English
Shaqiq (may Allah be pleased with him) narrated that Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) fell ill, and they visited him. He began to cry, and they scolded him. He said: "I am not crying because of the illness, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Illness is an expiation.' I am crying because it has afflicted me during a period of laxity, and not during a period of striving, for a servant is rewarded for the deeds he used to do before falling ill, but the illness prevents him from doing them"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٣٢ - وَعَنْ شَقِيقٍ (رضي الله عنه) قَالَ: مَرِضَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ فَعُدْنَاهُ، فَجَعَلَ يَبْكِيْ فَعُوْتِبَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَبْكِيْ لِأَجْلِ الْمَرَضِ؛ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: الْمَرَضُ كَفَّارَةٌ، وَإِنَّمَا أَبْكِيْ أَنَّهُ أَصَابَنِي عَلَى حَالِ فَتْرَةٍ، وَلَمْ يُصِبْنِي فِي حَالِ اجْتِهَادٍ لِأَنَّهُ يُكْتَبُ لِلْعَبْدِ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا مَرِضَ مَا كَانَ يُكْتَبُ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَمْرَضَ، فَمَنَعَهُ مِنْهُ الْمَرَضُ رَوَاهُ رَزِينُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2364
شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ (کے بڑھاپے کا زمانہ تھا ایسے وقت آپ) بیمار ہوئے، ہم (کئی شخص مل کر حضرت ابن مسعود کی)
بیمار پرسی کے لئے گئے (ہم حضرت ابن مسعود کو) دیکھے کہ آپ رو رہے ہیں، (ہم سمجھے کہ بیماری کی
تکلیف کی وجہ سے اور دنیا کے چھٹنے کے خیال سے آپ رو رہے؟ آپ کے اس مرتبہ اور شان کے
لحاظ سے آپ کا یہ رونا) ہم کو ناگوار گزرا (ہم عرض کئے حضرت بیماری کی وجہ سے اور دنیا چھٹنے کے
خیال سے آپ بھی روتے ہیں۔ یہ آپ کی شان کے مناسب نہیں ہے) تو (حضرت ابن مسعود)
فرمایا: (نہیں) میں بیماری کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں (مرض کی وجہ سے کیسے روتا جب) خود میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ بیماری (بیمار کے) سارے گناہوں کو مٹا دیتی ہے
(اور اس کو گناہوں سے پاک و صاف کر دیتی ہے، حضور سے یہ سننے کے بعد میں کیسے اس بیماری کی
وجہ سے روتا،) سنو! (جب کوئی شخص صحت کے زمانہ میں جو نیک اعمال کیا کرتا ہے اور بیمار ہونے کی
وجہ سے حسب عادت جو نیک عمل کیا کرتا تھا وہ اب بیماری میں نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم
سے نیکیاں لکھنے والے فرشتے کو فرماتے ہیں کہ صحت کے زمانہ میں وہ جو نیک اعمال کیا کرتا تھا اور تم جو
اس کا ثواب لکھا کرتے تھے اب اس بیماری میں بغیر اس کے نیک اعمال کئے کہ اس کے نامۂ اعمال
میں وہی ثواب لکھو جس کو وہ صحت کے زمانہ میں کیا کرتا تھا، گو اب وہ بیماری کی وجہ سے نیک اعمال
نہیں کر رہا ہے، کیا کہوں میں اپنی جوانی میں کثرت سے نیک اعمال کیا کرتا تھا، اگر جوانی میں بیمار ہوتا
تو بغیر نیک اعمال کے کثرت سے نیک اعمال کرنے کا ثواب ملتا) میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ
افسوس اب بیماری ضعیفی اور بڑھاپے کے زمانہ میں آئی ہے (بڑھاپے میں صحت کے زمانہ میں کثرت
سے نیک اعمال نہیں کر سکتا، اب یہ بڑھاپے کی بیماری میں نیک اعمال کا ثواب بھی ویسا ہی کم ملے گا
جیسا کہ بڑھاپے میں نیک اعمال کم کیا کرتا ہوں) جوانی کے زمانہ میں مجھے بیماری نہیں آئی (جوانی
کے زمانہ کے کثرت سے نیک اعمال کرنے کا ثواب اب نہیں ملے گا اس کا مجھے بڑا افسوس ہے ان
نیکیوں کے خسارے کی وجہ سے رو رہا ہوں) اس لئے کہ بندہ جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے لئے ان
نیک اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو بیماری سے پہلے (یعنی صحت کے زمانہ میں) لکھا جاتا تھا اور
بیماری نے اس کو ان اعمال سے روک دیا تھا۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔