں
ہیں) وہ پہنا اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو اس کو لگایا پھر نماز جمعہ کے لئے مسجد میں آیا، اور (مسجد میں)
لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے نہیں گزرا (بلکہ جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا) پھر جو نماز اس کو
پڑھنا ہے پڑھا اور پھر جب امام خطبہ کے لئے اٹھا تو اس وقت سے نماز ختم کرنے تک خاموش رہا تو
ایسے شخص کے وہ سب گناہ جو گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں وہ سب بخش دئے جاتے ہیں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ ابوداؤد
اور امام طحاوی کی روایت میں مذکور الصدر الفاظ تھے۔)
اور امام احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب مسجد میں آیا تو کسی کو ایذا نہ دیا
(جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا اور دیکھا کہ) امام ابھی خطبہ کے لئے نہیں نکلا ہے تو جو نماز اس کو پڑھنا
ہے پڑھ لیا، اور اگر دیکھا کہ امام خطبہ دینے کے لئے نکل چکا ہے تو (بغیر کوئی نماز پڑھے کے اپنی جگہ
) بیٹھ گیا اور خطبہ سنتا رہا، (اگر اس کو ایسی جگہ ملی کہ وہاں اس کو امام کے خطبہ کی آواز نہیں پہنچ رہی
ہے تو) خاموش رہا (اس کا خاموش رہنا بھی خطبہ سننے کے حکم میں ہیں) یہاں تک کہ امام نے خطبہ اور
نماز ختم کر لی۔ (اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہے۔)
Qur’an-related source paragraphs
Allah the Almighty says: “Hasten to the remembrance of Allah and leave off trade...” (1) (Qur’an 62:9)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 343 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
(1) "This indicates the importance of hastening to Friday prayer and preparing for it."
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : وذروا البيع : فيه إشارة إلى التبكير.