English
Ibrahim al-Nakha’i said: "Hands are raised in seven instances: at the beginning of the prayer, during the takbir for qunut in Witr, and during the two Eids."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٨٧٦ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَفِي التَّكْبِيرِ لِلْقُنُوْتِ فِي الْوِتْرِ، وَفِي الْعِيدَيْنِ الْحَدِيثِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2182
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رفع یدین صرف
سات موقعوں پر کیا جاتا ہے:
(1) جب نماز شروع کی جاتی ہے تو تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا جاتا ہے۔ (2)
دوسرے وتر میں دعائے قنوت کے لئے جب ”اللّٰه اكبر“ کہا جاتا ہے تو اس وقت بھی رفع یدین
کرنے کا حکم ہے (3) تیسرے عیدین کی نماز میں چھ زائد تکبیرات کہتے وقت بھی رفع یدین کرنے کا
حکم ہے۔ (4) حجر اسود کا بوسہ لینے وقت بھی رفع یدین ہے (ان مذکورہ چار رفع یدین کے وقت
ہاتھوں کی پیٹھ اپنے منھ کی طرف ہوتی ہے) (5) پانچواں رفع یدین وہ ہے جو سعی میں صفا اور مروہ پر
کیا جاتا ہے۔ (6) چھٹا رفع یدین وہ ہے جو مزدلفہ اور عرفات میں کیا جاتا ہے۔ (7) ساتواں رفع
یدین وہ ہے جو منیٰ میں پہلے اور دوسرے جمرہ پر کنکریاں مارتے وقت کیا جاتا ہے۔ (آخر کے ان تین
رفع یدین مثل دعاء کے ہتھیلیاں اپنے چہرہ کی طرف رہیں)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس حدیث (یہ حدیث معانی الآثار ”باب رفع اليدين عند رؤية البيت“ (ج1 ص391) میں مذکور ہے۔ 12) کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)