اردو
عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما اپنے والد قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں، ان کے والد قیس نے کہا کہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے عید کے دن حضرت ابوموسیٰ
اشعری، حضرت ابن مسعود اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم کو بلوا بھیجا اور ان حضرات سے
کہا کہ آج مسلمانوں کی عید کا دن ہے بتلائیے کہ میں عید کی نماز کس طرح پڑھاؤں۔ حضرت
حذیفہ نے فرمایا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری سے پوچھئے اور حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا کہ حضرت
عبداللہ ابن مسعود سے دریافت کیجئے تو عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تکبیر تحریمہ کہہ کر
تم نمازِ عید شروع کرو (تکبیر تحریمہ کے بعد تم کو کیا کرنا چاہئے اس کے لئے میں تم کو حضرت صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم جس طرح نماز عید پڑھاتے ہیں، میں اس کو بعینہٖ بیان کرتا ہوں (سنو) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تکبیر تحریمہ فرما کر نماز عید شروع کرتے، پھر (ثناء پڑھنے، ثناء کے بعد)
عید کے تین زائد تکبیرات ادا فرماتے۔ اس کے بعد سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ فرماتے، پھر اللہ اکبر
کہہ کر رکوع میں جاتے۔ پھر سجدہ کرتے، دوسرے سجدہ کے بعد اٹھ کر دوسری رکعت کا قیام
کرتے۔ اس قیام میں دوسری رکعت کو قرأت سے شروع کرتے (تکبیرات عیدین سے ابتداء
نہیں فرماتے تھے) حسب عادت سورۂ فاتحہ اور ضم سورہ کر کے ضم سورہ کے بعد عید کے تین زائد
تکبیرات فرماتے۔ تکبیرات عیدین کے بعد ”اللہ اکبر“ کہہ کر رکوع میں جاتے۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
اور امام طحاوی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مذکور الصدر حدیث
کی روایت اسی طرح کی ہے۔