English
Ibrahim an-Nakha'i reported: "The people used to perform five, six, or four takbirs in funeral prayers until the Prophet (ﷺ) passed away. They continued to do so during the caliphate of Abu Bakr as-Siddiq (may Allah be pleased with him). When Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) became caliph, they did the same. Umar said to them, 'O companions of Muhammad (ﷺ), whenever you differ, the people after you will also differ. The people are still close to the era of ignorance. Agree on something that those after you can follow.' The companions of Muhammad (ﷺ) agreed to look at the last funeral prayer the Prophet (ﷺ) performed before his death and follow that, abandoning anything else. They found that the last funeral prayer the Messenger of Allah (ﷺ) performed consisted of four takbirs." [Narrated by Muhammad]
Ahmad and As-Tahawi narrated something similar.
العربية
Typed, pending editorial approval
٢١٠٦ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يُصَلُّوْنَ عَلَى الْجَنَائِزِ خَمْسًا وَسِئًا وَأَرْبَعًا حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ ، ثُمَّ كَبَرُوا كَذَلِكَ فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ، ثُمَّ وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ الله فَفَعَلُوْا ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ عُمَرُ : إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ مَتَى تَخْتَلِفُونَ تَخْتَلِفُ النَّاسُ بَعْدَكُمْ، وَالنَّاسُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجْمِعُوا عَلَى شَيْءٍ يَجْمَعُ عَلَيْهِ مَنْ بَعْدَكُمْ، فَأَجْمَعَ رَأْيَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ يَنْظُرُوا آخِرَ جَنَازَةٍ كَبَّرَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى قُبِضَ فَيَأْخُذُوْنَ بِهِ وَيَرْفَضُوْنَ مَا سِوَاهُ، فَنَظَرُوا فَوَجَدُوْا آخِرَ جَنَازَةٍ كَبَّرَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ وَالله أَرْبَعًا . رَوَاهُ مُحَمَّدٌ، وَرَوَى أَحْمَدُ وَالصَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2459
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں) آپ کی وفات تک صحابہ کرام کا یہ عمل رہا ہے کہ بعض صحابہ نماز جنازہ
پانچ تکبیرات کے ساتھ ادا فرماتے اور بعض چھ تکبیرات کے ساتھ اور بعض چار تکبیرات کے ساتھ نماز
جنازہ ادا فرماتے تھے، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی اسی طرح
اختلاف رہا کہ بعض صحابہ پانچ تکبیرات کے ساتھ بعض صحابہ چھ تکبیرات کے ساتھ اور بعض چار
تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا فرماتے تھے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو
(دور فاروقی میں بھی) اسی طرح اختلاف کے ساتھ نماز جنازہ ادا، ہوتی رہی، تو حضرت عمر رضی اللہ
عنہ (صحابہ کرام کو جمع فرمائے) اور ان سے کہے کہ آپ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
اصحاب ہیں، اگر آپ نماز جنازہ کی تکبیرات میں ایسا ہی اختلاف کرتے رہیں گے تو آپ کے بعد
آنے والے مسلمان بھی اسی طرح نماز جنازہ کی تکبیرات میں اختلاف کرتے رہیں گے، لوگ ابھی
ابھی جاہلیت کے دور سے گزر کر اسلام کی روشنی میں آئے ہیں، ابھی ان کے ذہنوں میں اختلافات کا
اثر باقی ہے (ایسا ہی ان کو نماز جنازہ کی تکبیرات میں اختلاف کرتا ہوا چھوڑنا مناسب نہیں) اس لئے
آئیے آپس میں مشورہ کر کے کسی ایک بات پر اتفاق کر لیں، ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی
ہمارے اتفاق کرنے کی وجہ سے آپس میں اتفاق کر لیں گے، آؤ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم آخری نماز جنازہ کتنے تکبیرات سے ادا فرمائے ہیں، اسی کو اختیار کرنا چاہیے، اس کے
سوائے پہلے جو عمل رہا ہے اس کو چھوڑ دینا چاہیے، سب مل کر، بہت غور کرکے تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری جنازہ پر چار تکبیرات کے ساتھ نماز پڑھائے ہیں۔ (جب یہ معلوم ہوا
کہ آخری جنازہ چار تکبیرات کے ساتھ ادا فرمائے ہیں تو سب صحابہ کا اجماع نماز جنازہ میں چار
تکبیرات پر ہوا۔)
اس حدیث کی روایت امام محمد نے کی ہے اور امام احمد اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے۔