Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 1983

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

Zujajat al-Masabih 1983Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah, the Almighty, will say on the Day of Resurrection: 'O son of Adam, I fell ill, and you did not visit Me.' He will say: 'O Lord, how could I visit You when You are the Lord of the worlds?' Allah will say: 'Did you not know that My servant so-and-so fell ill, and you did not visit him? Did you not know that if you had visited him, you would have found Me with him? O son of Adam, I asked you for food, and you did not feed Me.' He will say: 'O Lord, how could I feed You when You are the Lord of the worlds?' Allah will say: 'Did you not know that My servant so-and-so asked you for food, and you did not feed him? Did you not know that if you had fed him, you would have found that with Me? O son of Adam, I asked you for water, and you did not give Me to drink.' He will say: 'O Lord, how could I give You to drink when You are the Lord of the worlds?' Allah will say: 'My servant so-and-so asked you for water, and you did not give him to drink. If you had given him to drink, you would have found that with Me.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۹۸۳ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُوْلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَعُوْدُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالِمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالِمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ، أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي. يَا ابْنِ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي، قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَسْقِيْكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالِمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا أَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدَيْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2313
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے: اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تھا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی، بندہ عرض کرے گا: پروردگار! میں کیسے آپ کی عیادت کرتا آپ رب العالمین ہیں (ایک لحظہ آپ عالم سے غافل نہیں ہوسکتے ہیں ،اگر آپ بیمار ہو جائیں تو عالم کی نگرانی نہیں ہوسکتی اس لئے نہ آپ بیمار ہوسکتے اور نہ میں آپ کی بیمار پرسی کرسکتا) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے ضرور اس کے پاس پاتا (اور میں تجھ پر رحمت کرتا اور تجھ سے راضی ہو جاتا) ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، بندہ عرض کرے گا: پروردگار! میں آپ کو کیسے کھانا کھلا سکتا تھا، حالانکہ آپ سارے عالم کے پرورش کرنے والے ہیں (سب کو آپ ہی کھلاتے ہیں اور آپ نہیں کھاتے ہیں) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا، اگر تو اس کو کھانا کھلا دیا ہوتا تو ضرور اس کھلانے کا ثواب میرے پاس پاتا، ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، بندہ عرض کرے گا پروردگار! میں آپ کو کیسے پانی پلاتا حالانکہ آپ رب العالمین ہیں (کسی چیز کے آپ محتاج نہیں ہیں، سب آپ ہی کے محتاج ہیں) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تو نے اس کو پانی نہیں پلایا سن! اگر تو اس کو پانی پلایا ہوتا تو اس پانی پلانے کا ثواب میرے پاس پاتا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2569 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.