Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1911

Chapter on The Sacrifice

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Sacrifice

Zujajat al-Masabih 1911Volume 1

English

Hajjiyah ibn Adiyy reported from Ali (may Allah be pleased with him): "A cow suffices for seven people." I asked, "What if it gives birth?" He said, "Slaughter its offspring with it." I asked, "What about a lame animal?" He said, "If it can reach the place of slaughter, slaughter it." I asked, "What about an animal with a broken horn?" He said, "There is no harm. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to examine the eyes and ears." [Narrated by Al-Darimi, Nasa’i, Ibn Majah, Al-Daraqutni, Al-Bayhaqi, Abu Dawud al-Tayalisi, Tirmidhi, and Al-Hakim in Al-Mustadrak] Tirmidhi said: "It is Hasan Sahih."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۹۱۱ - وَعَنْ حَجِيَّةِ بْنِ عَدِيٌّ عَنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ. قُلْتُ: فَإِنْ وَلَدَتْ؟ قَالَ: اذْبَحْ وَلَدَهَا مَعَهَا. قُلْتُ: وَالْعَرْجَاءُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ فَاذْبَحْ. قُلْتُ: فَمَكْسُوْرَةُ الْقَرْنِ؟ قَالَ: لَا بَأْسَ ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ نَسْتَثْرِفَ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارَ قُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ»، وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2224
حُجَیَّہُ بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ ایک گائے کی قربانی (زیادہ سے زیادہ) سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے، اگر سات آدمیوں سے کم بھی ہوں تو ایک گائے ان کی طرف سے قربانی دی جا سکتی ہے اگر سات آدمیوں سے زیادہ ہوں اور ایک گائے ان سب کی طرف سے قربانی دی جائے تو سات آدمیوں کی طرف سے تو قربانی ادا ہو جائے گی اور سات آدمیوں سے جو زیادہ ہیں ان کی طرف سے قربانی نہیں ہوگی) راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ قربانی کے لئے جو گائے خریدی گئی تھی، وہ گابھن تھی، اگر قربانی سے پہلے وہ بچہ جنے تو اس بچہ کو کیا کیا جائے، یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرمائے: (کہ اس بچہ کو تم اپنی ملک نہ سمجھنا، تم اپنے تصرف میں نہ لانا) ماں کے ساتھ اس بچہ کو ذبح کر دو (قربانی کا جانور تو اس سمجھی جائے گی۔ اس کو تم کھانا، البتہ قربانی کے جانور کی جو عمر بتلائی گئی ہے بچہ اس عمر کا نہ ہونے سے بچہ کو قربانی کے لئے ذبح نہیں کیا گیا، صرف خالص عبادت ہی ہے، اس لئے اس بچہ کا گوشت نہ کھایا جائے اس کے گوشت کو خیرات کر دیا جائے اگر قربانی کرنے والا اس بچہ کے گوشت سے کچھ کھا لے تو جتنا گوشت کھایا ہے اس کی قیمت خیرات کر دے، عالمگیری اور رد المحتار میں ایسا ہی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اگر قربانی کا جانور لنگڑا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرمائے: (قربانی کے جانور میں لنگڑا پن ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ مگر لنگڑے پن سے مراد یہ ہے کہ اس کا لنگڑا پن اس طرح ظاہر ہو کہ وہ چل نہ سکے، بخلاف اس کے) وہ لنگڑا ہونے کے باوجود قربانی کی جگہ تک چل سکتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ (اس کا ایسا لنگڑا پن قربانی سے مانع نہیں ہے) میں نے پھر عرض کیا کہ جس قربانی کے جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسے سینگ ٹوٹے ہوئے جانوروں کی قربانی کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں (ہاں اگر سینگ جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں تو ایسے جانوروں کی قربانی درست نہیں) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمائے کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہم اچھی طرح قربانی کے جانور کی آنکھوں کو اور کانوں کو دیکھ لیا کریں (اگر آنکھ اور کان اچھے ہوں تو قربانی کریں، ایسا ہی آنکھ میں نصف سے کم خرابی ہو تو اس جانور کی بھی قربانی کر سکتے ہیں، اگر نصف یا نصف سے زیادہ خرابی ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے)۔ ایسا ہی اگر نصف سے کم کان کٹے ہوئے ہوں تو اس جانور کی قربانی جائز ہے، ہاں اگر نصف یا نصف سے زیادہ کان کٹے ہوئے ہوں یا پورا کان کٹا ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے)۔ (اس حدیث کی روایت دارمی، نسائی، ابن ماجہ، دارقطنی، بیہقی، ابوداؤد، طیالسی اور ترمذی نے کی ہے اور اس کی روایت حاکم نے بھی مستدرک میں کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)