English
Sa’d ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) narrated:
"We left Makkah with the Messenger of Allah (ﷺ) heading toward Madinah. When we were near Azwaza, he dismounted, raised his hands, and supplicated to Allah for a while. Then he fell into prostration and remained in it for a long time. He then stood, raised his hands again, and supplicated for a while. He fell into prostration again and remained in it for a long time. He repeated this a third time. Anas (may Allah be pleased with him) said, 'I asked my Lord and interceded for my Ummah, and He granted me one-third of my Ummah. So I fell into prostration in gratitude to my Lord. Then I raised my head and asked my Lord for my Ummah again, and He granted me another third. I fell into prostration in gratitude to my Lord. Then I raised my head and asked my Lord for my Ummah once more, and He granted me the final third. I fell into prostration in gratitude to my Lord.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۹۳۸ - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ (رضي الله عنه) قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَزَاءَ نَزَلَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَدَعَا اللهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا قَالَ أَنَسٌ : سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُلُثَ الْآخَرَ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2262
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ہم حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ معظّمہ سے مدینہ منورہ کی طرف چلے جب ہم مقام عزوراء میں پہنچے
تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا کہ رحمت الٰہی اس وقت جوش پر ہے حضور اس وقت کو
غنیمت سمجھ کر اپنی سواری سے اتر کر کھڑے ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ دعاء کے لئے اٹھا کر بہت دیر
تک دعاء کرتے رہے، پھر سجدہ میں جا کر طویل سجدہ کئے اور پھر سجدہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور
کھڑے رہ کر پھر دعاء کے لئے دونوں ہاتھ اٹھا کر (بہت دیر تک) دعاء کرتے رہے، پھر قیام سے
سجدہ میں گئے اور بہت دیر تک سجدہ میں رہے پھر سجدہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک دعاء
کے لئے ہاتھ اٹھائے رہے، پھر قیام سے سجدہ میں گئے اور بہت دیر تک سجدہ میں رہے، پھر سجدہ سے
اٹھنے کے بعد صحابہ سے ارشاد فرمایا میں اس وقت کئی مرتبہ کھڑے ہو کر دعاء کیا پھر سجدہ میں گیا، پھر
دعاء کے لئے کھڑا ہوا پھر سجدہ میں گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت رحمت الٰہی جوش پر تھی، میں چاہا
کہ اپنی امت کے لئے قدیم آرزو پوری کرنے کے لئے دعاء کروں، میں کھڑے ہو کر دعاء کیا، الٰہی
اور قوموں کی طرح میری امت کو دنیوی عذاب نہ دینا اور گناہوں کی شامت سے دوزخ میں ڈالیں
بھی تو ہمیشہ دوزخ میں نہ رکھنا، سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نجات دینا تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: میں
تمہاری تہائی امت کے لئے یہ دعاء قبول کرتا ہوں، آپ کی تہائی امت پر یہ دنیوی عذاب نہیں آئے
گا، گناہوں کی شامت سے دوزخ میں جائیں گے بھی تو ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے یہ سن کر میں
سجدۂ شکر ادا کیا: پھر کھڑے ہو کر دعاء کیا: الٰہی! میری باقی امت کو بھی دنیوی عذاب سے بچائے،
گناہوں کی شامت سے دوزخ میں ہمیشہ نہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: اچھا میرے محمد! تمہاری
امت کے دوسرے تہائی حصے کو بھی دنیوی عذاب سے بچائے رکھوں گا، گناہوں کی شامت سے اگر
دوزخ میں جائیں گے بھی تو ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے، دوزخ سے ان کو نجات دوں گا، یہ سن کر
میں پھر سجدۂ شکر ادا کیا سہ بارہ پھر کھڑے ہو کر عرض کیا: الٰہی! میری امت کے تیسرے حصے کو بھی
دنیوی عذاب سے بچائے گناہوں کی شامت سے اگر دوزخ میں جائیں بھی تو ان کو ہمیشہ دوزخ میں
نہ رکھے! تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا: اچھا میرے محمد! مجھے تمہاری خاطر منظور ہے، تمہاری امت کے
تیسرے حصے کو بھی دنیوی عذاب سے بچائے رکھوں گا، گناہوں کی شامت سے اگر دوزخ میں
جائیں بھی تو ہمیشہ ان کو دوزخ میں نہیں رکھوں گا، تمہاری تمام امت دنیوی عذاب سے بھی محفوظ رہے
گی، اور دوزخ کے ہمیشہ کے عذاب سے بھی محفوظ رہے گی، کیوں محمد اب خوش ہوئے یہ سن کر میں
تیسرے بار پھر سجدۂ شکر ادا کیا اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2775 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.