Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 1993

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

Zujajat al-Masabih 1993Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2323Noor 2324
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ جب آپ بیمار ہوتے تو ”مُعَوِّذَات“ یعنی سورہ ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“، سورہ ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ“ (اور ان دونوں کے پہلے) ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ (ان چاروں سورتوں کو) پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور دونوں ہاتھوں کو جہاں تک پہنچ سکے اپنے جسم پر مل لیتے تھے (حدیث شریف میں معوذات جو جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ”قُلْ اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح مذکور ہے، ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ جب گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو حضور معوذات پڑھ کر بیمار پر دم کردیا کرتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5016 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2192a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ کو بھی معوذات میں شریک کر کے معوذات جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اگرچہ کہ سورہ کافرون اور سورہ اخلاص میں تعوذ کا ذکر نہیں ہے، مگر سورہ فلق اور سورہ ناس میں تعوذ کا ذکر ہونے سے ان دونوں سورتوں کو تغلیباً یعنی غالب کر کے سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کو ضمنی طور پر معوذات میں شریک کیا گیا ہے، جیسا کہ عسقلانی سے مرقات میں مذکور ہے۔) حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس بیماری سے بیمار ہوئے جس میں آپ دنیا سے تشریف لے گئے (تو حضور کو معلوم ہو گیا کہ آپ اس بیماری میں دنیا سے تشریف لے جائیں گے، اس لئے آپ خود معوذات حسب عادت نہ پڑھتے اور نہ اپنے پر پھونک لئے مجھے حضور کی صحت کی یہ فکر تھی اس لئے) میں انہیں معوذات کو خود پڑھتی تھی اور حضور کے ہاتھوں پر پھونک کر حضور کے ہاتھوں کو ہی حضور کے جسم پر ملا کرتی تھی (تاکہ حضور کے ہاتھوں کی برکت سے اور ان معوذات کے پڑھنے سے حضور کو جلد صحت ہو جائے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Note 2

(مسلم کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ معوذات کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کرکے مریض کے جسم پر ملے بغیر صرف مریض کے جسم پر پھونک دینا بھی کافی ہے۔)