English
Ammar (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The length of a man's prayer and the brevity of his sermon are a sign of his understanding (of religion). So, lengthen the prayer and shorten the sermon, and indeed, some eloquence is magic.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۲۷ - وَعَنْ عَمَّارٍ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ طُوْلَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2118
عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ یقیناً نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر پڑھنا انسان کی دانشمندی کی
علامت ہے (اس وجہ سے کہ خطبہ میں توجہ الی اللہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور نماز میں توجہ الی اللہ حاصل
ہو جاتی ہے، توجہ الی اللہ کی تعلیم مختصراً کافی ہے اور توجہ الی اللہ جب نماز میں حاصل ہو جاتی ہے تو نماز
میں جس قدر دیر تک رہے وہ بہتر ہے۔ اس لئے خطبہ مختصر اور نماز طویل ہونی چاہئے۔ اسی مصلحت
سے ارشاد ہو رہا ہے کہ خطبہ مختصر دیا کرو، نہ اتنا کم کہ خطبہ کا مقصود حاصل نہ ہو، نہ اتنا طویل کہ سننے
والے اکتا جائیں، بلیغ انداز سے ضرورت کے موافق خطبہ دیا کرو اور جب نماز کی نوبت آئے تو جس
قدر ہو سکے توجہ الی اللہ میں رہا کرو، تم کو معلوم ہے کہ بعض بیان جادوئی اثر رکھتے ہیں اور اگر تم مؤثر اور
مختصر خطبہ دیا کرو تو وہ کافی ہے بے اثر طویل خطبہ دینے سے، اس لئے تم کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ)
تم نماز طویل پڑھا کرو (اس لئے کہ نماز مقصود ہے اور جو چیز مقصود ہوتی ہے وہی طویل ہونی چاہئے
اور خطبہ (مؤثر) مختصر دیا کرو، اس لئے کہ بعض بیان جادوئی اثر رکھتے ہیں۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 869 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.