اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2363
شداد بن اوس اور ضحاک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ دونوں حضرات
ایک بیماری بیمار پرسی کے لئے گئے تھے وہاں جا کر اس بیمار سے دریافت کئے: کہو صاحب مزاج کیسا
ہے؟ تو بیمار نے کہا: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ) خدا کے فضل و کرم سے اچھا ہوں (یہ سن کر) شداد رضی اللہ عنہ
فرمائے سنو! تم کو ایک خوشخبری سناتا ہوں (باوجود بیمار ہونے کے تم جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کئے، اس
سے) تمہارے گناہ مٹائے گئے اور (عبادات میں) تم سے جو کوتاہیاں (ہوئے تھے وہ سب)
معاف کئے گئے (یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ) میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے (یہ حدیث قدسی) سنا ہوں آپ ارشاد فرما رہے تھے کہ اللہ بزرگ و برتر کا ارشاد ہے کہ جب
میں اپنے بندوں میں سے کسی بندۂ مومن کو کسی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہوں اور وہ (بجائے جزع و فزع
اور شکوہ شکایت کرنے کے) میرا شکر ادا کرتا ہے تو جب وہ صحت یاب ہو کر اپنے بستر سے اٹھتا ہے تو
گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوتا ہے جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے وقت گناہوں
سے پاک و صاف تھا (صرف گناہ ہی نہیں مٹائے جاتے ہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ (اپنے فضل و کرم سے
نیکیاں لکھنے والے فرشتے کو) حکم دیتے ہیں کہ میرے اس بندے کو میں نے ہی بیمار کیا تھا تم میرے
بندے کے (نامۂ اعمال میں اس کی صحت کے زمانہ میں جب وہ نیکیاں کرتا تھا نیکیاں لکھتے تھے، اب
بیماری کے زمانہ میں اس سے نیکیاں نہیں ہو سکتی ہیں تو بغیر نیکیاں کئے کے) نیکیاں کرنے کا ثواب
(بلا کسی کمی کے اس کے نامۂ اعمال میں) لکھتے جاؤ- (جب تک وہ تندرست ہو کر نیکیاں کرنا شروع
نہ کر دے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1579 (unverified) 55% confidence
Mishkat (candidate) 1579
Confidence and text similarity are not editorial verification.