English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (ﷺ) was ill, he would recite the Mu'awwidhat (chapters of seeking refuge) over himself and wipe his body with his hand. When he was afflicted with the illness that led to his death, I would recite the Mu'awwidhat over him and wipe his body with his hand." [Agreed upon]
In a narration by Muslim, she said: "When someone in his household fell ill, he would recite the Mu'awwidhat over them."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5016 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2192a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ کو بھی معوذات میں شریک کر کے معوذات جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اگرچہ کہ سورہ کافرون اور سورہ اخلاص میں تعوذ کا ذکر نہیں ہے، مگر سورہ فلق اور سورہ ناس میں تعوذ کا ذکر ہونے سے ان دونوں سورتوں کو تغلیباً یعنی غالب کر کے سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کو ضمنی طور پر معوذات میں شریک کیا گیا ہے، جیسا کہ عسقلانی سے مرقات میں مذکور ہے۔) حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس بیماری سے بیمار ہوئے جس میں آپ دنیا سے تشریف لے گئے (تو حضور کو معلوم ہو گیا کہ آپ اس بیماری میں دنیا سے تشریف لے جائیں گے، اس لئے آپ خود معوذات حسب عادت نہ پڑھتے اور نہ اپنے پر پھونک لئے مجھے حضور کی صحت کی یہ فکر تھی اس لئے) میں انہیں معوذات کو خود پڑھتی تھی اور حضور کے ہاتھوں پر پھونک کر حضور کے ہاتھوں کو ہی حضور کے جسم پر ملا کرتی تھی (تاکہ حضور کے ہاتھوں کی برکت سے اور ان معوذات کے پڑھنے سے حضور کو جلد صحت ہو جائے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Note 2
(مسلم کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ معوذات کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کرکے مریض کے جسم پر ملے بغیر صرف مریض کے جسم پر پھونک دینا بھی کافی ہے۔)