English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "A Jewish boy who served the Prophet (ﷺ) fell ill, so the Prophet (ﷺ) visited him. He sat by his head and said: 'Embrace Islam.' The boy looked at his father, who was present, and the father said: 'Obey Abul-Qasim (the Prophet).' So the boy embraced Islam. 1 The Prophet (ﷺ) left saying: 'Praise be to Allah who saved him from the Fire.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٩٧٦ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ غُلَامُ يَهُودِيُّ يَخْدِمُ النَّبِيَّ ﷺ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ: «أَسْلِمْ» فَنَظَرَ إِلَى أَبِيْهِ وَهُوَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ 1، فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ يَقُوْلُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2305
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا (ایک دفعہ) وہ بیمار ہو گیا، اس (یہودی) لڑکے کی بیمار پرسی
کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر تشریف لے گئے اس بیمار لڑکے کے
سرہانے بیٹھے اور ارشاد فرمایا کہ (اے لڑکے تو نے میری بہت خدمت کی ہے میں چاہتا ہوں کہ تُو
مرنے کے بعد آرام سے رہے اس لئے) تُو مسلمان ہو جا! اس وقت لڑکے کا باپ اس کے پاس
موجود تھا، لڑکا اپنے باپ کی طرف (مشورہ لینے کے لئے) دیکھنے لگا، باپ نے کہا (اچھا بیٹا) ابو
القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو فرما رہے ہیں اس کو سن لو اور مسلمان ہو جاؤ، چنانچہ وہ لڑکا مسلمان ہوگیا
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر سے یہ فرماتے ہوئے باہر نکلے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس
نے لڑکے کو دوزخ سے بچا لیا۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1356 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5657 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "So the boy embraced Islam" supports the view of Imam Abu Hanifah, who holds that the Islam of a child is valid. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله : فأسلم إلخ : ظاهر الحديث يُؤيد مذهب الإمام أبي حنيفة حيث يقول بصحة إسلام الصبي. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے کئی مسائل معلوم ہوئے، ایک مسئلہ تو یہ ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ کافر سے خدمت لینا جائز ہے، ایسا ہی نابالغ بچے سے بھی خدمت لینا جائز ہے، اس حدیث شریف سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا جیسا کہ مرقات اور بستان فقیہ ابواللیث میں مذکور ہے کہ ذمی کافر بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کے لئے جانا جائز ہے اور خزانۃ الفتاوی میں مذکور ہے کہ یہودی، مجوسی اور فاسق کی بیمار پرسی کے لئے جانا جائز ہے، اور اس کے جواز پر فتوی ہے اور تیسرا مسئلہ یہ ہے جو مرقات میں مذکور ہے کہ بیمار کے پاس بیمار پرسی کے لئے جانے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ بیمار کے سرہانے بیٹھ کر بیمار پرسی کرے، اس حدیث سے چوتھا مسئلہ یہ معلوم ہوا جو عمدۃ القاری اور مرقات میں مذکور ہے کہ بچہ کا اسلام لانا صحیح ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دوزخ سے نجات ملنے کی خوشخبری دیئے، اگر بچہ کا اسلام لانا صحیح نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اسلام لانے کے لئے نہ فرماتے، اور اس کے اسلام لانے کے بعد نجات کی خوشخبری نہ دیتے، بچہ کا اسلام لانا صحیح ہونے کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسلام سے ہوتی ہے کہ آپ بھی بچپن ہی میں اسلام قبول فرمائے تھے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے جس کی تائید مذکورہ واقعات سے ہوتی ہے۔12