العربية
Typed, pending editorial approval
۱۹۱۰ - وَعَنْ أَبِي الضَّحَاكِ عُبَيْدِ بْنِ فِيْرَوْزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانٍ قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنَ الْأَضَاحِي، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ: «أَرْبَعُ لَا يَجْزِيْنَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوْرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا، وَالْكَسِيْرَةُ الَّتِي لَا تَنْقِي». قُلْتُ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَكُوْنَ فِي الْقَرْنِ1 نَقْصُ وَأَنْ يَكُوْنَ فِي السِّنَّ 2 نَقْصٌ ، قَالَ : مَا كَرِهْتَهُ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه: قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُوْنَ نَقْصُ فِي الْأُذُنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُمَا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3144 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: "A defect in the horn." In Rad al-Muhtar, it is said: "It is permissible to sacrifice a hornless animal, one that naturally has no horns. Similarly, an animal with a broken horn is permissible unless the break reaches the brain."
Note 2
(2) The statement: "A defect in the teeth." In Talkhis al-Habir, it is said: "Al-Qadi al-Husayn narrated from Al-Shafi’i that he said, 'We do not find any prohibition from the Prophet (ﷺ) regarding defects in the teeth.'"
Note 1
(۱) قوله: في القرن : قال في رد المحتار: ويضحي بالجماء، هي التي لا قرن لها خلقة، وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر وغيره بلغ الكسر إلى المخ لم يجز. (قهستاني)
Note 2
(۲) قوله: في السن: قال في التلخيص الحبير» ونقل القاضي الحسين عن الشافعي أنه قال: لا نحفظ عن النبي ﷺ في نقص الأسنان شيء، يعني في النهي.
Note 1
ف: واضح رہے کہ قربانی کے جانور کے سینگ، دانت اور کان کے متعلق کچھ احکام تو آپ اس حدیث شریف کے ترجمہ میں سن لئے ہیں، باقی احکام اب سنئے: (1) جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں اس کی قربانی درست ہے البتہ جس جانور کے پیدائش سے سینگ تو تھے مگر بعد میں بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے تو اس کی قربانی درست نہیں۔ (2) جس جانور کے بالکل دانت نہیں، اس کی قربانی درست نہیں۔ (3) جس جانور کے پیدائش ہی سے دو کان نہ ہوں یا صرف ایک کان نہ ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔ یا ایسا ہی جس جانور کا ایک کان پورا کٹا ہوا ہو اس کی قربانی بھی درست نہیں مگر کان تو ہیں لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔ (رد المحتار)12