English
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
*"The first of the people against whom judgment will be pronounced on the Day of Resurrection will be a man who died as a martyr. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I fought for Your cause until I was martyred.' Allah will say, 'You have lied. You fought so that it might be said: He is courageous. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire.
Another will be a man who acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’an. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’an for Your sake.' Allah will say, 'You have lied. You acquired knowledge so that it might be said: He is learned, and you recited the Qur’an so that it might be said: He is a reciter. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire.
Another will be a man whom Allah made wealthy and to whom He gave all kinds of wealth. He will be brought forward, and Allah will make known to him His favors, which he will recognize. Allah will ask, 'What did you do with them?' He will reply, 'I did not leave any way You like wealth to be spent except that I spent in it for Your sake.' Allah will say, 'You have lied. You did so that it might be said: He is generous. And it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face until he is thrown into the Fire." .
العربية
Typed, pending editorial approval
١٩٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «إِنَّ أَوَّل النَّاسِ يُقْضَى عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجَلُ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيْهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيْكَ حَتَّى اسْتُشْهِدتُ. قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ: جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ.
وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيْكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ: إِنَّكَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئُ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيْهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ. قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرِ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 210
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: (1) پہلا شخص جس کا قیامت میں فیصلہ ہوگا وہ شہید ہوگا، اس کو دربار الٰہی میں حاضر کیا جائے گا
اور اس کو ان نعمتوں کی یاد دلائی جائے گی جو اس پر کی گئی تھیں تو وہ ان کا اقرار کرے گا، پس کہا جائے گا
کہ تو نے ان احسانات کے مقابلہ میں کیا عمل کیا، کہے گا: میں نے تیرے لئے جہاد کیا حتیٰ کہ میں شہید
ہوگیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو نے تو جہاد اس لئے کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے،
چنانچہ تجھ کو بہادر کہا گیا، پھر اس کے متعلق حکم ہوگا تم اس کو لے جاؤ تو اس کو چہرے کے بل دوزخ میں
ڈال دیا جائے گا، اور (2) دوسرا وہ شخص جس نے علم سیکھا اور لوگوں کو سکھایا اور قرآن پڑھا وہ پیش کیا
جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے ان احسانات کو بتلائے گا جو اس پر کئے گئے ہیں، پس وہ ان کا اقرار کرے
گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ان احسانات کے مقابلے میں تو نے کیا عمل کیا؟ جواب دے گا کہ میں نے علم
سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور تیری خوشنودی کے لئے قرآن پڑھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو نے جھوٹ
کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قرآن اس لئے پڑھا کہ لوگ تجھے
قاری کہیں، چنانچہ تجھے (عالم و قاری) کہا گیا، پھر اس کے متعلق حکم ہوگا تو وہ چہرے کے بل گھسیٹا
جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ اور (3) تیسرا وہ شخص (ہوگا) جس کو اللہ نے تونگر بنایا اور
ہر طرح کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا حاضر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ ان احسانات و عنایات کو یاد دلائے
گا جو اس پر کیا ہے، وہ ان کا اقرار کرے گا تو باری تعالیٰ سوال فرمائے گا کہ اس دولت سے کیا کام
انجام دیا؟ جواب دے گا: میں نے مال خرچ کیا ہر اس راستہ میں جس میں مال کا خرچ کیا جانا تجھے پسند
تھا، فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے مال و دولت اس لئے خرچ کیا تھا کہ تجھ کو سخی کہا جائے،
چنانچہ تجھے سخی کہا گیا، پھر اس کے متعلق حکم ہوگا، پس وہ چہرے کے بل گھسیٹا جا کر جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Unnumbered narration between 194 and 196; represented as 194a, not silently assigned printed number 195.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1905a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.