Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1953

Chapter on The Prayer for Rain

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Prayer for Rain

Zujajat al-Masabih 1953Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "People complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about the lack of rain. He ordered a pulpit to be set up for him at the prayer ground and appointed a day for the people to gather. Aisha said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out when the sun’s edge appeared, sat on the pulpit, said the takbir, praised Allah, and then said, "You have complained of drought in your lands and the delay of rain beyond its usual time. Allah has commanded you 2 to supplicate to Him and has promised to respond to you." Then he said, "All praise is due to Allah, the Lord of the worlds, the Most Merciful, the Especially Merciful, the Master of the Day of Judgment. There is no god but Allah, who does what He wills. O Allah, You are Allah; there is no god but You. You are the Rich, and we are the poor. Send down rain upon us and make what You send down a strength and provision for us until a time." He raised his hands and kept them raised until the whiteness of his armpits became visible. Then he turned his back to the people and turned his cloak while they raised their hands. He then faced the people, descended, and prayed two rak’ahs. Allah created a cloud that thundered and flashed with lightning, then it rained by Allah’s permission. Before he reached the mosque, the valleys were flowing with water. When he saw how quickly they ran for shelter, he smiled until his molars became visible and said, "I bear witness that Allah has power over all things, and I am His servant and Messenger."'" [Narrated by Abu Dawud] Shaykh Ibn al-Humam said: "It is a Gharib Hadith with a Hasan chain."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٩٥٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قُحُوْطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُوْنَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُوْلُ الله ﷺ حِيْنَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ، وَاسْتِثْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِيَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمْ2 اللهُ أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ». ثُمَّ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمَ الدِّينُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اللهُمَّ أَنْتَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أُنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوْةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ». ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُمْ رَافِعُ يَدَيْهِ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللهُ سَحَابَةً، فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ. فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَقَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُوْلُهُ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ الشَّيْخُ ابْنُ الْهُمَامِ: حَدِيْثُ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُ جَيِّدٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2277
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بارش رک جانے کی شکایت کی (اور اپنی پریشانی کا اظہار کئے) تو آپ نے عیدگاہ میں منبر رکھنے کا حکم فرمایا اور حسب الحکم منبر رکھ دیا گیا (یہ ایک وقت کا واقعہ ہے جو مثل منسوخ کے ہو گیا، پھر کبھی عیدگاہ میں عید کے خطبہ کے لئے یا استسقاء کے خطبہ کے لئے منبر نہیں رکھا گیا اسی وجہ سے جب مروان عید کے خطبہ کے لئے عیدگاہ میں منبر بنایا تو حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ مروان کی سخت مخالفت کئے (راوی کہتے ہیں کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مقرر فرمائے اور سب کو اس دن عیدگاہ میں حاضر ہونے کا حکم ہوا، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (جب وہ مقررہ دن آیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آفتاب نکل رہا تھا کہ عیدگاہ تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ اکبر فرما کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائے اس کے بعد ارشاد ہوا، لوگو! تم نے قحط سالی اور بارش بروقت نہ ہونے کی شکایت کی تھی (تم کو یاد نہیں کہ) اللہ تعالیٰ جب ضرورت ہو تو دعا ء کرنے کا حکم دئے ہیں اور تمہاری دعاء قبول کرنے کا وعدہ فرمائے ہیں (تو تم سب خدا کی طرف متوجہ ہو کر بہت عاجزی اور زاری سے بارش آنے کی گڑگڑا کر دعاء کرو، وہ کریم ہیں تمہاری دعاء قبول فرمائیں گے) پھر حضور اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ○ اے اللہ ہر حال میں سب تعریف آپ ہی کے لئے ہے آپ سارے عالم کے پرورش فرمانے والے ہیں (آپ ہمارے لئے بارش کو پرورش کا ذریعہ بنائے اور بارش برسائیے۔) الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ○ (آپ کی شان کیا کہوں) آپ کی رحمت عام ہے اور آپ اپنی مخلوق پر ہمیشہ مہربان ہیں (آپ اپنی رحمت کے صدقے میں ہم پر مہربانی فرمائیے اور بارش برسائیے۔) مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ○ آپ یوم حساب کے مالک ہیں (سب کے گناہ معاف کرنے والے ہیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بارش رک گئی ہے ہمارے گناہ معاف کیجئے، ہم پر بارش برسائیے۔) لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ ○ آپ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں، آپ ہی ہمارے معبود ہیں (آپ ہی ہمارے پالنے والے ہیں، آپ سے نہ مانگیں تو پھر کس سے مانگیں، اس لئے آپ کے سامنے گڑگڑا کر ہم بارش آنے کی دعاء کر رہے ہیں۔) آپ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں (آپ کو کوئی روکنے والا نہیں، آپ بارش برسانا چاہیں تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَ نَحْنُ الْفُقَرَاءُ . اس لئے ہم پر بارش برسائیے اور ہم کو قحط سے نجات دلائیے۔ اے اللہ آپ ہی اللہ ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ غنی ہیں ہم محتاج ہیں (اس لئے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے بارش کی دعا کر رہے ہیں۔) نہ کیجئے) بارش برسائیے (مگر ایسی بارش نہ ہو کہ وہ ہمارے لئے باعث ضرر ہو، بلکہ وہ بارش ایسی برسائیے جو ہمارے لئے رزق کا ذریعہ بنے۔) اور ہم کو ہماری مقررہ مدت حیات تک نفع پہنچاتی رہے۔ پھر (اس کے بعد حضور بحال الحاح و زاری کرتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے مقابل اتنے اونچے کئے کہ جس سے آپ کے مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آرہی تھی، پھر لوگوں کی طرف پیٹھ پلٹائے اور قبلہ رو ہوکر اپنی چادر مبارک (مذکور الصدر طریقہ پر) الٹ کر اوڑھ لئے اور اس وقت بھی اپنے ہاتھوں کو ایسے ہی اٹھائے ہوئے تھے، آپ قبلہ رو تھے، پھر لوگوں کی طرف رخ کر کے منبر سے نیچے اتر آئے اور دو رکعت نماز پڑھائے (اس حدیث میں نماز کے پہلے جو دعا کی گئی ہے وہ بیٹھے
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1173 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Allah has commanded you.

(2) The statement: "Allah has commanded you." Shaykh Ibn al-Humam said: "This speech is what is meant by the sermon, as some have said. Perhaps Imam Ahmad considered it Gharib or Mudtarib, as the sermon is mentioned before the prayer in the earlier narration of Abu Hurairah and after it in others." In Tabi’ al-Athar, it is said: "What is narrated about the sermon is metaphorically interpreted as supplication and remembrance."

Note 2

قوله

(٢) قوله: وقد أمركم: قال الشيخ ابن الهمام الخ: وذلك الكلام هو المراد بالخطبة كما قاله بعضهم. ولعل الإمام أحمد أعله بهذه الغرابة، أو بالاضطراب؛ فإن الخطبة فيه مذكورة قبل الصلاة فيما تقدم من حديث أبي هريرة بعدها وكذا في غيره انتهى. وفي تابع الآثار» وما روى من الخطبة يحمل على الدعاء والذكر مجازا.

Note 1

ہوئے دعا کی گئی ہے تو وہ خطبہ نہیں تھا، بلکہ صرف دعا ہی تھی اور یہاں نماز سے پہلے دعاء ہوئی ہے، حضور کے استسقاء میں مختلف طریقے رہے ہیں، کبھی دعاء اور خطبہ پہلے اور نماز استسقاء بعد ہوئی ہے اور کبھی نماز استسقاء پہلے اور خطبہ و دعاء بعد ہوئے ہیں مگر دعاء اور خطبہ نماز کے بعد ہونا اور نماز سے پہلے ہونا یہ حضور کا آخری عمل ہے، اس لئے صاحبین فرماتے ہیں کہ استسقاء میں پہلے نماز ہونا چاہئے اور خطبہ و دعاء بعد میں) راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ابر بھیجا جو گرجتا اور چمکتا ہوا آیا اور اللہ کے حکم سے برسنے لگا، حضور عیدگاہ سے مسجد نبوی تشریف لانے نہ پائے تھے کہ نالے بہہ نکلے حضور لوگوں کو دیکھے کہ لوگ بارش سے بچنے کے لئے سایہ کی طرف بھاگے آرہے ہیں یہ دیکھ کر آپ اتنا ہنس پڑے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے (دعاء جلدی قبول ہونے اور بارش کے آنے کو دیکھ کر) حضور فرمانے لگے الٰہی! بیشک آپ ایسی ہی قدرت والے ہیں (بہت جلدی سے ہماری دعاء قبول فرما کر بارش بھیج کر ہم کو قحط سالی سے بچائے ہیں) اور یہ بھی میں کہتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں (اسی لئے اللہ تعالیٰ میری دعاء جلد قبول فرمائے۔) اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔