انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جمعہ کی نماز آفتاب کے ڈھلنے کے بعد یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد ہی پڑھا کرتے
تھے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 904 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
The Sermon (Khutbah)
(1) His statement: "The Sermon (Khutbah)" – The branches of the sermon include obligations (furood) and recommended acts (sunan). As for the obligations, there are two: the timing, which is after the sun passes its zenith (after Dhuhr) and before the prayer. Thus, if one delivers the sermon before the zenith or after the prayer, it is not valid. As for the recommended acts, there are fifteen: purification (taharah), to the extent that it is disliked for someone in a state of major impurity (junub) or minor impurity (hadath) to deliver it; standing; facing the people with his face; sitting before the two sermons. This was stated by Abu Yusuf. The sermon should begin with "Alhamdulillah" (Praise be to Allah) and praising Him as He deserves, the two testimonies (Shahadatayn), sending blessings upon the Prophet (ﷺ), admonition (maw'izah), reminders (tadhkirah), recitation of the Quran, and neglecting this is improper. Sitting between the two sermons, repeating the praise and glorification of Allah in the second sermon, increasing the supplication for Muslim men and women in the second sermon, and keeping the two sermons brief, equivalent to the length of some long chapters of the Mufassal (short chapters of the Quran). As for the preacher (khatib), among the recommended acts for him are purification, facing the people with his face, refraining from greeting (salam) from the time he leaves his house until he enters the prayer, and refraining from speaking. This was stated by Al-Allamah Al-Ayni in Sharh Al-Hidayah. It was also stated in "Al-Durr Al-Mukhtar" that it is disliked for him to speak during the sermon except for enjoining good (amr bil ma'ruf), as it is part of the sermon.
And the statement of Allah, the Exalted: "So proceed to the remembrance of Allah" (2) (62:9), and His statement: "And they left you standing" (62:9), and His statement: "And when the prayer is concluded, disperse" (62:10).
To the remembrance of Allah
(2) His statement: "To the remembrance of Allah" – meaning, to the sermon according to the majority. Abu Hanifah argued that if the preacher confines himself to saying "الحَمْدُ لله" it is sufficient. This was stated in "Al-Madarik."
Note 3
When the sun declines, etc.
(3) His statement: "When the sun declines, etc." – Al-Allamah Al-Shami said: It is decisively stated in "Al-Ashbah" from the chapter of rulings that it is not recommended to delay it (i.e., to wait for the heat to subside), and matching the time of the predecessors in every aspect is not a condition. Al-Allamah Al-Ayni said: They stated that delaying the Jumu'ah prayer is recommended due to the severe consequence of missing it and because people come early to it, so they are not harmed by the heat.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: الخطبة فروع الخطبة يشتمل على فروض وسُنَن. أما الفروض فشيئان الوقت، وهو ما بعد الزوال وقبل الصلاة، حتى لو خطب قبل الزوال، أو بعد الصلاة لا يجوز. وأما السنن فخمسة عشر : الطهارة حتى كره من الجنب والمحدث، والقيام واستقبال القوم بوجهه، والقعود قبل الخطبتين. قاله أبو يوسف والبداية بـ «الحمد لله، والثناء عليه بما هو أهله، وكلمتا الشهادة، والصلاة على النبي ، والموعظة، والتذكرة، وقراءة القرآن، وتاركها مسيء، والجلوس بين الخطبتين، وإعادة التحميد والثناء على الله تعالى في الخطبة الثانية، وزيادة الدعاء للمسلمين والمسلمات في الثانية، وتخفيف الخطبتين بقدر سُور من طوال المفصل. وأما الخطيب فمن السُّنَن فيه طهارته واستقباله بوجهه إلى القوم، وترك السلام من وقت خروجه إلى دخوله في الصلاة، وترك الكلام. قاله العلامة العيني في شرح الهداية». وقال في «الدر المختار» ويكره تكلمه فيها إلا لأمر بمعروف؛ لأنه منها.
قوله
(٢) قوله : إلى ذكر الله : أي إلى الخطبة عند الجمهور. واستدل أبو حنيفة على أن الخطيب إذا اقتصر على «الحَمْدُ الله» جاز. قاله في المدارك».
Note 3
قوله
(۳) قوله: حين تميل الشمس إلخ : قال العلامة الشامي: جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يُسَنُّ لها الإبراد وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط. وقال العلامة العيني: قالوا : ندب الإبراد في الجمعة؛ لشدة الخطر في فواتها، ولأن الناس يبكرون إليها، فلا يتأذون بالحر.
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ زوال کے بعد ہی
ادا فرمایا کرتے تھے اسی لئے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے الاشباہ کے فن احکام کے حوالے سے لکھا ہے
کہ نماز جمعہ کی ادائی کے لئے گرمی کا موسم ہو یا کوئی اور موسم ظہر کی طرح تاخیر کرنا مسنون نہیں۔ نماز
جمعہ کو ہر موسم میں زوال کے بعد ہی اوّل وقت پڑھنا چاہئے اور جمہور علماء کا بھی یہی قول ہے اور اس کی
وجہ یہ بیان کی ہے کہ نماز جمعہ بخلاف نماز ظہر کے بہت بڑی تعداد کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ اگر ظہر کی
طرح اس میں تاخیر کی جائے تو حرج کا باعث ہوگا اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے نماز جمعہ کے اوّل وقت
ادا کرنے کے مستحب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ لوگ نماز جمعہ کے لئے اہتمام کر کے جلد
آیا کرتے ہیں، اگر جمعہ کو ظہر کی طرح تاخیر سے ادا کیا جائے تو موسم گرما میں لوگوں کو زحمت اور گرمی کی
تکلیف اٹھانی پڑے گی۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زوال سے پہلے نماز جمعہ جائز نہیں، اس لئے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ زوال کے بعد نماز جمعہ ادا فرمائے ہیں۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم (نماز جمعہ کے
لئے بہت جلد جانے کا اس قدر اہتمام کرتے تھے) کہ جمعہ کی نماز کے پہلے نہ قیلولہ کرتے نہ صبح کا
کھانا کھاتے (بلکہ یہ کام نماز جمعہ کے بعد کرتے تھے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Al-Sa'ib ibn Yazid (may Allah be pleased with him) narrated: "The call (Adhan) on Friday during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, and Umar (may Allah be pleased with them) was first given when the Imam sat on the pulpit. When Uthman (may Allah be pleased with him) became the Caliph and the people increased, he added a third call at Al-Zawra'."
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں جمعہ
کے روز پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جبکہ امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا (اور دونوں خطبوں کے ختم ہونے
کے بعد نماز جمعہ کے پہلے دوسری اذان یعنی اقامت کہی جاتی تھی) لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
کے دور خلافت میں جب آبادی بڑھ گئی (اور لوگوں کی کثرت ہونے لگی اور لوگ دور دور تک
پھیل گئے تو سب کو اطلاع دینے کے لئے آپ نے جمعہ کے روز جمعہ کا وقت شروع ہونے کے
بعد) تیسری اذان کا اضافہ فرمایا جو مقام زوراء میں دی جاتی تھی (اور یہ وہی اذان ہے جو
جمعہ کا وقت شروع ہونے کے بعد ہی دی جاتی ہے جس کو اب پہلی اذان کہنا مناسب ہے، یہ
اذان اجماع صحابہ سے ثابت ہوتی ہے اور احکام، قرآن اور حدیث کی طرح اجماع سے بھی
ثابت ہوتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) used to deliver two sermons and sit between them. He would recite the Quran and remind the people. His prayer was moderate, and his sermon was moderate."
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (جمعہ اور عیدین میں) دو، دو خطبے دیا کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
عادت مبارک تھی کہ آپ دو خطبوں کے درمیان (تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار) بیٹھا کرتے تھے
(اور ان دونوں خطبوں کے درمیان حضور دعا نہیں فرماتے تھے) دونوں خطبوں میں کچھ قرآن پڑھتے
تھے اور خطبوں میں حضور لوگوں کو ایسی نصیحت فرماتے تھے (جس سے ترغیب و ترہیب ظاہر ہوتی اور
خوف اور امید پیدا ہوتی تھی) اور حضور کی نماز بھی متوسط ہوتی تھی اور خطبہ بھی متوسط ہوتا تھا۔ (نہ
زیادہ طویل نہ بہت مختصر)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Ammar (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The length of a man's prayer and the brevity of his sermon are a sign of his understanding (of religion). So, lengthen the prayer and shorten the sermon, and indeed, some eloquence is magic.'"
عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ یقیناً نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر پڑھنا انسان کی دانشمندی کی
علامت ہے (اس وجہ سے کہ خطبہ میں توجہ الی اللہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور نماز میں توجہ الی اللہ حاصل
ہو جاتی ہے، توجہ الی اللہ کی تعلیم مختصراً کافی ہے اور توجہ الی اللہ جب نماز میں حاصل ہو جاتی ہے تو نماز
میں جس قدر دیر تک رہے وہ بہتر ہے۔ اس لئے خطبہ مختصر اور نماز طویل ہونی چاہئے۔ اسی مصلحت
سے ارشاد ہو رہا ہے کہ خطبہ مختصر دیا کرو، نہ اتنا کم کہ خطبہ کا مقصود حاصل نہ ہو، نہ اتنا طویل کہ سننے
والے اکتا جائیں، بلیغ انداز سے ضرورت کے موافق خطبہ دیا کرو اور جب نماز کی نوبت آئے تو جس
قدر ہو سکے توجہ الی اللہ میں رہا کرو، تم کو معلوم ہے کہ بعض بیان جادوئی اثر رکھتے ہیں اور اگر تم مؤثر اور
مختصر خطبہ دیا کرو تو وہ کافی ہے بے اثر طویل خطبہ دینے سے، اس لئے تم کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ)
تم نماز طویل پڑھا کرو (اس لئے کہ نماز مقصود ہے اور جو چیز مقصود ہوتی ہے وہی طویل ہونی چاہئے
اور خطبہ (مؤثر) مختصر دیا کرو، اس لئے کہ بعض بیان جادوئی اثر رکھتے ہیں۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon, his eyes would turn red, his voice would rise, and his anger would intensify, as if he were warning an army. He would say: 'The morning is approaching you, and the evening is approaching you.' And he would say: 'I have been sent, and the Hour is like these two,' and he would join his index finger and middle finger."
Ya'la ibn Umayyah (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Prophet (ﷺ) reciting on the pulpit: 'And they will call, "O Malik, let your Lord put an end to us!" (Az-Zukhruf 43:77)."
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (خطبہ میں سورہ زخرف پ 25 ع 7، آیت نمبر: 77 کی) یہ آیت منبر پر
پڑھتے ہوئے سنا ہے:
(کفار نجات سے جب بالکل مایوس ہو جائیں گے تو موت کی تمنا کریں گے) اور دوزخ کے
داروغہ مالک نامی فرشتے کو پکاریں گے کہ اے مالک تم ہی دعا کرو کہ تمہارا پروردگار ہم کو موت دے کے ہمارا
کام ہی تمام کر دے۔ وہ فرشتہ جواب دے گا کہ تم ہمیشہ اسی حال میں رہو گے (نہ نکلو گے نہ مرو گے)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Umm Hisham bint Harithah ibn Al-Nu'man (may Allah be pleased with her) narrated: "I only memorized 'Qaf. By the Glorious Quran' (Qaf 50:1) from the tongue of the Messenger of Allah (ﷺ), as he would recite it every Friday on the pulpit when he addressed the people."
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں
نے سورہ ”ق والقرآن المجيد“ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر یاد کر لی۔
حضور ہر جمعہ کو منبر پر خطبہ میں سورہ ق کی تلاوت (اکثر) فرماتے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 873a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف:۔ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو خطبہ میں
سورہ ق پڑھا کرتے تھے۔ اس بارے میں اشعۃ اللمعات اور مرقات میں اس طرح مذکور ہے کہ حضور کا
سورہ ق کو ہر جمعہ میں پڑھنا اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ ام ہشام مسجد نبوی میں جمعہ کے لئے حاضر ہوا
کرتی تھیں، نہ کہ حضور عمر بھر ہمیشہ سورہ ق کو ہر جمعہ میں پڑھا کئے ہیں، دوسرے یہ کہ حضور سورہ ق کی
پوری سورت ہر جمعہ میں تلاوت نہیں فرماتے تھے بلکہ ام ہشام کے حاضر ہونے کی مدت میں مختلف
خطبوں میں سورہ ق کو تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھا کئے ہیں، اس حدیث سے بھی حضور سے خطبہ میں قرآن کی
آیتوں کا پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) used to deliver two sermons. When he ascended the pulpit, he would sit until the caller (mu'adhdhin) finished, then he would stand and deliver the sermon. Then he would sit and not speak, then he would stand again and deliver the sermon."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (جمعہ کے دن) دو خطبے پڑھا کرتے تھے (اس کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے) آپ منبر پر تشریف
فرما ہوتے تھے اس کے بعد جب مؤذن (آپ کو منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر) اذان کہنے سے فارغ
ہوتا تو آپ کھڑے ہو کر (پہلا) خطبہ پڑھتے۔ پھر خطبہ اولی سے فارغ ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور اس
وقت کچھ کلام نہیں کرتے تھے، پھر دوبارہ کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1092 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Then he would stand and deliver the sermon
(1) His statement: "Then he would stand and deliver the sermon" – This refers to the Imam delivering the sermon with a sword in a city conquered by it, such as Makkah. Otherwise, it is not done, as in Madinah. Al-Qahistani narrated from "Ayd Al-Muhit" that holding a staff is a Sunnah, just like standing. This is taken from "Al-Durr Al-Mukhtar" and "Rad Al-Muhtar".
Note 1
(۱) قوله ثم يقوم فيخطب أي يخطب الإمام بسيف في بلدة فتحت به كمكة، وإلا لا كالمدينة. ونقل القهستاني عن عيد المحيط أن أخذ العصا سُنَّة كالقيام، كذا التقطناه من الدر المختار» و«رد المحتار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا
کرتے تھے۔ اس بارے میں درمختار میں لکھا ہے کہ ایسے شہر میں جس کو مسلمانوں نے تلوار کے زور پر فتح
کیا ہو، جیسے کہ معظمہ تو وہاں امام تلوار پر ٹیک دے کر خطبہ دیا کرے اور ایسے شہر میں جہاں کے لوگ برضا
و رغبت مسلمان ہوئے ہوں جیسے مدینہ منورہ، امام وہاں تلوار پر ٹیک دے کر خطبہ نہ دے بلکہ ایسے مقام
پر عصا پر ٹیک دے کر خطبہ دیا کرے اور قہستانی نے محیط کے باب العید کے حوالہ سے اس طرح لکھا ہے
کہ جیسے امام کو کھڑے ہو کر خطبہ دینا سنت ہے اسی طرح امام کو خطبہ کے وقت عصا پر ٹیک دے کر خطبہ
دینا بھی سنت ہے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ ایک دن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے منبر پر تشریف رکھے اور ہم سامعین (کسی قدر قبلہ
کی طرف سے مڑ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رُخ کئے ہوئے بیٹھے رہے۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 921 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملتقی میں لکھا ہے ”وَاسْتَقْبَلُوْهُ مُسْتَمِعِيْنَ“ یعنی خطبہ سنتے وقت سننے والے امام کی
طرف رُخ کئے ہوئے بیٹھے رہیں اور بحر میں لکھا ہے ”ان السنة فى المستمع استقبالُ الامامِ
يخالف كما عليه عملُ الناسِ من استقبالِ المستمع للقبلة“ یعنی سنت یہ ہے کہ سامعین
خطبہ سنتے وقت امام کی طرف رُخ کئے ہوئے رہیں اور آج کل جو عمل درآمد ہے کہ سامعین قبلہ رُخ
رہتے ہیں یہ خلاف سنت ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری میں ابن المنذر کے حوالہ سے لکھا
ہے کہ خطبہ سنتے وقت سامعین کا امام کی طرف رُخ کئے رہنے پر امام اعظم، امام شافعی، امام احمد بن حنبل،
امام مالک اور امام اوزاعی وغیرہ اور دوسرے فقہاء کا بھی اجماع ہے۔ 12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Messenger of Allah (ﷺ) ascended the pulpit on Friday, he said: 'Sit down.' Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) heard this and sat at the door of the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) saw him and said: 'Come, O Abdullah ibn Mas'ud.'"
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) جمعہ کے
دن خطبہ دینے کے لئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف رکھے اور (ملاحظہ کئے
کہ کچھ لوگ کھڑے ہوئے ہیں) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے حضرات سے
فرمائے کہ بیٹھ جاؤ (اگرچہ خطبہ کے وقت خطیب کا بات کرنا جائز نہیں ہے مگر امر بالمعروف کرنا
جائز ہے، یہاں چونکہ جو صحابہ کھڑے ہوئے تھے ان کا امام کے منبر پر آ جانے کے بعد کھڑا رہنا
ناجائز تھا، اس لئے حضور امر بالمعروف کے لئے بیٹھ جاؤ ارشاد فرمائے) حضور کا یہ ارشاد جو بیٹھ
جانے کے لئے ہوا تھا، اس وقت ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے کے پاس تھے، یہ
ارشاد سنتے ہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ حکم کی تعمیل کے لئے دروازے کے پاس ہی بیٹھ گئے (مگر مسجد
میں جو لوگ کھڑے ہوئے تھے ان کے بیٹھنے کے لئے حکم ہوا تھا، دروازے کے پاس والے لوگوں کے لئے
بیٹھنے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے) عبداللہ بن مسعود کو ارشاد ہوا (یہ میرا حکم تم سے متعلق نہیں ہے) تم مسجد میں
آ جاؤ (ابن مسعود کو بلانا بھی امر بالمعروف تھا)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Amr ibn Huraith (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) delivered a sermon wearing a black turban, with its ends hanging between his shoulders on Friday.
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن سیاہ رنگ کا عمامہ سر پر باندھے خطبہ دئے اور اس عمامہ کے دونوں
کنارے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکے ہوئے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1359a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ عمامہ کے دونوں کنارے کندھوں کے درمیان
لٹکے ہوئے تھے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ عمامہ کا ایک کنارہ تو معمولاً دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا
رہتا ہے اور دوسرا کنارہ بھی عمامہ باندھنے کے بعد عمامہ میں ٹھونسنے کے بجائے عمامہ سے لے کر
نیچے اتار دیا جائے جو دونوں کندھوں کے درمیان پہلے کنارہ کے ساتھ لٹکا ہوا رہے۔
Abdullah ibn Wahb reported: "I heard Mu'awiyah ibn Salih narrating from Abu Al-Zahriyyah from Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) who said: 'I was sitting next to him on Friday when a man came stepping over people's necks. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Sit down, for you have caused harm and delayed."'" [Narrated by Al-Tahawi]
Al-Nasa'i and Abu Dawud also narrated it with a Jayyid (good) chain.
Al-Tahawi said: "Do you not see that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded this man to sit and did not command him to pray?"
عبداللہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ
بن صالح رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور وہ ابوالزاہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ابو
الزاہریہ عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن بسر مجھ سے فرمائے (کہ میں تم کو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ سناتا ہوں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے) کہ ایک شخص لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آ رہا تھا تو اس شخص سے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جائے۔ (تمہارے پھلانگ کر آنے
سے) لوگوں کو ایذا پہنچتی ہے تم بہت دیر کے آئے ہو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور
نسائی اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح بہترین سند سے اس کی روایت کی ہے اور امام طحاوی نے کہا ہے،
صاحبو! دیکھ رہے ہو کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلانگتے ہوئے آنے
والے شخص کو صرف بیٹھ جانے کا حکم فرماتے ہیں، اگر خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہوتا تو نماز
پڑھ کر بیٹھ جانے کا حکم دیتے، صرف بیٹھ جانے کا حکم دینے سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں
نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
حنفی مذہب میں خطبہ کے متعلق دو قول ہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں خطبے ہوتے وقت
صلاۃ و کلام ناجائز ہے، خطبہ شروع ہونے کے پہلے یا خطبہ ختم ہونے کے بعد کلام وغیرہ کر سکتے ہیں،
اس وجہ سے کہ خطبہ سننا فرض ہے خطبہ کی حالت میں صلاۃ و کلام ہو تو خطبہ سننے میں خلل پڑتا ہے،
بخلاف اس کے اگر خطبہ کے پہلے اور خطبہ کے بعد کلام کیا جائے تو خطبہ سننے میں کوئی خلل نہیں واقع
ہوتا۔ اس لئے خطبہ شروع کرنے سے پہلے کلام جائز ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خطیب جب اپنی جگہ سے خطبہ دینے کے لئے اٹھے
جب ہی سے صلاۃ و کلام ناجائز ہے، یہاں تک کہ خطبہ ختم کر کے نماز جمعہ شروع کرے اس لئے کہ
بعض وقت کلام طویل ہو جاتا ہے اور خطبہ سننے میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو جاتا ہے، امام زہری
کا بھی ایسا ہی قول ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرات علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی
اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ خطیب کے اپنی جگہ سے خطبہ کے لئے اٹھنے کے بعد یہ سب حضرات
صلاۃ اور کلام کو مکروہ سمجھتے ہیں ان حضرات کے قول سے بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی
ہے۔ اس تمہید کو پیش نظر رکھ کر ذیل کی حدیثوں کو پڑھئے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "Sulayk Al-Ghatafani came while the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting on the pulpit. Sulayk sat down before praying, so the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Did you pray two rak'ahs?' He said: 'No.' He said: 'Stand up and pray them.'"
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ
عنہ (جمعہ کے دن مسجد میں) ایسے وقت حاضر ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خطبہ دینے
کے لئے) منبر پر تشریف فرما تھے اور ابھی خطبہ شروع نہیں فرمائے تھے تو (ایسا ہی نسائی نے سنن کبیر میں
اس حدیث کے باب کا عنوان ”باب الصلاة قبل الخطبة“ قائم کیا ہے۔12) سلیک نماز پڑھنے
بغیر بیٹھ گئے یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمائے: کیا تم دو رکعت نماز پڑھ چکے ہو؟
انہوں نے عرض کیا: جی نہیں! تو حضور نے ارشاد فرمایا: اٹھو اور دو رکعت پڑھ لو۔ اس کی روایت نسائی
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
نے سنن کبیر میں کی ہے (اس حدیث سے صاحبین کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ خطبہ شروع کرنے
سے پہلے صلاۃ و کلام جائز ہے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلیک کو اس
وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا جبکہ ابھی آپ خطبہ شروع نہیں فرمائے تھے)۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "A man entered the mosque while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. The Prophet (ﷺ) said to him: 'Stand up and pray two rak'ahs.' He paused the sermon until the man finished his prayer." [Narrated by Al-Daraqutni]
In another narration by Al-Daraqutni from Ahmad ibn Hanbal from Mu'tamir from his father: "A man came while the Prophet (ﷺ) was delivering the sermon. He said: 'O so-and-so, have you prayed?' The man said: 'No.' He said: 'Stand up and pray.' Then he waited for him until he prayed."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں (جمعہ
کے دن) ایسے وقت داخل ہو کر بیٹھ گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے
تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ اٹھو دو رکعت پڑھ لو۔ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اس شخص کے نماز سے فارغ ہونے تک خطبہ دینے سے رکے رہے۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
اور دارقطنی کی ایک اور روایت جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے مروی ہے اور
وہ معتمر سے روایت کرتے ہیں اور معتمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا کہ
ایک شخص (جمعہ کے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آ کر
بیٹھ گیا تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ان سے فرمایا کہ کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا:
جی نہیں، اس پر حضور نے ان سے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھ لو، پھر حضور ان کے نماز سے فارغ ہونے
تک انتظار فرمائے، یعنی خطبہ دینے سے رکے رہے۔
Muhammad ibn Qays (may Allah be pleased with him) narrated that when the Prophet (ﷺ) commanded a man to pray two rak'ahs, he paused the sermon until the man finished his two rak'ahs, then he resumed his sermon.
محمد بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو دو رکعت نماز پڑھنے کے لئے حکم دیا تھا تو ان کے دو رکعت پڑھ کر
فراغت حاصل کرنے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے سے رکے رہے اور اس کے بعد
خطبہ دینے میں مشغول ہوگئے۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
ف: ان تینوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اگر خطبہ
کی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے سے رکے ہوئے نہیں
رہتے، حضور کا خطبہ دینے سے رکے رہ کر ان سے نماز پڑھوانے سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں نماز
جائز نہیں ہے۔
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "Praying while the Imam is on the pulpit is an act of disobedience." [Narrated by Al-Tahawi] The chain includes Abdullah ibn Lahi'ah, whom Ahmad considered reliable, and that is sufficient.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب امام
(خطبہ دینے کے لئے) منبر پر آ جائے تو اس وقت نماز پڑھنا گناہ ہے۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب
امام (خطبہ کے لئے) منبر پر بیٹھ جائے تو اس وقت اگر نماز پڑھی جائے بھی تو نہیں ہوتی۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ف: ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد نماز جائز نہیں، اس
سے ثابت ہوا کہ عین خطبہ ہوتے وقت نماز بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہے اس لئے کہ نماز پڑھنے سے خطبہ
سننے میں خلل واقع ہوتا ہے اور اسی لئے خطبہ ہوتے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "When a man enters the mosque on Friday and the Imam is delivering the sermon, he should sit and not engage in any form of prayer (i.e., not offer voluntary prayers)." [Narrated by Al-Tahawi with a Sahih chain of narration]
It has been narrated in these reports that the Imam's appearance interrupts prayer, and when Abdullah ibn Safwan came while Abdullah ibn Zubair (may Allah be pleased with him) was delivering the sermon, he sat down without performing any voluntary prayer. Abdullah ibn Zubair (may Allah be pleased with him) and none of the companions of the Messenger of Allah ﷺ or their followers objected to it. Moreover, it was the practice of Shuraih (may Allah have mercy on him).
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: "When the prayer call is given, do not run to it, but walk calmly and with dignity. Pray what you can catch, and make up what you missed." 1
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کی اقامت ہو جائے تو تم میں سے کوئی (نماز میں شریک
ہونے کے لئے) دوڑتے ہوئے نہ آئے بلکہ سکون و اطمینان کے ساتھ آئے، اب نماز کا جتنا حصہ تم
کو امام کے ساتھ مل جائے اس کو امام کے ساتھ پڑھ لو اور جتنا حصہ تم کو امام کے ساتھ نہ ملے اس کی
قضاء کرلو (مثلاً جمعہ کی نماز میں کسی کو دوسری رکعت کا سجدہ یا تشہد ملا تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ مجھے جمعہ
مل گیا، جو نماز ملی ہے اس کو تو امام کے ساتھ پڑھ لے اور جو حصہ چھوٹ گیا ہے یعنی جمعہ کی دونوں
رکعتیں جو امام کے ساتھ اس کو نہیں ملی ہیں ان کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر ادا کرلے)۔
(اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 602a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Make up what you missed
(1) The statement: "Make up what you missed" and its explanation in Sharah al-Minya: "Whoever catches the Imam in the prayer, he prays with him what he has caught, and completes the Friday prayer with him, even if he catches it while the Imam is in the tashahhud (testification) or in the prostration of forgetfulness (Sujood as-Sahw)." Muhammad said: "If one catches the Imam during the second bowing (ruku'), he continues the Friday prayer with him, but if he catches it later, he prays the Zuhr prayer instead of the Friday prayer." The author of Al-Hidaya said: "The wording of the Hadith has been narrated by the six major Hadith collections in their books from Abu Salama from Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who reported that the Messenger of Allah ﷺ said: 'When the prayer is established, do not rush to it, but walk calmly and with dignity. Pray what you catch, and make up for what you missed.' And in one narration: 'Complete what you missed.'"
Ibn al-Humam said: "What was narrated: 'Whoever catches a rak'ah of the Friday prayer adds another rak'ah to it, otherwise he prays four rak'ahs,' is not established." As for the wording in Al-Mishkat, if it is considered authentic, there is no indication that this proves the permissibility of the difference in opinion. The meaning of 'If you miss the two rak'ahs, then pray four' means that if one did not catch any of the two rak'ahs, he should pray the Zuhr prayer, meaning there is no makeup for the Friday prayer. This is summarized from Al-Marqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: واقض ما سبقك وفي شرح المنية»: من أدرك الإمام فيها صلى معه ما أدرك، وبنى عليه الجمعة وإن أدركه في التشهد أو سجود السهو. وقال محمد: إن أدرك معه ركوع الثانية بنى عليها الجمعة، وإن أدركها فيما بعد ذلك بنى عليها الظهر. قال صاحب الهداية»: لهما إطلاق قوله أخرجه الستة في كتبهم عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ : إذا أقيمت الصلاة فلا تأتوها وأنتم تسعون والتوها تمشون، وعليكم السكينة. فما أدركتم فَصَلُّوا، وما فاتكم فأتموا ، وفي رواية: فاقضوا». وقال ابن الهمام: وما رواه: من أدرك ركعة من الجمعة أضاف إليها ركعة أخرى، وإلا صلى أربعا، لم يثبت. وأما لفظ المشكاة على تقدير ثبوته فلا دلالة له على صحة المخالفة؛ لأن معنى من فاتته الركعتان فليصل أربعا أي من لم يدرك شيئا منهما فليصل الظهر، أي لا قضاء الجمعة، ملخص من «المرقاة».
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) also reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Come to the prayer with calmness, pray what you catch, and make up for what you missed." [Narrated by Abu Dawood]
In another narration, it was said: "Make up for what you missed." Ahmad narrated from him: "What you missed, make up for it." This was also narrated by Ibn Abi Shaiba with a Sahih chain of narration from Abu Dhar, and Al-Bayhaqi narrated it with a chain that is acceptable.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نماز کو (معمولی رفتار سے) اطمینان کے ساتھ آیا کرو، جو کچھ نماز
تمہیں مل جائے (جماعت کے ساتھ) پڑھ لو اور جو باقی رہ جائے اس کو بعد میں پورا کرلو۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
24/2136-2137۔ اور ابوداؤد کی ایک اور روایت اور امام احمد کی روایت بھی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ہے۔
اور ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے بھی اس کی روایت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet ﷺ would ascend the pulpit, we would face him with our faces. [Narrated by Al-Tirmidhi]
In Al-Mabsut, it is stated: It is recommended for the congregation to face the Imam when he is delivering the sermon. Abu Hanifa (may Allah have mercy on him) used to turn his face toward the Imam after the muezzin finished the adhan.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خطبہ دینے کے لئے جب) منبر پر تشریف رکھتے تو ہم (سامعین کسی
قدر قبلہ کی طرف سے مڑ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رخ کئے ہوئے بیٹھتے۔
اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو دیکھا گیا کہ جب موذن اذان سے فارغ ہو جاتا تو
آپ امام کی طرف اپنا رخ کئے ہوئے خطبہ سنتے تھے۔
Ali ibn Thabit (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) gave a sermon, his companions would face him with their faces. Ibn Battal mentioned this in the explanation of Al-Bukhari. However, the practice now is for people to face the Qiblah to avoid difficulty in straightening the rows due to the large number of people. This is mentioned in the explanation of Al-Hidaya by Al-Surugi. Al-‘Ayni said that Ibn Al-Mundhir said this practice (facing the Imam) is like an ijma’ (consensus).
علی بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خطبہ دیا کرتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (کسی قدر قبلہ کی طرف سے مڑ کر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رخ کئے ہوئے بیٹھتے تھے۔ابن بطال نے اس کو شرح بخاری
میں ذکر کیا ہے۔
'Umara ibn Ruwaybah (may Allah be pleased with him) narrated that he saw Bishr ibn Marwan on the pulpit raising his hands, and he said: "May Allah curse these two hands! I saw the Messenger of Allah ﷺ never raising his hands except in this manner," and he pointed with his finger.
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے بشیر بن
مروان کو دیکھا کہ (خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو خطبہ کی تفہیم کرتے وقت) دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر
(اشارہ کر کے خطبہ کی تفہیم کر رہا تھا جیسا کہ اکثر واعظوں کا طریقہ ہے کہ تقریر کے وقت ہاتھوں سے
اشارے کیا کرتے ہیں، چونکہ بشیر کی یہ حرکت سنت کے خلاف تھی اس لئے عمارہ رضی اللہ عنہ کو ناگوار
گزری) انہوں نے بددعا دی کہ ان ہاتھوں کا خدا برا کرے (کہ خلاف سنت ان ہاتھوں سے اشارہ
ہو رہا ہے) پھر کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے کہنے لگے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (خطبہ کے وقت تفہیم کے لئے) بس اس طرح کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا کرتے تھے (اس لئے
خطبہ کے وقت تفہیم کے لئے صرف کلمہ کی انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے)۔
(اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
(1) His statement: "The Sermon (Khutbah)" – The branches of the sermon include obligations (furood) and recommended acts (sunan). As for the obligations, there are two: the timing, which is after the sun passes its zenith (after Dhuhr) and before the prayer. Thus, if one delivers the sermon before the zenith or after the prayer, it is not valid. As for the recommended acts, there are fifteen: purification (taharah), to the extent that it is disliked for someone in a state of major impurity (junub) or minor impurity (hadath) to deliver it; standing; facing the people with his face; sitting before the two sermons. This was stated by Abu Yusuf. The sermon should begin with "Alhamdulillah" (Praise be to Allah) and praising Him as He deserves, the two testimonies (Shahadatayn), sending blessings upon the Prophet (ﷺ), admonition (maw'izah), reminders (tadhkirah), recitation of the Quran, and neglecting this is improper. Sitting between the two sermons, repeating the praise and glorification of Allah in the second sermon, increasing the supplication for Muslim men and women in the second sermon, and keeping the two sermons brief, equivalent to the length of some long chapters of the Mufassal (short chapters of the Quran). As for the preacher (khatib), among the recommended acts for him are purification, facing the people with his face, refraining from greeting (salam) from the time he leaves his house until he enters the prayer, and refraining from speaking. This was stated by Al-Allamah Al-Ayni in Sharh Al-Hidayah. It was also stated in "Al-Durr Al-Mukhtar" that it is disliked for him to speak during the sermon except for enjoining good (amr bil ma'ruf), as it is part of the sermon. And the statement of Allah, the Exalted: "So proceed to the remembrance of Allah" (2) (62:9), and His statement: "And they left you standing" (62:9), and His statement: "And when the prayer is concluded, disperse" (62:10).
(2) His statement: "To the remembrance of Allah" – meaning, to the sermon according to the majority. Abu Hanifah argued that if the preacher confines himself to saying "الحَمْدُ لله" it is sufficient. This was stated in "Al-Madarik."
Note 3
(3) His statement: "When the sun declines, etc." – Al-Allamah Al-Shami said: It is decisively stated in "Al-Ashbah" from the chapter of rulings that it is not recommended to delay it (i.e., to wait for the heat to subside), and matching the time of the predecessors in every aspect is not a condition. Al-Allamah Al-Ayni said: They stated that delaying the Jumu'ah prayer is recommended due to the severe consequence of missing it and because people come early to it, so they are not harmed by the heat.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: الخطبة فروع الخطبة يشتمل على فروض وسُنَن. أما الفروض فشيئان الوقت، وهو ما بعد الزوال وقبل الصلاة، حتى لو خطب قبل الزوال، أو بعد الصلاة لا يجوز. وأما السنن فخمسة عشر : الطهارة حتى كره من الجنب والمحدث، والقيام واستقبال القوم بوجهه، والقعود قبل الخطبتين. قاله أبو يوسف والبداية بـ «الحمد لله، والثناء عليه بما هو أهله، وكلمتا الشهادة، والصلاة على النبي ، والموعظة، والتذكرة، وقراءة القرآن، وتاركها مسيء، والجلوس بين الخطبتين، وإعادة التحميد والثناء على الله تعالى في الخطبة الثانية، وزيادة الدعاء للمسلمين والمسلمات في الثانية، وتخفيف الخطبتين بقدر سُور من طوال المفصل. وأما الخطيب فمن السُّنَن فيه طهارته واستقباله بوجهه إلى القوم، وترك السلام من وقت خروجه إلى دخوله في الصلاة، وترك الكلام. قاله العلامة العيني في شرح الهداية». وقال في «الدر المختار» ويكره تكلمه فيها إلا لأمر بمعروف؛ لأنه منها.
(٢) قوله : إلى ذكر الله : أي إلى الخطبة عند الجمهور. واستدل أبو حنيفة على أن الخطيب إذا اقتصر على «الحَمْدُ الله» جاز. قاله في المدارك».
Note 3
(۳) قوله: حين تميل الشمس إلخ : قال العلامة الشامي: جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يُسَنُّ لها الإبراد وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط. وقال العلامة العيني: قالوا : ندب الإبراد في الجمعة؛ لشدة الخطر في فواتها، ولأن الناس يبكرون إليها، فلا يتأذون بالحر.
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ زوال کے بعد ہی ادا فرمایا کرتے تھے اسی لئے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے الاشباہ کے فن احکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ نماز جمعہ کی ادائی کے لئے گرمی کا موسم ہو یا کوئی اور موسم ظہر کی طرح تاخیر کرنا مسنون نہیں۔ نماز جمعہ کو ہر موسم میں زوال کے بعد ہی اوّل وقت پڑھنا چاہئے اور جمہور علماء کا بھی یہی قول ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نماز جمعہ بخلاف نماز ظہر کے بہت بڑی تعداد کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ اگر ظہر کی طرح اس میں تاخیر کی جائے تو حرج کا باعث ہوگا اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے نماز جمعہ کے اوّل وقت ادا کرنے کے مستحب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ لوگ نماز جمعہ کے لئے اہتمام کر کے جلد آیا کرتے ہیں، اگر جمعہ کو ظہر کی طرح تاخیر سے ادا کیا جائے تو موسم گرما میں لوگوں کو زحمت اور گرمی کی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زوال سے پہلے نماز جمعہ جائز نہیں، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ زوال کے بعد نماز جمعہ ادا فرمائے ہیں۔