Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 46

Chapter on The Prayer of the Two Eids

Section: (2)

33 narrations · In source reading order

Hadith 1851

Volume 1

English

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha. 4 The first thing he would begin with was the prayer. After finishing the prayer, he would stand facing the people while they remained seated in their rows. He would admonish them, advise them, and give them commands. If he intended to send out an army, he would do so, or if he wanted to order something, he would order it. Then he would leave." [Agreed upon] Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) was asked, "Did you attend the Eid prayer with the Messenger of Allah (ﷺ)?" He replied, "Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) went out, prayed, and then delivered a sermon. He did not mention any adhan or iqamah. Then he went to the women, admonished them, reminded them, and commanded them to give charity. I saw them reaching for their ears and throats, giving their jewelry to Bilal. Then he and Bilal returned to his house."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥١ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه)، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَخْرُجُ4 يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ يَنْصَرِفُ فَيَقُوْمُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوْصِيْهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُر بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ اللهِ الْعِيدَ؟ قَالَ: نَعَمْ، خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِيْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوْقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى بِلَالٍ، ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2149Noor 2150
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن عیدگاہ کو جایا کرتے تھے (اس لئے عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھنا سنت مؤکدہ ہے مسجدوں میں جو عید کی نماز پڑھی جاتی ہے نماز تو ہو جاتی ہے مگر مسجدوں میں بلا عذر عید کی نماز پڑھنے والا تارک سنت مؤکدہ ہے (ایسا ہی عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے۔12) اور عیدگاہ پہنچنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا عمل یہ ہوتا کہ آپ نماز عید ادا فرماتے (نماز عید سے پہلے عیدگاہ میں کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ نماز عید سے پہلے خطبہ ارشاد فرماتے بلکہ پہلے نماز عید سے فارغ ہو کر خطبہ دینے کے لئے) لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے رہتے اور لوگ اپنی اپنی صفوں میں خطبہ سننے کے لئے حضور کی طرف رخ کئے بیٹھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو (خطبہ میں) وعظ و نصیحت فرماتے اور جس کام کی نصیحت کرنی (اس وقت کے لحاظ سے) مناسب ہوتی، اس کی نصیحت فرماتے اور احکام صادر فرماتے تھے اور کہیں لشکر بھیجنا ہوتا تو (ضرورت کے موافق) لشکر کا ایک حصہ علیحدہ فرماتے یا کسی چیز کے متعلق حکم دینے کا ارادہ ہوتا تو اس وقت اس کا حکم دیتے، اس کے بعد (عیدگاہ سے) گھر واپس ہو جاتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عید پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا: ہاں (میں نماز عید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھا ہوں) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا) حضور گھر سے نکل کر عیدگاہ تشریف لائے پہلے عید کی نماز پڑھائے، پھر نماز کے بعد (دو) خطبے ارشاد فرمائے۔ حضرت ابن عباس اذان اور اقامت کا کچھ ذکر نہیں کئے (اسی لئے نماز عید کے لئے اذان اور اقامت ثابت نہیں ہے) عورتیں دور بیٹھی ہوئی تھیں اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کو خیال ہوا کہ خطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچی ہے، اسی لئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر) عورتوں کی صفوں تک تشریف لے گئے، عورتوں کو وعظ و نصیحت فرمائے اور جو عورتوں کے خاص احکام ہیں ان کو بھی ان کے سامنے بیان فرمائے اور خیرات کرنے کی ترغیب دئے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے کانوں کی بالیاں اور گلوں کے ہار اتار اتار کر حضرت بلال کو دے رہی تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت بلال عیدگاہ سے گھر واپس ہوئے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "And proclaim the greatness of Allah (2) for having guided you." (Qur’an 2:185)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 956 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 889a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Chapter-heading commentary

And proclaim the greatness of Allah...

(2) The statement: "And proclaim the greatness of Allah..." refers to the Eid prayer, and the command indicates obligation. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.

So pray to your Lord and sacrifice.

(3) The statement: "So pray to your Lord and sacrifice." refers to the Eid al-Adha prayer, and it is obligatory due to the command. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.

Note 4

He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha.

(4) The statement: "He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha." The prayer ground (Musalla) is a place in the desert where the Eid prayers are performed, and it is also called al-Jabanah. Going out from one’s house to the prayer is obligatory based on the principle that what completes an obligation is itself obligatory. However, going to the prayer ground is a strongly recommended Sunnah, even if the mosque is spacious enough. If they pray in the city mosques without a valid excuse, their prayer is valid, but they have abandoned the Sunnah. This is the correct view, as mentioned in Al-Zahiriyyah. This is stated in ‘Umdat al-Ri’ayah.

Chapter-heading commentary

قوله

(٢) قوله: ولتكبروا الله إلخ : المراد به صلاة العيد، والأمر للوجوب. كذا في «عمدة القاري».

قوله

(۳) قوله: فصل لربك وانحر: والمراد به صلاة عيد النحر، فتجب بالأمر. قاله في عمدة القاري».

Note 4

قوله

(٤) قوله: يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى: بصيغة المجهول هو موضع في الصحراء يصلى فيه صلاة العيدين، ويقال له : الجبانة. ومطلق الخروج من بيته إلى الصلاة وإن كان واجبا بناءً على أن ما يتم به الواجب واجب لكن الخروج إلى الجبانة سنة مؤكدة، وإن وسعهم المسجد الجامع. فإن صلوا في مساجد المصر من غير عذر جازت صلاتهم، وتركوا السنة، هذا هو الصحيح، كما في الظهيرية». قاله في «عمدة الرعاية».

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عورتیں اپنے زیورات بغیر شوہر کی اجازت کے خیرات کر رہی تھے۔ اس مسئلہ کے متعلق تحقیق یہ ہے، دیکھنا چاہئے کہ عورت اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے یا شوہر کے مال میں سے؟ اگر اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہے کہ عورتیں اپنا مال خیرات کئے ہیں تو عورتوں کو شوہروں کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس حدیث شریف میں بغیر شوہروں کی اجازت کے عورتیں اپنا مال خیرات کر رہے ہیں ہاں اگر عورتیں راشدہ نہیں ہیں بے سمجھ ہیں، مال کی ان کے پاس قدر نہیں ہے تو ایسی عورتوں کو اپنا مال بھی خیرات کرنے کے لئے شوہروں کی اجازت کی ضرورت ہے اور اگر شوہر کا مال ہے اور رواج کے موافق کچھ تھوڑی چیز مثلاً روٹی اور پیسہ دو پیسہ خیرات کر رہی ہے تو اس کے لئے بھی شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں، ایسا ہی اگر شوہر عورت کے ہم خیال ہے عورت کے کسی کام سے ناراض نہیں ہوتا ہے تو ایسی عورت بھی شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے مال کو خیرات کر سکتی ہے، شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، اگر شوہر ایسا ہے کہ وہ اپنے مال کی خیرات کرنے سے ناراض ہوتا ہے تو ایسی عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر خیرات کرنا جائز نہیں ہے (مرقات، ملتقی، درمختار) ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عیدگاہ میں عورتیں خیرات دئے ہیں، حالانکہ مسجد میں خیرات دینا جائز نہیں ہے مکروہ ہے۔ پھر عیدگاہ میں یہ خیرات دینا کیسے جائز ہوا؟! اس کا جواب یہ ہے کہ عیدگاہ مثل مسجد کے ہے، صرف جماعت کا ثواب حاصل ہونے کے لحاظ سے باقی دوسرے احکام میں عیدگاہ مثل مسجد کے نہیں ہے، اس لئے عیدگاہ میں خیرات دینا جائز ہے۔ (دیکھو ردالمحتار جلد اول باب اعادہ الصلوٰۃ و ما یکرہ فیہا کا آخری حصہ اور مرقاۃ۔)

Hadith 1852

Volume 1

English

Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: "I prayed the two Eids with the Messenger of Allah (ﷺ) more than once or twice, without any adhan or iqamah."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٢ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2151
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ بارہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھی ہے (اس سے ثابت ہوا کہ عیدین کی نماز میں اذان و اقامت نہیں ہے)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 887 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1853

Volume 1

English

Ibn Jurayj reported: "Ata’ informed me from Ibn Abbas and Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them), who said: 'There was no adhan on the day of Eid al-Fitr or Eid al-Adha.' Later, I asked Ata’ about it, and he informed me, saying: 'Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) told me that there is no adhan for the prayer on the day of Eid al-Fitr when the Imam comes out, nor after he comes out. There is no iqamah, no call, and nothing. There is no call or iqamah on that day.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٣ - وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنهما) قَالَا : لَمْ يَكُنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى، ثُمَّ سَأَلْتُهُ يَعْنِي عَطَاءٌ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِيْنَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بَعْدَ مَا يَخْرُجُ ، وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2152
عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے میں نے سنا ہے، یہ دونوں حضرات نے فرمایا ہے کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نمازوں کے لئے اذان نہیں دیا کرتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ ایک مدت کے بعد میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے اس بارے میں سوال کیا تو حضرت جابر نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ عیدالفطر کے دن (اور اسی طرح عیدالاضحی کے دن) نماز عید کے لئے کوئی اذان نہیں ہے، نہ امام کے نکلنے کے وقت اذان ہے اور نہ نکلنے کے بعد اذان ہے اور نہ نماز عید کے لئے اقامت ہے اور نہ کسی طرح کی نداء ہے اور نہ کوئی اعلان ہوا کرتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں (نماز عید کے لئے) نہ اذان دی جاتی تھی اور نہ اقامت۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 886a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1854

Volume 1

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, and Umar (may Allah be pleased with them) used to pray the two Eids before the sermon."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٤ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ يُصَلُّوْنَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2153
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسی طرح حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پہلے عیدالفطر کی نماز اور عیدالاضحی کی نماز ادا فرماتے اور نماز کے بعد عید کے خطبے دیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 963 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 887 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1855

Volume 1

English

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would go out on the day of Eid al-Adha and Eid al-Fitr and begin with the prayer. After finishing the prayer, he would stand and face the people while they were seated in their prayer rows. If he needed to send out an army, he would mention it to the people, or if he had any other need, he would order them accordingly. He would say, 'Give charity, give charity, give charity,' and most of those who gave charity were women. Then he would leave. This continued until the time of Marwan ibn al-Hakam. I went out holding Marwan’s hand until we reached the prayer ground. Kathir ibn al-Salt had built a pulpit of clay and bricks. Marwan tried to pull me toward the pulpit, while I pulled him toward the prayer. When I saw what he was doing, I said, 'Where is the beginning with the prayer?' He said, 'No, Abu Sa’id, what you know has been abandoned.' I said, 'No, by the One in whose hand is my soul, you will not bring anything better than what I know,' three times. Then he left."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٥ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ، فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ، فَإِن كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةً بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا، وَكَانَ يَقُوْلُ: «تَصَدَّقُوْا تَصَدَّقُوْا تَصَدَّقُوا»، وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلَتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا ، يَا أَبَا سَعِيدٍ، قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ. قُلْتُ: كَلَّا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَأْتُوْنَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2154
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ کو) جایا کرتے تھے، سب سے پہلے نماز عید پڑھتے اور جب نماز عید سے فارغ ہوجاتے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے (خطبہ دینے کے لئے) کھڑے ہو جاتے اور لوگ اس وقت اپنی اپنی جائے نماز پر (خطبہ سننے کے لئے) بیٹھے رہتے تھے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں فوج روانہ کرنے کی حاجت ہوتی تو اس کا تذکرہ حضورؐ صحابہ سے فرما دیتے یا کوئی اور ضرورت ہوتی تو اس کا حکم دیتے اور فرماتے: خیرات کرو، خیرات کرو، خیرات کرو۔ اور خیرات کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی تھی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ سے) واپس ہوتے تھے۔ مروان بن الحکم کے زمانہ تک یہی عمل رہا (کہ نماز عید پہلے ہوتی تھی اور خطبہ بعد میں دیا جاتا تھا اور خطبہ زمین پر کھڑے ہو کر بعد نماز ہوتا تھا اور عیدگاہ میں منبر نہیں بنایا گیا تھا) ابو سعید فرماتے ہیں کہ مروان کے دور حکومت میں مروان کے ساتھ (نہایت اتحاد ظاہر کرنے کے لئے) میں اور مروان ایک دوسرے کے کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے عیدگاہ پہنچے، وہاں پہنچنے کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ (ایک بات تو خلاف سنت یہ ہوئی ہے کہ) کثیر بن ا لصلت نے عیدگاہ میں مٹی اور خام اینٹوں کا ایک منبر بنا رکھا ہے (خلاف سنت یہ دیکھ کر میں بہت ناراض ہوا۔ پھر دیکھا کہ نماز سے پہلے خطبہ دینے کے لئے مروان منبر کی طرف جا رہا تھا۔ اس کا یہ فعل مجھے بہت ناگوار گزرا) میں اس کو کھینچ کر نماز پڑھانے کے لئے لا رہا تھا اور وہ میرا ہاتھ چھڑا کر منبر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ (مروان کی اس کشمکش کو میں دیکھا تو) میں نے مروان سے کہا کہ عید کی نماز پہلے پڑھنا اور خطبہ بعد میں دینا (جو سنت ہے) وہ عمل کہاں گیا۔ مروان نے جواب دیا: نہیں۔ ابو سعید آپ جس بات کو سنت سمجھ رہے ہیں وہ اب متروک ہو گئی ہے، میں نے کہا: ہرگز نہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے (میرے معلومات کے حد تک تم یہ خیر کا کام نہیں کر رہے ہو) جو مسنون طریقہ مجھے معلوم ہے اس سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ تم نہیں پیش کر سکتے (آخر یہ سنت کو اٹھانے والی کونسی چیز ہے، تمہارے نفسانی خواہشات سے سنت متروک نہیں ہو سکتی) میں اس جملہ کو (3) بار دہرایا (اور دیکھا کہ وہ اپنی ہٹ سے باز نہیں آ رہا ہے تو ہمارا جو اتحاد تھا وہ سب ختم ہو گیا۔ امر بالمعروف جو میرے ذمہ تھا وہ پورا کر کے) میں اپنی جائے نماز پر آ کر بیٹھ گیا (اس کے سوا میں اور کیا کر سکتا تھا۔ مروان کا یہ فعل مجھے بہت ناگوار گزر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اس طرح مٹتے ہوئے مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا تھا)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 889a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1856

Volume 1

English

Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) would not perform any prayer before the Eid [prayer], but when he returned to his home, he would perform two rakʿahs.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٦ - وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2155
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عید کے دن) عید کی نماز سے پہلے (کوئی نفل) نماز نہ (گھر میں) پڑھا کرتے تھے (اور نہ عیدگاہ میں اور اسی طرح نماز عید کے بعد بھی عیدگاہ میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھا کرتے تھے) اور جب نماز عید سے فارغ ہو کر گھر واپس تشریف لاتے تو گھر میں دو رکعت نفل نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1293 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(درمختار اور رد المحتار میں بھی ایسی ہی تفصیل مذکور ہے)۔ اسلام میں نہ کلب تھا نہ جمع ہونے کے لئے کوئی مقام۔ لے دے کر صرف مسجد ہی تھی۔ جس میں ابتداء اسلام میں مرد اور عورتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث مروی ہے جو ذیل میں اس حدیث کے بعد آ رہی ہے۔ اس حدیث میں عورتوں کو مسجد میں آنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ عورتوں اور مردوں کا ایک جگہ جمع ہونا مصلحت کے خلاف تھا اس لئے عورتوں کو مسجدوں سے اور عیدگاہ سے روک دیا گیا۔ جس پر آج تک عمل درآمد ہے۔ اس لئے اس حدیث کا جو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اسی طرح ترجمہ کیا جاتا ہے:

Hadith 1857

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "O people, prevent your women 1 from wearing adornments and walking with pride in the mosques. The children of Israel were not cursed until their women wore adornments and walked with pride in the mosques."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٧ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَيُّهَا النَّاسُ، انْهَوْا نِسَاءَكُمْ1 عَنْ لُبْسِ الزِّيْنَةِ وَالتَّبَخْتُرِ فِي الْمَسَاجِدِ؛ فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمْ يُلْعَنُوا حَتَّى لَبِسَ نِسَاؤُهُمُ الزِّيْنَةَ وَالتَّبَخْتُرَ فِي الْمَسَاجِدِ. رَوَاهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ بِسَنَدِهِ فِي التَّمْهِيدِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2156
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: لوگو تم اپنی عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر ناز و انداز کے ساتھ گھروں سے باہر نکلنے سے منع کرو (وَقَرْنَ فِىْ بُيُوْتِكُنَّ، امہات المؤمنین حضرت کی بیبیوں کو حکم ہو رہا ہے کہ گھروں ہی میں ٹھہرو باہر مت نکلو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیبیوں کو یہ حکم ہو رہا ہے تو پھر مسلمان عورتیں کس گنتی میں۔ ان کو تو ضرور گھروں میں رہنا چاہئے، اس لئے مسلمان عورتوں کو چاہئے کہ گھروں ہی میں رہا کریں، اگر کسی ضرورت سے باہر نکلیں تو میلے کچیلے کپڑے پہن کر برقع اوڑھ کر نکلیں) دیکھو بنی اسرائیل کی عورتیں زیب و زینت کا لباس پہن کر ناز و انداز سے باہر نکلا کرتی تھیں تو ان پر لعنت اتاری گئی، اسی طرح مسلمان عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر ناز و انداز کے ساتھ نکلنے سے روکو تا کہ وہ بھی لعنت کے مستحق نہ ہو جائیں۔ (اس کی روایت ابن عبدالبر نے تمہید میں اپنی سند سے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 1

prevent your women...

(1) The statement: "prevent your women..." It is narrated from Ibn al-Mubarak that he said: "I dislike women going out for the two Eids nowadays. However, if a woman insists on going out, her husband should permit her to go out in her ordinary clothes without adornment. If she refuses to go out in such a manner, the husband has the right to prevent her from leaving." It is also narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that she said: "If the Messenger of Allah (ﷺ) had seen what the women have introduced, he would have prevented them from the mosque, just as the women of the Children of Israel were prevented." Furthermore, it is narrated from Sufyan al-Thawri that he disliked women going out for Eid. This was mentioned by al-Tirmidhi. In Mirqat, it is stated: "Abu Hanifa said: ‘Women should remain at home and not go out.’" Al-Tahawi explained that this ruling applied at the beginning of Islam when the number of Muslims was small, and their presence was required to instill fear in the enemy. His intention was that when the reason ceases, the ruling also ceases, similar to how those whose hearts were to be reconciled were removed from the category of zakat recipients. His intent was not that this ruling was abrogated.

Note 1

قوله

(۱) قوله: انهوا نسائكم وروي عن ابن المبارك أنه قال: أكره اليوم الخروج للنساء في العيدين، فإن أبت المرأة إلا أن تخرج، فليأذن لها زوجها أن تخرج في أطمارها، ولا تتزين، فإن أبت أن تخرج كذلك فللزوج أن يمنعها عن الخروج. ویيرى عن عائشة قالت: لو رأى رسول الله ﷺ ما أحدثت النساء لمنعهن المسجد، كما منعت نساء بني إسرائيل. ويروى عن سفيان الثوري أنه كره اليوم الخروج للنساء إلى العيد. قاله الترمذي. وقال في «المرقاة»: قال أبو حنيفة: ملازمات البيوت لا يخرجن. ووجهه الطحاوي بأن ذلك كان أول الإسلام والمسلمون قليلون، فأريد التكثير بهن ترهيبا للعدو. ومراده أن المسبب يزول بزوال السبب، و ، ولذا أخرجت المؤلفة قلوبهم . من مصرف الزكاة، وليس مراده إن هذا صار منسوخا.

Hadith 1858

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "If the Messenger of Allah (ﷺ) had seen what the women have introduced after him, he would have prevented them from the mosque, just as the women of the Children of Israel were prevented."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٨ - وَعَنْهَا (رضي الله عنها) لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ الله رَأَى مَا أَحْدَثَتِ النِّسَاءُ بَعْدَهُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2157
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرماتے کہ عورتوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں پیدا کر رکھی ہیں تو بنی اسرائیل کی عورتوں کی طرح ان کو بھی مسجد میں آنے سے ضرور منع فرما دیتے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 445a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1859

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "Abu Bakr (may Allah be pleased with him) entered upon me while two young girls were with me during the days of Mina, beating the duff 2 and singing." In another narration: "They were singing the verses that the Ansar recited on the day of Buʿath, while the Prophet (ﷺ) was covered with his garment. Abu Bakr (may Allah be pleased with him) rebuked them, and the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said: 'Leave them, O Abu Bakr, for these are the days of Eid.'" In another narration: "O Abu Bakr, every people have a festival, and this is our festival." [Agreed upon] In another narration by Bukhari: "And they were not professional singers."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٩ - وَعَنْهَا (رضي الله عنه) قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ (رضي الله عنه) دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنِّى، تَدُفَّانِ وَتَضْرِبَانِ. وَفِي رِوَايَةٍ: تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارِ يَوْمَ بُعَاثَ، وَالنَّبِيُّ ﷺ مُتَغَشَّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: «دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ؛ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيْدٍ». وَفِي رِوَايَةٍ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيْدُنَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيَّ: «وَلَيْسَنَا بِمُغَنّيَتَيْنِ». وَقَالَتِ الْحَنَفِيَّةُ: إِنَّ الدُّفَّ أَيْضًا حَرَامُ، وَهُوْ ظَاهِرُ الرَّوَايَةِ، وَمَا وَرَدَ مِنْ ضَرْبِ الدُّفَّ فَهُوَ مَنْسُوْخُ وَتَمَامُ تَحْقِيقِهِ فِي بَابِ إِعْلَانِ النِّكَاحِ، فَرَاجِعْهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2158Noor 2159Noor 2160Noor 2161
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ عید الاضحی کے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے۔ میرے پاس دو لڑکیاں دف بجاتے ہوئے وہ اشعار گا رہی تھیں جو جنگ بعاث کے متعلق انصار نے کہے تھے۔ اور بخاری کی ایک روایت ہے کہ یہ لڑکیاں گانے کا پیشہ رکھنے والیاں نہ تھیں اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چہرہ انور پر کپڑا ڈھانکے ہوئے تھے، حضرت ابوبکر نے ان لڑکیوں کو جھڑک دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر نے یہ بھی فرمایا کہ شیطان کا گانا بجانا رسول اللہ کے گھر میں ہونا تعجب کی بات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھا کر فرمایا: ابوبکر! ان کو اپنی حالت پر چھوڑ دو (یہ چھوٹی لڑکیاں ہیں) اور عید کا زمانہ ہے، یہ اس طرح خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 952 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 987 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 892a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

(2) The Hanafis stated that the duff is also prohibited, which is the apparent narration. Whatever has been reported regarding beating the duff is abrogated. Its complete explanation is found in the chapter on announcing Nikah, so refer to it.

Note 1

ف: اس حدیث میں جَارِيَةٌ کا لفظ ہے، ”جاریہ“ کہتے ہیں چھوٹی لڑکی کو۔ اسی لئے مرقات میں ”جَارِيَتَانِ“ کے ساتھ ”صَغِيرَتَانِ“، یعنی دو چھوٹی لڑکیاں مذکور ہے کہ وہ دف بجا کر عید کی خوشی کا اظہار کر رہی تھیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان لڑکیوں کو منع کر رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر صدیق کو ان لڑکیوں کے دف بجانے سے منع کرنے سے روک دئے، اس لئے کہ چھوٹی لڑکیاں بلوغ کے پہلے جو کچھ کریں ان کا قول و فعل قابل استدلال نہیں ہوتا۔ اب رہا دف بجانا تو یہ اس زمانہ کی بات ہے جبکہ دف کا بجانا منسوخ نہیں ہوا تھا اس کے بعد دف بجانا منسوخ ہو گیا۔ جس حدیث سے منسوخ ہوا ہے اس کو خطیب اس طرح روایت کئے ہیں ”عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الدُّفِّ وَلَعِبِ الصَّنْجِ وَضَرْبِ الزَّمَّارَةِ“ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے مزامیر کی طرح دف بجانے سے بھی منع فرمائے ہیں۔ اسی واسطے حضرت شہاب الدین سہروردی رضی اللہ عنہ نے حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دف بجانا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے۔ اور علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں دف بجانے کی اجازت تھی، بعد میں اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا۔ اس لئے ظاہر الروایہ میں ہے کہ حنفی مذہب میں مثل مزامیر کے دف بجانا بھی حرام ہے۔ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ ”استماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام“ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ مزامیر اور دف بجا کر سننا بھی حرام ہے۔

Hadith 1860

Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would not leave for the Eid al-Fitr prayer until he had eaten some dates, and he would eat them in odd numbers."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٠ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَا يَغْدُوْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ، وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2162
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن کچھ کھجور کھائے بغیر عیدگاہ کو نہیں جاتے تھے اور ان کھجوروں کی تعداد طاق ہوتی تھی (اس سے معلوم ہوا کہ عیدالفطر میں کچھ کھا کر نماز عید کے لئے جانا مسنون ہے) (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 953 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں نماز سے پہلے کھجور کھانے کا جو ذکر ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ کوئی گمان نہ کرے کہ اس دن بھی عید کی نماز تک سوا پہر کا روزہ رکھنا واجب ہے۔ (فتح الباری)

Hadith 1861

Volume 1

English

Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) would not go out on the day of Eid al-Fitr until he had eaten, and he would not eat on the day of Eid al-Adha until he had prayed.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦١ - وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ، وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يُصَلِّي رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِمِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2163
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن کھانا کھا کر عیدگاہ جایا کرتے تھے۔ بخلاف اس کے عیدالاضحٰی کے دن بھوکے عیدگاہ تشریف لے جاتے، عیدالاضحٰی کی نماز سے واپس آ کر (بھی کچھ نہیں کھاتے تھے قربانی کر کے) قربانی کے گوشت سے کھانے کو شروع کرتے تھے۔ (اس میں فقراء کی خاطر منظور تھی کہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 542 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1756 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

عیدالفطر میں فطرہ پہلے دیا جاتا ہے، نماز عید بعد میں ہوتی ہے، فطرہ کو کھا کر فقراء عیدگاہ جاتے تھے، اس لئے حضور بھی کچھ کھا کر عیدگاہ جاتے۔ بخلاف عیدالفطر کے عیدالاضحٰی میں قربانی ہونے تک فقراء کو کچھ کھانے کو نہیں ملتا تھا۔ نماز عید سے واپس آ کر قربانی ہونے کے بعد جب قربانی کا گوشت تقسیم ہوتا تو اس وقت فقراء کو کچھ کھانے کو ملتا تھا، اس لئے فقراء کا ساتھ دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی صبح سے بھوکے رہتے تھے، نماز عید کے بعد قربانی کر کے قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتداء کرتے تھے۔ (اس حدیث کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)

Hadith 1862

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ), on the day of Eid, would take a different route (when returning).

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٢ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيْدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2164
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کے دن ایک راستہ سے عیدگاہ کو تشریف لے جاتے اور دوسرے راستہ سے گھر واپس ہوتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 986 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1863

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) went out on the day of Eid, he would return by a different route.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٣ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ رَجَعَ فِي غَيْرِهِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2165
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کے روز عیدگاہ کو تشریف لے جاتے تو جاتے وقت ایک راستہ سے عیدگاہ تشریف لے جاتے اور واپسی میں دوسرے راستہ سے گھر تشریف لاتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 541 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1864

Volume 1

English

Al-Baraʾ (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the Day of Sacrifice and said: "The first thing we begin with on this day of ours is that we perform the prayer, then we return and perform the sacrifice. 1 Whoever does this has followed our Sunnah, but whoever slaughters (an animal) before the prayer, it is merely meat that he has offered for his family and is not part of the ritual sacrifice." [Agreed upon] In another narration from Bukhari on the authority of Al-Baraʾ ibn ʿAzib (may Allah be pleased with him), he reported: The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the day of Eid al-Adha after the prayer and said: "Whoever prays our prayer and sacrifices our sacrifice has performed the sacrifice correctly. But whoever sacrifices before the prayer has done so before its time, and it does not count as a sacrifice."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٤ - وَعَنِ الْبَرَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ1 مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّي فَإِنَّمَا هُوَ شَاةُ لَحْمٍ، عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رضي الله عنه): قَالَ : خَطَبَنَا النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الْأَضْحَى بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكِ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا نُسُكَ لَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2166Noor 2167
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عید الاضحی کی نماز پڑھائے، نماز عید کے بعد خطبہ دے رہے تھے، اثنائے خطبہ میں) ارشاد فرمایا کہ: یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ کے دن دو عبادتیں ہیں: ایک نماز عید پڑھنا، دوسرے قربانی کرنا۔ جو نماز عید پڑھ کر (خطبہ۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12- سننے کے بعد) گھر جا کر قربانی کیا تو اس کو قربانی کا ثواب ملے گا۔ جس نے ایسا کیا وہ ہماری سنت پر عمل کیا۔ بخلاف اس کے جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کیا (تو اس کو قربانی کا ثواب نہیں ملے گا) سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنے اہل و عیال کے لئے گوشت حاصل کرنے کے واسطے ذبح کیا ہے عبادت کا ثواب اس کو نہیں ملے گا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بخاری کی ایک اور روایت اس طرح کرتے ہیں کہ عیدالاضحی کے دن نماز عید پڑھ کر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دئے (خطبہ میں یہ) ارشاد فرمائے: جو شخص ہمارے جیسی نماز عید پڑھا اور (نماز کے بعد) قربانی کیا تو اس کو قربانی کا ثواب ملے گا اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی اداء کیا تو نماز سے پہلے قربانی اداء کرنے سے اس کو قربانی کا ثواب نہیں ملے گا۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

The first thing we begin with on this day of ours is that we perform the prayer, then we return and perform the sacrifice…

(1) His statement: “The first thing we begin with on this day of ours is that we perform the prayer, then we return and perform the sacrifice…” This hadith includes an explanation of the time for offering the sacrifice. The scholars unanimously agree that it is not permissible to slaughter it before the break of dawn on the Day of Sacrifice. Then, a group of them stated that its time begins when the sun has risen to the height of a spear, and after the performance of two rakʿahs and two brief sermons. If one slaughters after this, it is valid, whether the imam has prayed or not. However, if one slaughters before this, it is not valid, whether in a city or outside of it. This is the view of al-Shafiʿi. Abu Hanifah held that offering the sacrifice is obligatory, and its time for city dwellers is after the imam has prayed. The apparent meaning of the hadith serves as evidence against al-Shafiʿi and supports the view of Abu Hanifah, Malik, and Ahmad, who stipulated the condition for the validity of the sacrifice that the imam must pray and deliver the sermon. This is mentioned in al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: إن أول ما نبدأ به في يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فتنحر إلخ : هذا الحديث يشتمل على بيان وقت الأضحية، فأجمع العلماء على أنه لا يجوز ذبحها قبل طلوع الفجر من يوم النحر ثم ذهب جماعة إلى أن وقتها يدخل إذا ارتفعت الشمس قدر رمح، ومضى بعده ركعتين وخطبتين خفيفتين. فإن ذبح بعده جاز، سواء صلى الإمام أو لم يُصَلِّ. فإن ذبح قبله لم يجز، سواء كان في المصر أو لم يكن، وهو مذهب الشافعي. وذهب أبو حنيفة إلى أن الأضحية واجبة، ووقتها بعد صلاة الإمام في حق المصري. وظاهر الحديث حجة على الشافعي، ودليل لأبي حنيفة ومالك وأحمد في شرط صحة الأضحية أن يصلي الإمام ويخطب. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: حدیث شریف میں نماز عید کے بعد گھر جا کر قربانی دینے کا ذکر اس طرح ہے۔ ”ان نصلي ثم نرجع فَنَنْحَر“ یعنی نماز پڑھی، گھر لوٹا اور قربانی کی“ حالانکہ نماز پڑھنے کے بعد خطبہ بھی ہونا ضروری ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس جگہ نماز کے بعد خطبہ کا ذکر اس لئے نہیں ہے کہ خطبہ نماز کے تابع ہے اور نماز کے ساتھ ہی پڑھا جاتا ہے۔ یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ نماز اور قربانی میں سے نماز پہلے ہونا اور قربانی نماز کے بعد ہونا چاہئے۔ اسی لئے حدیث میں نماز اور قربانی ان دونوں ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔

Hadith 1865

Volume 1

English

Jundub bin Abdullah al-Bajali (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever slaughters [the sacrificial animal] before the prayer, let him offer another in its place, and whoever has not yet slaughtered until we have prayed, let him slaughter in the name of Allah."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٥ - وَعَنْ جُنْدُبٍ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِي (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2168
جندب بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس شخص نے عیدالاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کر لیا ہو تو (اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی نماز عید کے بعد اس کو مکرر) قربانی کرنا چاہئے اور جو نماز عید سے پہلے قربانی نہیں کیا تو اس کو چاہئے کہ نماز عید کے بعد ”بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہہ کر قربانی کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Hadith 1866

Volume 1

English

Al-Bara (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever slaughters [the sacrificial animal] before the prayer, he only slaughters for himself. And whoever slaughters after the prayer, his sacrifice is complete and he has followed the Sunnah of the Muslims."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٦ - وَعَنِ الْبَرَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2169
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس نے عیدالاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کی تو اس نے اپنے لئے (گوشت حاصل کرنے کے واسطے) قربانی کی ہے اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی تو اس کی قربانی پوری ہوئی اور (نماز کے بعد قربانی کرنا جو مسلمانوں کا طریقہ ہے) اس نے اس طریقہ پر صحیح طور سے عمل کیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Hadith 1867

Volume 1

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) used to slaughter and offer sacrifices at the prayer ground.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٧ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2170
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ آپ (نماز عید کے بعد) عیدگاہ میں قربانی کیا کرتے تھے۔ (عیدگاہ میں قربانی کر کے یہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ قربانی کا وقت نماز عید کے بعد ہے۔ اور مجمع عام میں قربانی کرنے سے لوگوں کو قربانی کرنے کی ترغیب بھی ہو جائے) (اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 982 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں قربانی کرنے کے لئے دو الفاظ لائے گئے ہیں: ایک يَذْبَحُ، دوسرا ”يُنْحَرُ“ ان کا ترجمہ قربانی کرنا کیا گیا ہے، ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اونٹ کی قربانی کرنے کو نحر کہتے ہیں اور اونٹ کے سوا بکرے اور گائے کی قربانی کرنے کو ذبح کہتے ہیں۔ کیونکہ ذبح حلق پر ہوتا ہے اور نحر اونٹ کے سینے پر ہوتا ہے، اونٹ کے ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اونٹ کو قبلہ رو کھڑا کر کے اس کے اگلے دونوں پاؤں کے بیچ میں سینہ پر برچھے سے زخم لگاتے ہیں جس سے خون نکل کر اونٹ زمین پر گر جاتا ہے اور اس طریقہ سے دم سیال نکل جاتا ہے اور ذبح کرنے کی غرض حاصل ہو جاتی ہے (عمدة القاری اور مرقات)۔

Hadith 1868

Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) arrived in Madinah, the people had two days in which they would play. He asked, "What are these two days?" They said, "We used to play in them during the pre-Islamic period." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Indeed, Allah has replaced them for you with something better: the Day of Sacrifice and the Day of Fitr."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٨ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُوْنَ فِيْهِمَا، فَقَالَ: «مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟ قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيْهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: قَدْ أَبْدَلَكُمُ اللهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهِمَا، يَوْمُ الْأَضْحَى وَيَوْمُ الْفِطْرِ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2171
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھے کہ مدینہ والوں کے لئے دو دن مقرر تھے، جن میں وہ عید مناتے تھے اور عید کی خوشی کو) لہو ولعب سے کھیل کود سے ظاہر کرتے تھے تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: یہ دو دن جن کو تم عید مقرر کئے ہو، ان سے کیا غرض ہے؟ تو مدینہ والوں نے کہا کہ یہ وہی دن ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم ان میں کھیلا کرتے تھے اور خوشیاں مناتے تھے، اگر حضور فرمائیں تو یہ دو دنوں میں ہم عید منانا چھوڑ دیتے ہیں اور جن دو دنوں میں خوشی منانے کا حکم ہوگا، ان میں خوشی منائیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (عید ایسے دنوں میں مقرر کرنا چاہئے جن میں ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہوئی ہوں۔ ان نعمتوں کے بدلہ میں عید منا کر شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ جن دنوں میں تم عید مناتے تھے، وہ دن ستاروں کی تحویل کے تھے۔ مسلمانوں کے پاس ستاروں کی تحویل کوئی چیز نہیں جو کچھ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ ستارے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں آلہ کار ہیں۔ مستقل ان میں کوئی اثر نہیں) اللہ تعالیٰ ان دو دنوں کے بدلہ میں جن میں تم عید مناتے ہیں۔ دوسرے دو دن عید منانے کے لئے مقرر کئے ہیں۔ ایک تو عید الاضحیٰ اور دوسرے عید الفطر، عید الاضحیٰ تو وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیل اللہ پر بڑا فضل کیا کہ ان کے فرزند کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ ہم کو حضرت خلیل اللہ کی پیروی کرنے کا حکم ہوا ہے، جو دن حضرت خلیل اللہ کی خوشی کا ہے ہم کو بھی ان کی پیروی کر کے اس میں خوشی کر کے عید منانا چاہئے۔ دوسرا دن عید الفطر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو رمضان شریف دے کر نفس کی اور دل کی اصلاح فرمایا۔ روزے پورے ہوگئے۔ کتنا بڑا احسان ہے اللہ کا جس نے ہم سے پورے روزے کروائے۔ اس نعمت کے شکریہ میں بھی ختم رمضان کے بعد عید الفطر کے دن کو عید منا کر اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مسلمان ہمیشہ لہو ولعب سے بچا کرتے ہیں، اس لئے ان دونوں عیدوں کو بھی کفار کی طرح لہو ولعب کھیل کود میں نہ گزاریں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے عید کی خوشی کا اظہار کریں، مسلمان کے پاس عبادت سے بڑھ کر کوئی چیز خوشی کے قابل نہیں)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1134 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1439 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 1439

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1869

Volume 1

English

Sa'id bin Amr bin al-As (may Allah be pleased with him) narrated that he asked Abu Musa al-Ash'ari and Hudhayfah bin al-Yaman (may Allah be pleased with them): "How did the Messenger of Allah (ﷺ) say the takbir in Eid al-Adha and Eid al-Fitr?" Abu Musa said, "He would say takbir four times, like the takbir of the funeral prayer." Hudhayfah (may Allah be pleased with him) said, "He has spoken the truth." Abu Musa (may Allah be pleased with him) said, "This is how I used to say takbir in Basrah when I was their leader." [Narrated by Abu Dawud and Al-Tahawi] Abu Dawud remained silent about it, and so did al-Mundhiri in his Mukhtasar. In its chain is Abdur Rahman bin Thawban, whom more than one scholar has declared trustworthy. Ibn Ma'in said, "There is no harm in him." Also in its chain is Abu Aishah. In al-Taliq al-Hasan from al-Khulasa, it is mentioned: 'Abu Aishah al-Umawi, their freed slave, narrated from Abu Musa and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them), and from him narrated Mak'hul and Khalid bin Ma'dan. Thus, his anonymity is removed due to two narrators reporting from him. Abdul Razzaq narrated it from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) with a Sahih chain.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٩ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ (رضي الله عنهما): كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ اللهِ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَى: كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَازَةِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ : صَدَقَ. فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَى: كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ فِي الْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالطَّحَاوِيُّ. وَسَكَتَ أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ، ثُمَّ الْمُنْذِرِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ. وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَفِي سَنَدِهِ أَبُوْ عَائِشَةَ أَيْضًا. قَالَ فِي التَّعْلِيقِ الْحَسَنِ عَنِ الْخُلَاصَةِ : أَبُو عَائِشَةَ الْأُمَوِيُّ مَوْلَاهُمْ عَنْ أَبِي مُوسَى وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْهُ (رضي الله عنه) مَكْحُوْلٌ وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَهُ بِرِوَايَةِ اثْنَيْنِ عَنْهُ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَاقِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2172Noor 2173
سعید بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالاضحی کی نماز اور عیدالفطر کی نماز میں کس طرح تکبیرات فرماتے تھے؟ حضرت ابو موسیٰ نے جواب دیا کہ جنازہ کی تکبیروں کی طرح دونوں عیدوں کی پہلی رکعت میں چار تکبیرات فرماتے تھے (جس میں سے پہلی تکبیر تکبیر تحریمہ ہوتی تھی، اس کے بعد ثناء پڑھتے پھر تین تکبیرات زائد فرماتے تھے، ہر دو تکبیروں کے بیچ میں تین تسبیحات کے موافق فصل کرتے تھے، اور ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرتے تھے اور تیسری تکبیر کے بعد قیام کے لئے ہاتھ باندھ لیتے تھے ایسا ہی دوسری رکعت میں بھی نماز جنازہ کی طرح چار تکبیر فرماتے۔ جس میں سے پہلے تین تکبیرات زائد ہوتے ہر دو تکبیر کے بیچ میں تین تسبیحات کی مقدار فصل ہوتا تھا۔ ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرتے تھے چوتھی تکبیر کے ساتھ بغیر رفع یدین کئے رکوع میں چلے جاتے تھے) حضرت حذیفہ نے ان کی تصدیق کی (اور فرمایا: ابو موسیٰ جیسا کہے ہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے) یہ سن کر حضرت ابو موسیٰ کہنے لگے کہ میرا اسی طرح عمل درآمد رہا ہے، جس وقت میں بصرہ کا حاکم تھا (میں دونوں عیدوں میں اسی طرح تکبیر کہا کرتا تھا)۔ اور عبدالرزاق نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1153 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور طحاوی نے کی ہے اور ابوداؤد نے سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اور منذری نے بھی اپنی مختصر میں اس کی روایت کی ہے۔

Hadith 1870

Volume 1

English

Abu Abdur Rahman (may Allah be pleased with him) narrated: One of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) told me: The Prophet (ﷺ) led us in the Eid prayer, and he said takbir four times and four times. Then, when he turned to us after finishing, he said, "Do not forget, it is like the takbir of the funeral prayer." He indicated with his fingers and folded his thumb.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۰ - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَن قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ عِيْدٍ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ حِيْنَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: لَا تَنْسَوْا كَتَكْبِيرِ الْجَنَائِزِ، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَقَالَ: فَهَذَا حَدِيْثٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2174
ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھ سے حدیث بیان فرمائی (کل صحابہ عدول ہیں، اس لئے صحابی کا نام معلوم نہ ہونے سے حدیث کی صحت میں کچھ اثر نہیں پڑتا ہے) وہ صحابی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو عید کی نماز پڑھائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے) ساتھ چار تکبیرات کہے (جن میں پہلی تکبیر کے بعد ثنا پڑھے اس کے بعد تین تکبیرات زائد فرمائے اور تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لئے) ایسا ہی دوسری رکعت میں تکبیر رکوع کے ساتھ چار تکبیر فرمائے (جن میں سے تین تکبیرات تو عید کی تھیں اور چوتھی تکبیر کے بعد رکوع میں چلے گئے) پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضور ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمائے (جیسے تم اب دیکھ لئے ہو کہ اب میں عید کے جس طرح تکبیرات کہا ہوں، ایسا ہی تم بھی عید کے تکبیرات کہا کرو) تکبیرات کی تعداد بھولو مت، پھر تم کو یاد رکھنے کے لئے کہتا ہوں (کہ ہر رکعت میں چار چار تکبیریں ہیں) مثل نماز جنازہ کی تکبیرات کے (جس کی تفصیل تم ابھی سن چکے) ہمارے یاد رہنے کے لئے ہاتھ پھیلا کر انگوٹھا بند کر کے چار انگلیاں کھڑا کر کے بتلائے۔ دیکھو عید کی ہر رکعت میں چار چار تکبیرات ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور امام طحاوی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔)

Hadith 1871

Volume 1

English

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "There are nine takbirs: five in the first rak’ah and four in the second rak’ah, including the takbir of the prayer (opening takbir)." [Narrated by Al-Tahawi] Imam Ibn al-Humam said in Fath al-Qadir: "The five takbirs refer to the opening takbir, the takbir for bowing (ruku’), and three additional takbirs. The four takbirs refer to the takbir for bowing (ruku’)."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۱ - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: تِسْعُ تَكْبِيرَاتٍ: خَمْسُ فِي الْأَوْلَى وَأَرْبَعُ فِي الْآخِرَةِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَقَالَ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَامِ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ»: وَالْمُرَادُ بِالْخَمْسِ تَكْبِيرَةُ الافْتِتَاحِ وَالرُّكُوعِ وَثَلَاثُ زَوَائِدَ، وَبِالْأَرْبَعِ بِتَكْبِيرَةِ الرُّكُوعِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2175
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ عید کے زائد تکبیرات مع تکبیرات نماز کے (9) ہیں: پانچ تکبیرات پہلی رکعت میں اور چار تکبیرات دوسری رکعت میں ہیں (فتح القدیر میں اس کی تفصیل اس طرح کی گئی ہے کہ پہلی رکعت کے پانچ تکبیرات اس طرح ہیں کہ پہلی تکبیر تو تکبیر تحریمہ ہے جس کے بعد ثناء پڑھی جاتی ہے، پھر تین تکبیرات عید کے زائد تکبیرات ہیں اور پانچویں تکبیر رکوع کی ہے، اس طرح پہلی رکعت کے شروع میں پانچ تکبیرات ہوئے اور دوسری رکعت میں (4) تکبیرات اس طرح ہیں کہ تین تکبیرات عید کے زائد تکبیرات ہیں اور چوتھی تکبیر رکوع کی ہے۔ اس طرح دوسری رکعت میں چار تکبیر ہوئے، خلاصہ یہ ہے کہ عید کی نماز میں زائد تکبیرات (6) چھ ہیں۔ پہلی رکعت میں تین تکبیرات عید کے زائد تکبیرات ہیں اور دوسری رکعت میں بھی عید کے تین زائد تکبیرات ہیں)۔(اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1872

Volume 1

English

Hamzah Abu Umara reported: "I heard Al-Sha’bi say: 'Three takbirs in addition to the takbir of the prayer.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۲ - وَعَنْ حَمْزَةَ أَبِي عُمَارَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ رحمه الله يَقُوْلُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا سِوَى تَكْبِيرَةِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2176
حمزہ ابو عمارۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے کہ عید کی نماز کی ہر رکعت میں تین تین عید کی زائد تکبیرات ہیں جو نماز کی تکبیرات کے علاوہ ہیں۔(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1873

Volume 1

English

Amir reported: "Umar and Abdullah (may Allah be pleased with them) agreed 1 on the number of takbirs for the two Eids as nine takbirs: five in the first rak’ah and four in the second rak’ah, with continuous recitation between the two rak’ahs."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۳ - وَعَنْ عَامِرٍ أَنَّ عُمَرَ وَعَبْدَ اللهِ (رضي الله عنهما) اجْتَمَعَ1 رَأَيُّهُمَا فِي تَكْبِيرَةِ الْعِيْدَيْنِ عَلَى تِسْعِ تَكْبِيرَاتٍ، خَمْسٍ فِي الْأَوْلَى وَأَرْبَعِ فِي الْآخِرَةِ، وَيُوالِي بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2177
عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تکبیرات عیدین کے متعلق متفقہ رائے یہ ہے کہ جملہ تکبیرات (9) نو ہیں: پہلی رکعت میں پانچ تکبیرات (اس طرح) ہیں (کہ پہلی تکبیر تو تکبیر تحریمہ ہے جس کے بعد ثناء پڑھی جاتی ہے، پھر تین تکبیرات عید کے زائد تکبیرات ہیں اور پانچویں تکبیر رکوع کی ہے) اور دوسری رکعت میں چار تکبیرات (اس طرح) ہیں (کہ تین تکبیرات عید کے زائد تکبیرات ہیں اور چوتھی تکبیر رکوع کی ہے) اور اس پر بھی دونوں حضرات کی متفقہ رائے ہے کہ (پہلی رکعت کی قرأت کے ختم پر رکوع و سجدہ ہو اور دوسری رکعت تکبیرات عید سے شروع نہیں کرنا چاہئے بلکہ دوسری رکعت کو حسب دستور قرأت سے شروع کریں اور ختم قرأت پر تکبیرات عید کہے جائیں، اس سے) پہلی رکعت کی قرأت اور دوسری رکعت کی قرأت میں تکبیرات عید سے فصل نہ ہوگا بلکہ دونوں قرأت پے درپے ہوں گے) پہلی رکعت کے شروع میں قرأت سے پہلے تکبیرات عیدین ہوں گے اور دوسری رکعت کے آخر میں قرأت کے بعد تکبیرات عیدین ہوں گے)۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 1

They agreed...

(1) The statement: "They agreed..." Al-Tahawi said: "Then we examined the number of takbirs in the two Eids. We found that all other prayers are devoid of these additional takbirs, while the Eid prayers have unanimously been agreed upon to include additional takbirs beyond other prayers. Therefore, it is reasonable not to increase the takbirs in the Eid prayers beyond what is agreed upon. Everyone agreed on the addition of nine takbirs, as held by Ibn Mas’ud, Hudhayfah, Ibn Abbas, Abu Musa, and others we have mentioned. They differed regarding increasing beyond that, so we added to this prayer what was agreed upon and excluded what was not agreed upon."

Note 1

قوله

(۱) قوله: اجتمع إلخ قال الطحاوي: ثم نظرنا في عدد التكبير فيهما، فرأينا سائر الصلوات خالية من هذه التكبير، ورأينا صلاة العيدين قد أجمع أن فيهما تكبيرات زائدة على غيرها من الصلوات، فكان النظر أن لا يزاد في الصلاة للعيدين على ما في سائر الصلوات غيرهما، إلا ما اتفق على زيادته، فكل قد أجمع على زيادة تسع تكبيرات، على ما ذهب إليه بن مسعود وحذيفة وابن عباد وأبو موسى، ومن سمينا معهم . واختلفوا في الزيادة على ذلك، فزدنا في هذه الصلاة ما اتفق على زيادته فيها، ونفينا عنها ما لم يتفق على زيادته فيها.

Hadith 1874

Volume 1

English

Abdullah ibn Qays reported from his father: "Sa’id ibn al-As (may Allah be pleased with him) called them on the day of Eid. He invited Al-Ash’ari, Ibn Mas’ud, and Hudhayfah ibn al-Yaman (may Allah be pleased with them) and said, 'Today is your Eid, so how should I pray?' Hudhayfah said, 'Ask Al-Ash’ari.' Al-Ash’ari said, 'Ask Abdullah.' Abdullah said, 'Say the takbir,' and he mentioned the hadith. They would say one takbir to begin the prayer, then three more takbirs after it, then recite (the Qur’an). Then they would say a takbir to bow (ruku’), prostrate, stand up, and recite again. Then they would say three takbirs, followed by a takbir to bow (ruku’)." [Narrated by Al-Tahawi] Abd al-Razzaq narrated something similar, and Al-Tahawi also narrated something similar from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him).

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٧٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيْهِ : أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ (رضي الله عنه) دَعَاهُمْ يَوْمَ عِيدٍ، فَدَعَا الْأَشْعَرِيَّ وَابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ (رضي الله عنهم) ، فَقَالَ: إِنَّ الْيَوْمَ عِيْدُكُمْ، فَكَيْفَ أُصَلَّى؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: سَلِ الْأَشْعَرِيَّ، وَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: سَلْ عَبْدَ اللهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : تَكَبَّرْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُمْ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةً وَيَفْتَتِحُ بِهَا الصَّلَاةَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ بَعْدَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكَبِيرَةً يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يَقُوْمُ فَيَقْرَأُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَقًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكَبِيرَةً يَرْكَعُ بِهَا. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ نَحْوَهُ، وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا نَحْوَهُ أَيْضًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2178Noor 2179
عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما اپنے والد قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد قیس نے کہا کہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے عید کے دن حضرت ابوموسیٰ اشعری، حضرت ابن مسعود اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم کو بلوا بھیجا اور ان حضرات سے کہا کہ آج مسلمانوں کی عید کا دن ہے بتلائیے کہ میں عید کی نماز کس طرح پڑھاؤں۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری سے پوچھئے اور حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود سے دریافت کیجئے تو عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تکبیر تحریمہ کہہ کر تم نمازِ عید شروع کرو (تکبیر تحریمہ کے بعد تم کو کیا کرنا چاہئے اس کے لئے میں تم کو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح نماز عید پڑھاتے ہیں، میں اس کو بعینہٖ بیان کرتا ہوں (سنو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تکبیر تحریمہ فرما کر نماز عید شروع کرتے، پھر (ثناء پڑھنے، ثناء کے بعد) عید کے تین زائد تکبیرات ادا فرماتے۔ اس کے بعد سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ فرماتے، پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جاتے۔ پھر سجدہ کرتے، دوسرے سجدہ کے بعد اٹھ کر دوسری رکعت کا قیام کرتے۔ اس قیام میں دوسری رکعت کو قرأت سے شروع کرتے (تکبیرات عیدین سے ابتداء نہیں فرماتے تھے) حسب عادت سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ کر کے ضم سورہ کے بعد عید کے تین زائد تکبیرات فرماتے۔ تکبیرات عیدین کے بعد ”اللہ اکبر“ کہہ کر رکوع میں جاتے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔) اور امام طحاوی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مذکور الصدر حدیث کی روایت اسی طرح کی ہے۔

Hadith 1875

Volume 1

English

Alqamah and Al-Aswad reported: "Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) would say nine takbirs during the two Eids: four before the recitation, then a takbir to bow (ruku’). In the second rak’ah, he would recite, and after finishing, he would say four takbirs, then bow (ruku’)." [Narrated by Abd al-Razzaq with a authentic chain] Tirmidhi narrated something similar from Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) and said: "This has been seen from more than one companion of the Prophet (ﷺ)." In a narration by Ibn Abi Shaybah, something similar is mentioned. In Fath al-Qadir, it is said: "This is an authentic report, narrated in the presence of a group of companions. Such a report is considered elevated (marfu’), as it is like transmitting the number of rak’ahs."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۵ - وَعَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ: أَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ تِسْعًا، أَرْبَعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ، وَفِي الثَّانِيَةِ يَقْرَأُ، فَإِذَا فَرَغَ كَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ رَكَعَ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَاقِ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ. وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ نَحْوَهُ، وَقَالَ: وَقَدْ رُؤْيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ نَحْو هَذَا، وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ نَحْوُهُ. وَقَالَ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ: وَهَذَا أَثَرُ صَحِيحُ، قَالَهُ بِحَضْرَةِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَمِثْلُ هَذَا يُحْمَلُ عَلَى الرَّفْعِ؛ لِأَنَّهُ مِثْلُ نَقْلِ أَعْدَادِ الرَّكَعَاتِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2180Noor 2181
علقمہ اور اسود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز میں (9) نو تکبیر کہا کرتے تھے: چار تکبیرات (پہلی رکعت میں) قرآت سے پہلے کہا کرتے تھے (جن میں سے ایک تکبیر تو تکبیر تحریمہ ہوتی۔ اس کے بعد ثناء پڑھتے تھے، ثناء کے بعد تین تکبیر عید کے زائد تکبیر کہتے تھے، تین تکبیرات کے بعد قرآت یعنی سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ کرتے، پھر ضم سورہ کے بعد پانچویں مرتبہ) ”اللّٰه اكبر“ کہہ کر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت کو (حسب دستور) حضرت ابن مسعود قرآت یعنی سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ سے شروع کرتے۔ جب ضم سورہ سے فارغ ہوتے تو (اس طرح) چار تکبیر کہتے (کہ تین تکبیر تو عید کے زائد تکبیر ہوتے تھے اور چوتھی تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جاتے تھے)۔ (اس حدیث کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔) اور ترمذی نے بھی حضرت ابن مسعود سے اسی طرح روایت کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ حضرت ابن مسعود کی روایت کی طرح متعدد صحابہ کرام سے بھی ایسی ہی روایتیں آئی ہیں اور ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں بھی اسی طرح مروی ہے اور فتح القدیر میں کہا ہے کہ حضرت ابن مسعود کی یہ حدیث صحیح حدیث ہے اور حضرت ابن مسعود نے اس حدیث کو جس
Commentary and footnotes (1)

Note 1

میں عید کے زائد تکبیرات کا ذکر ہے۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سامنے بیان کیا اور کسی صحابی نے اس کی تردید نہیں کی۔ اور صحابہ کے سامنے کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ اس کو رد نہ کریں تو ایسی حدیث مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتی ہے اور جب یہ حدیث بھی صحابہ کے سامنے بیان کی گئی اور کسی صحابی نے انکار نہیں فرمایا تو یہ حدیث بھی مرفوع حدیث کے حکم میں ہوئی۔

Hadith 1876

Volume 1

English

Ibrahim al-Nakha’i said: "Hands are raised in seven instances: at the beginning of the prayer, during the takbir for qunut in Witr, and during the two Eids."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٧٦ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَفِي التَّكْبِيرِ لِلْقُنُوْتِ فِي الْوِتْرِ، وَفِي الْعِيدَيْنِ الْحَدِيثِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2182
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رفع یدین صرف سات موقعوں پر کیا جاتا ہے: (1) جب نماز شروع کی جاتی ہے تو تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا جاتا ہے۔ (2) دوسرے وتر میں دعائے قنوت کے لئے جب ”اللّٰه اكبر“ کہا جاتا ہے تو اس وقت بھی رفع یدین کرنے کا حکم ہے (3) تیسرے عیدین کی نماز میں چھ زائد تکبیرات کہتے وقت بھی رفع یدین کرنے کا حکم ہے۔ (4) حجر اسود کا بوسہ لینے وقت بھی رفع یدین ہے (ان مذکورہ چار رفع یدین کے وقت ہاتھوں کی پیٹھ اپنے منھ کی طرف ہوتی ہے) (5) پانچواں رفع یدین وہ ہے جو سعی میں صفا اور مروہ پر کیا جاتا ہے۔ (6) چھٹا رفع یدین وہ ہے جو مزدلفہ اور عرفات میں کیا جاتا ہے۔ (7) ساتواں رفع یدین وہ ہے جو منیٰ میں پہلے اور دوسرے جمرہ پر کنکریاں مارتے وقت کیا جاتا ہے۔ (آخر کے ان تین رفع یدین مثل دعاء کے ہتھیلیاں اپنے چہرہ کی طرف رہیں)۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس حدیث (یہ حدیث معانی الآثار ”باب رفع اليدين عند رؤية البيت“ (ج1 ص391) میں مذکور ہے۔ 12) کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)

Hadith 1877

Volume 1

English

Al-Bara’ (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) was handed a bow on the day of Eid, and he delivered the sermon while leaning on it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۷ - وَعَنِ الْبَرَاءِ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ اللهِ نُؤْوِلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2183
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کسی شخص نے عید کے روز (نماز عید کے بعد) ایک کمان نذر دی تو آپ نے اس پر سہارا دے کر عید کا خطبہ پڑھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1145 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1878

Volume 1

English

Ata’ reported in a mursal narration: "The Prophet (ﷺ) would lean on his staff while delivering the sermon."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۸ - وَعَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا خَطَبَ يَعْتَمِدُ عَلَى عَنَزَتِهِ اعْتِمَادًا. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2184
عطا بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (ایسا بھی ہوا ہے) کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے وقت چھوٹے نیزہ پر ٹیکا دے کر خطبہ دئے ہیں۔ (اور اس نیزہ کو جب ضرورت ہوتی تو سترہ کے لئے بھی زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا)۔ (اس حدیث کی روایت امام شافعی رحمہ اللہ نے مرسلاً کی ہے۔)

Hadith 1879

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "I attended the Eid prayer with the Prophet (ﷺ). He began with the prayer before the sermon, without any adhan or iqamah. After finishing the prayer, he stood leaning on Bilal (may Allah be pleased with him), praised Allah, and admonished the people, reminding them and encouraging them to obey Him. Then he went to the women, with Bilal, and advised them to fear Allah, admonished them, and reminded them."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۷۹ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي يَوْمِ عِيْدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَّكِنَّا عَلَى بِلَالٍ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ النَّاسَ، وَذَكَرَهُمْ وَحَبَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللهِ، وَوَعَظَهُنَّ وَذَكَرَهُنَّ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2185
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (یوں تو) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید کی نمازوں میں رہا ہوں (مگر) ایک عید کا واقعہ ایسا ہوا کہ آپ (حسب عادت) خطبہ سے پہلے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائے، نماز کے بعد خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے خطبہ کے وقت (عصاء وغیرہ پر ٹیکا نہیں دئے بجائے عصا کے) حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیکا دے کر خطبہ ارشاد فرمائے (کیا کہوں) وہ خطبہ کیسا تھا) اس خطبہ میں آپ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کئے اور مرنے کے بعد جو واقعات پیش آنے والے ہیں وہ یاد دلائے اور اطاعت الٰہی کی ترغیب دئے۔ اس کے بعد حضرت بلال کے ساتھ عورتوں کے پاس جا کر ان کو خدا ترسی کا حکم دئے اور وعظ و نصیحت فرمائے۔ اس حدیث کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1575 (unverified) 78% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ان احادیث میں مذکور ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے وقت کبھی کمان پر ٹیکا دئے ہیں اور کبھی عصا (جیسا کہ ابوداؤد کی ایک روایت میں مذکور ہے۔12) پر اور کبھی چھوٹی برچھی پر اور کبھی ان میں سے کسی چیز پر ٹیکا نہ دے کر کسی انسان پر ٹیک دیتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ کے وقت عصاء وغیرہ پر ٹیکا دینا سنت غیر مؤکدہ ہے۔ اگر عصاء وغیرہ پر ٹیکا دئے بغیر خطبہ دیا جائے تو بھی جائز ہے۔ (اعلاء السنن)۔

Hadith 1880

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "They were caught in rain 1 on the day of Eid, so the Prophet (ﷺ) led them in the Eid prayer in the mosque."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۸۰ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ أَصَابَهُمْ1 مَطَرُ فِي يَوْمِ عِيْدٍ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ ﷺ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2186
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) عید کے دن بارش ہو رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کی نماز مسجد میں پڑھائے۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1160 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

They were caught in rain...

(1) The statement: "They were caught in rain..." The original practice of the Prophet (ﷺ) was to go out to the prayer ground (Musalla). He did not pray the Eid prayer in his mosque, despite its honor, except once due to the excuse of rain. This is elaborated upon by Ibn al-Qayyim in Zad al-Ma’ad and Al-Qastallani in Mawahib al-Laduniyyah, among others. This is mentioned in ‘Umdat al-Ri’ayah.

Note 1

قوله

(۱) قوله : أصابهم مطر إلخ والأصل فيه أن النبي ﷺ كان يخرج إلى المصلى ولم يُصل صلاة العيد في مسجده مع شرفه إلا مرة بعذر المطر، كما بسطه ابن القيم في زاد المعاد والقسطلاني في مواهب اللدنية وغيرهما. كذا في عمدة الرعاية».

Note 1

ف۔ واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ نماز عید کے لئے عیدگاہ کو تشریف لے جایا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی میں جس کی بڑی فضیلت ہے صرف ایک مرتبہ عذر کی وجہ سے نماز عید ادا فرمائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو حضرات بلا عذر نماز عید کے لئے عیدگاہ نہیں جاتے اور اپنے محلوں میں الگ الگ مسجدوں میں عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں یہ خلاف سنت ہے۔ اگرچہ محلہ کی مسجد میں نماز عید ادا ہو جاتی ہے مگر ایسا کرنے والے تارک سنت مؤکدہ ہیں۔ (عمدة الرعایہ)۔