Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 7235 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5673 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
None of you should wish for death...
(1) His statement: "None of you should wish for death..." It is said in Radd al-Muhtar: "It is disliked to wish for death due to harm that has befallen one, as it is prohibited. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me.' This is mentioned in As-Siraj."
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا يتمنى أحدكم الموت إلخ : قال في رد المحتار»: قال في النهر»: ويكره تمني الموت بضرر نزل به؛ لنهي عن ذلك. فإن كان ولا بد فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي. كذا في «السراج».
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2877a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمان کے دو بازو ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی
طرف جانے کا راستہ بہت آسانی سے طے ہوتا ہے، ایک بازو تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف رہے جس کی
وجہ سے وہ گناہوں سے بچتا رہتا ہے اور دوسرا بازو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھے جس کی وجہ سے
مسلمان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھتا ہے، حالت صحت اور زندگی میں خوف خدا کو غالب رکھے
تاکہ گناہوں سے بچتا رہے اور مرنے کے وقت خوف کی ضرورت نہیں رہی، اس لئے کہ وہ وقت گناہ
کرنے کا نہیں ہے بلکہ موت کے وقت خدا کو رحیم، کریم، ستار، غفار جان کر مغفرت کی امید
دل میں لیا ہوا رہے، تاکہ خوش خوش خدا کے پاس جانے کے لئے تیار رہے، مرنے سے جی نہ
چرائے، یعنی مرنے کے وقت اگر خوف کی حالت رہی تو خدا کے سامنے ایسا جائے گا جیسے مالک کے
سامنے بھاگا ہوا غلام ڈرتا ہوا جاتا ہے اس لئے زندگی میں حتی الامکان نیکیاں کرتے رہے اور مرتے
وقت دل میں یہی امید مغفرت کی لیا ہوا رہے گا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسا جائے گا جیسے کوئی غلام مالک
کے حکم کی تعمیل کرکے مالک کے سامنے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہوئے خوش خوش جاتا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2458 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ“۔ (سورۃ مائدہ، پ:6، ع:8، آیت
نمبر:54) (اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے محبت رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں)
ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے: ”وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ“۔ (سورۃ
بقرہ، پ:2، ع:20، آیت نمبر:165) (مسلمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں) اس
سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں سے محبت کا تعلق ہے اور یہ قاعدہ
ہے کہ دوست دوست کے ساتھ مہربانیاں اور سرفرازیاں کرنا چاہتا ہے بعض موانعات کی وجہ سے
سرفرازی نہیں کر سکتا ہے، جب موانعات اٹھ جاتے ہیں تو دوست کو سرفراز کرنے کا موقع ملتا ہے، ایسا
ہی اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر مسلمانوں سے مہربانی کرنے کا اور ان کو سرفراز کرنے کا دنیا میں رہنے کی
وجہ سے موقع نہیں مل رہا ہے گو دنیا میں بھی ان پر مہربان ہے اور ان کو سرفراز کر رہا ہے مگر آخرت میں
جو مہربانیاں اور سرفرازیاں ہوں گی مسلمان کو دنیا میں رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہیں دے رہا ہے)
مسلمانوں کو دنیا چھوڑ کر خاص مہربانیاں اور سرفرازیاں حاصل کرنے کے لئے آخرت میں جانا
ضروری ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ موت جو مثل ایک تحفہ اور ہدیہ کے ہے اس کو بھیج کر مسلمان کو سرفراز
کرنے کے لئے آخرت میں بلاتے ہیں اس لئے:
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: "None of you should wish for death..." It is said in Radd al-Muhtar: "It is disliked to wish for death due to harm that has befallen one, as it is prohibited. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me.' This is mentioned in As-Siraj."
Note 1
(۱) قوله : لا يتمنى أحدكم الموت إلخ : قال في رد المحتار»: قال في النهر»: ويكره تمني الموت بضرر نزل به؛ لنهي عن ذلك. فإن كان ولا بد فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي. كذا في «السراج».