العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٦٠ - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: «اسْتَحْيُوا مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ». قَالُوا : إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ. قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ، وَلَكِنْ مَنْ اسْتَحْيِي مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظُ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى إِلَى حِفْظِ الْبَطْنِ وَمَا حَوَى، وَلْيَذْكُرُ الْمَوْتَ وَالْبِلَى، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ اسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2458 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ“۔ (سورۃ مائدہ، پ:6، ع:8، آیت نمبر:54) (اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے محبت رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں) ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے: ”وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ“۔ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:20، آیت نمبر:165) (مسلمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں سے محبت کا تعلق ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ دوست دوست کے ساتھ مہربانیاں اور سرفرازیاں کرنا چاہتا ہے بعض موانعات کی وجہ سے سرفرازی نہیں کر سکتا ہے، جب موانعات اٹھ جاتے ہیں تو دوست کو سرفراز کرنے کا موقع ملتا ہے، ایسا ہی اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر مسلمانوں سے مہربانی کرنے کا اور ان کو سرفراز کرنے کا دنیا میں رہنے کی وجہ سے موقع نہیں مل رہا ہے گو دنیا میں بھی ان پر مہربان ہے اور ان کو سرفراز کر رہا ہے مگر آخرت میں جو مہربانیاں اور سرفرازیاں ہوں گی مسلمان کو دنیا میں رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہیں دے رہا ہے) مسلمانوں کو دنیا چھوڑ کر خاص مہربانیاں اور سرفرازیاں حاصل کرنے کے لئے آخرت میں جانا ضروری ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ موت جو مثل ایک تحفہ اور ہدیہ کے ہے اس کو بھیج کر مسلمان کو سرفراز کرنے کے لئے آخرت میں بلاتے ہیں اس لئے: