English
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Three types of people attend Friday prayer: One attends it aimlessly, and that is all he gets from it; another attends it with supplication, and Allah may grant or withhold his request; and another attends it silently and attentively, without stepping over people’s necks or harming anyone—this will be an expiation for his sins until the next Friday and an additional three days, as Allah says: “Whoever brings a good deed will have ten times its reward.” (Qur’an 6:160)’"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٨٠٥ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَرَجُلٌ حَضَرَهَا بَلَغْوِ فَذَلِكَ حَظِّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ فَهُوْ رَجُلٌ دَعَا اللهُ ، إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوْتٍ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيْهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ يَقُولُ: (مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا (الأنعام: ١٦٠) ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2091
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز جمعہ کے لئے (مسجد میں) آنے والے تین طرح کے ہوتے
ہیں، ایک تو ایسا شخص ہے کہ (خطبہ ہو رہا ہے) لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتا ہوا ایذا دیتا ہوا آ رہا
ہے، پھر بیٹھا بھی ہے تو کچھ باتیں کر رہا ہے یا اشارہ کر رہا ہے، ایسے شخص کو جمعہ سے کوئی حصہ نہیں۔
دوسرا شخص ایسا ہے کہ (خطبہ ہو رہا ہے تو وہ لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے نہیں آیا اور نہ کسی کو
ایذا دیا، مگر یہ سمجھ کر کہ یہ دعاء کی قبولیت کا وقت ہے (زبان سے) دعاء کر رہا ہے (دل میں دعا کا
خیال رہنا کافی تھا یہ زبان سے دعاء میں مشغول رہنے کی وجہ سے خطبہ برابر نہیں سن رہا ہے، اس وجہ
سے اس کو بھی جمعہ کا ثواب نہیں ملے گا۔ اب رہی دعاء تو اللہ کو اس کا اختیار ہے کہ چاہے قبول کرے یا
نہ کرے۔ تیسرا شخص وہ ہے کہ خطبہ سے پہلے حاضر ہو کر بغیر کسی کو ایذا دئے ہوئے بیٹھا ہے یا خطبہ
کے وقت آیا تو کسی کو ایذا نہیں دیا، جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گیا، اور بہت توجہ سے خطبہ سن رہا ہے تو یہ
شخص جمعہ کی غرض پوری کر رہا ہے اسی کو یہ صلہ ملے گا کہ اس جمعہ سے لے کر گزشتہ جمعہ تک کے اس
کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے، چونکہ اس کو اللہ کی رضامندی مقصود تھی اور کوئی غرض نہ تھی اس لئے
نیکیوں کے ثواب کا اللہ تعالیٰ کے پاس جو قاعدہ مقرر ہے کہ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دیتے ہیں، اس
لئے (7) دن کے سوا اور تین دن کے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1113 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.