Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1859

Chapter on The Prayer of the Two Eids

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Prayer of the Two Eids

Zujajat al-Masabih 1859Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "Abu Bakr (may Allah be pleased with him) entered upon me while two young girls were with me during the days of Mina, beating the duff 2 and singing." In another narration: "They were singing the verses that the Ansar recited on the day of Buʿath, while the Prophet (ﷺ) was covered with his garment. Abu Bakr (may Allah be pleased with him) rebuked them, and the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said: 'Leave them, O Abu Bakr, for these are the days of Eid.'" In another narration: "O Abu Bakr, every people have a festival, and this is our festival." [Agreed upon] In another narration by Bukhari: "And they were not professional singers."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٩ - وَعَنْهَا (رضي الله عنه) قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ (رضي الله عنه) دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنِّى، تَدُفَّانِ وَتَضْرِبَانِ. وَفِي رِوَايَةٍ: تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارِ يَوْمَ بُعَاثَ، وَالنَّبِيُّ ﷺ مُتَغَشَّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: «دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ؛ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيْدٍ». وَفِي رِوَايَةٍ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيْدُنَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيَّ: «وَلَيْسَنَا بِمُغَنّيَتَيْنِ». وَقَالَتِ الْحَنَفِيَّةُ: إِنَّ الدُّفَّ أَيْضًا حَرَامُ، وَهُوْ ظَاهِرُ الرَّوَايَةِ، وَمَا وَرَدَ مِنْ ضَرْبِ الدُّفَّ فَهُوَ مَنْسُوْخُ وَتَمَامُ تَحْقِيقِهِ فِي بَابِ إِعْلَانِ النِّكَاحِ، فَرَاجِعْهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2158Noor 2159Noor 2160Noor 2161
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ عید الاضحی کے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے۔ میرے پاس دو لڑکیاں دف بجاتے ہوئے وہ اشعار گا رہی تھیں جو جنگ بعاث کے متعلق انصار نے کہے تھے۔ اور بخاری کی ایک روایت ہے کہ یہ لڑکیاں گانے کا پیشہ رکھنے والیاں نہ تھیں اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چہرہ انور پر کپڑا ڈھانکے ہوئے تھے، حضرت ابوبکر نے ان لڑکیوں کو جھڑک دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر نے یہ بھی فرمایا کہ شیطان کا گانا بجانا رسول اللہ کے گھر میں ہونا تعجب کی بات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھا کر فرمایا: ابوبکر! ان کو اپنی حالت پر چھوڑ دو (یہ چھوٹی لڑکیاں ہیں) اور عید کا زمانہ ہے، یہ اس طرح خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 952 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 987 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 892a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

(2) The Hanafis stated that the duff is also prohibited, which is the apparent narration. Whatever has been reported regarding beating the duff is abrogated. Its complete explanation is found in the chapter on announcing Nikah, so refer to it.

Note 1

ف: اس حدیث میں جَارِيَةٌ کا لفظ ہے، ”جاریہ“ کہتے ہیں چھوٹی لڑکی کو۔ اسی لئے مرقات میں ”جَارِيَتَانِ“ کے ساتھ ”صَغِيرَتَانِ“، یعنی دو چھوٹی لڑکیاں مذکور ہے کہ وہ دف بجا کر عید کی خوشی کا اظہار کر رہی تھیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان لڑکیوں کو منع کر رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر صدیق کو ان لڑکیوں کے دف بجانے سے منع کرنے سے روک دئے، اس لئے کہ چھوٹی لڑکیاں بلوغ کے پہلے جو کچھ کریں ان کا قول و فعل قابل استدلال نہیں ہوتا۔ اب رہا دف بجانا تو یہ اس زمانہ کی بات ہے جبکہ دف کا بجانا منسوخ نہیں ہوا تھا اس کے بعد دف بجانا منسوخ ہو گیا۔ جس حدیث سے منسوخ ہوا ہے اس کو خطیب اس طرح روایت کئے ہیں ”عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الدُّفِّ وَلَعِبِ الصَّنْجِ وَضَرْبِ الزَّمَّارَةِ“ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے مزامیر کی طرح دف بجانے سے بھی منع فرمائے ہیں۔ اسی واسطے حضرت شہاب الدین سہروردی رضی اللہ عنہ نے حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دف بجانا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے۔ اور علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں دف بجانے کی اجازت تھی، بعد میں اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا۔ اس لئے ظاہر الروایہ میں ہے کہ حنفی مذہب میں مثل مزامیر کے دف بجانا بھی حرام ہے۔ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ ”استماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام“ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ مزامیر اور دف بجا کر سننا بھی حرام ہے۔