اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2250
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں اور ایک
انصاری لڑکا تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے یہاں تک کہ جب آفتاب (طلوع کر کے) دیکھنے میں
افق میں دو یا تین نیزہ کے مقدار بلند ہوا تو آفتاب کو (گہن لگا) ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ تودہ نما ہی سیاہ
گھاس کی طرح سیاہ ہو گیا ہے (یہ دیکھ کر) ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ مسجد چلو، خدا کی
قسم آفتاب کی یہ حالت ہونے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لئے کوئی نہ کوئی نئے
احکام آئیں گے (چلو دیکھیں مسجد میں کیا ہو رہا ہے) سمرہؓ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی ہم مسجد میں آئے تو
کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے باہر تشریف لائے ہیں اور
آگے بڑھ کر کسوف کی نماز پڑھا رہے ہیں، (پہلی رکعت میں) قیام اتنا طویل فرمائے کہ ایسا طویل
قیام ہم نے حضور کو کسی نماز میں کرتے نہیں دیکھا (اور آپ قرأت (ایسی) آہستہ فرما رہے تھے
(جیسے دوسری سری نمازوں میں آہستہ قرأت فرمایا کرتے تھے جس کی وجہ سے) ہم حضور کی قرأت
نہیں سن سکے، سمرہؓ فرماتے ہیں کہ پھر رکوع فرمائے اور ایسا طویل رکوع فرمائے جو کسی نماز میں ایسا
طویل رکوع نہیں فرمائے تھے اور حضور رکوع میں جو کچھ پڑھ رہے تھے ہم اس کو نہیں سن سکے، پھر حضور
سجدہ فرمائے اور ایسا طویل سجدہ فرمائے جو کسی نماز میں ایسا طویل سجدہ نہیں فرمائے تھے اور حضور سجدہ
میں جو کچھ پڑھ رہے تھے ہم اس کو بھی نہیں سن سکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت
کے ہر رکن کو پہلی رکعت کے ہر رکن کی طرح بحد طویل ادا فرمائے، سمرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور دوسری
رکعت پڑھ کر قعدہ میں تھے کہ سورج کا گہن ختم ہو گیا۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے، اور ترمذی
اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے، اور اس کی سند صحیح ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث
حسن صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1184 (unverified) 92% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 562 (unverified) 78% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "We did not hear his voice." The narrations mentioning audible recitation are interpreted as referring to his occasional practice of reciting a verse or two aloud in silent prayers for teaching purposes. A distant observer might have assumed the entire recitation was audible and narrated it as such. This is mentioned in Tabi’ al-Athar. Shaykh Imam Ibn al-Humam said: "When there is a contradiction, the preference is given to the original practice of silent recitation in daytime prayers."
Note 1
(۱) قوله: لا نسمع له صوتا وما روى من الجهر محمول على ما كان من عادته من الجهر بآية أو آيتين في السرية للتعليم، فظنه الراوي البعيد أن كل القراءة لعله كان جهرًا، وهو لم يسمع فروى الجهر. قاله في تابع الآثار». وقال الشيخ الإمام ابن الهمام: وإذا حصل التعارض وجب الترجيح بأن الأصل في صلاة النهار الإخفاء.