Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1873

(اس باب میں عیدالفطر کی نماز اور عیدالاضحی کی نماز اور ان کے متعلقات کا بیان ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں عیدالفطر کی نماز اور عیدالاضحی کی نماز اور ان کے متعلقات کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 1873Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2177
عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تکبیرات عیدین کے متعلق متفقہ رائے یہ ہے کہ جملہ تکبیرات (9) نو ہیں: پہلی رکعت میں پانچ تکبیرات (اس طرح) ہیں (کہ پہلی تکبیر تو تکبیر تحریمہ ہے جس کے بعد ثناء پڑھی جاتی ہے، پھر تین تکبیرات عید کے زائد تکبیرات ہیں اور پانچویں تکبیر رکوع کی ہے) اور دوسری رکعت میں چار تکبیرات (اس طرح) ہیں (کہ تین تکبیرات عید کے زائد تکبیرات ہیں اور چوتھی تکبیر رکوع کی ہے) اور اس پر بھی دونوں حضرات کی متفقہ رائے ہے کہ (پہلی رکعت کی قرأت کے ختم پر رکوع و سجدہ ہو اور دوسری رکعت تکبیرات عید سے شروع نہیں کرنا چاہئے بلکہ دوسری رکعت کو حسب دستور قرأت سے شروع کریں اور ختم قرأت پر تکبیرات عید کہے جائیں، اس سے) پہلی رکعت کی قرأت اور دوسری رکعت کی قرأت میں تکبیرات عید سے فصل نہ ہوگا بلکہ دونوں قرأت پے درپے ہوں گے) پہلی رکعت کے شروع میں قرأت سے پہلے تکبیرات عیدین ہوں گے اور دوسری رکعت کے آخر میں قرأت کے بعد تکبیرات عیدین ہوں گے)۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 1

They agreed...

(1) The statement: "They agreed..." Al-Tahawi said: "Then we examined the number of takbirs in the two Eids. We found that all other prayers are devoid of these additional takbirs, while the Eid prayers have unanimously been agreed upon to include additional takbirs beyond other prayers. Therefore, it is reasonable not to increase the takbirs in the Eid prayers beyond what is agreed upon. Everyone agreed on the addition of nine takbirs, as held by Ibn Mas’ud, Hudhayfah, Ibn Abbas, Abu Musa, and others we have mentioned. They differed regarding increasing beyond that, so we added to this prayer what was agreed upon and excluded what was not agreed upon."

Note 1

قوله

(۱) قوله: اجتمع إلخ قال الطحاوي: ثم نظرنا في عدد التكبير فيهما، فرأينا سائر الصلوات خالية من هذه التكبير، ورأينا صلاة العيدين قد أجمع أن فيهما تكبيرات زائدة على غيرها من الصلوات، فكان النظر أن لا يزاد في الصلاة للعيدين على ما في سائر الصلوات غيرهما، إلا ما اتفق على زيادته، فكل قد أجمع على زيادة تسع تكبيرات، على ما ذهب إليه بن مسعود وحذيفة وابن عباد وأبو موسى، ومن سمينا معهم . واختلفوا في الزيادة على ذلك، فزدنا في هذه الصلاة ما اتفق على زيادته فيها، ونفينا عنها ما لم يتفق على زيادته فيها.