اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
23-24/2464-2465-2466۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ
فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ جنازہ پڑھاتے تو (تیسری تکبیر کے بعد) یہ
دعا کیا کرتے تھے:
الٰہی! (یہ مردہ جس کا یہ جنازہ ہے، آپ کے فضل و کرم سے
بڑی بڑی امیدیں لگائے ہوئے حاضر ہو رہا ہے، الٰہی! اس کو بھی،
ایک اس کو ہی نہیں بلکہ) ہمارے سب زندوں اور مردوں کو آپ
بخش دیجئے (اس لئے کہ آپ کی مغفرت ہمارے گناہوں سے
زیادہ وسیع ہے اس لئے آپ کی عام مغفرت چاہتے، سب آپ کی
مغفرت پر نظر لگائے ہوئے ہیں۔)
اور جو حاضر ہیں ان کی بھی اور جو غائب ہیں ان کی بھی آپ
مغفرت فرما دیجئے (کسی کو اپنی مغفرت سے محروم نہ کیجئے، آپ
کریم ہیں آپ کے کرم سے ایسی ہی امید لگائے ہوئے ہیں۔
ایسے ہی ہمارے چھوٹے اور بڑے یعنی جوان اور بوڑھے
سب کی مغفرت فرما دیجئے (سب کو آپ سے مغفرت کی امید
ہے، جو بہت چھوٹے ہیں ان کے تو گناہ ہی نہیں، اس لئے ان کے
لئے مغفرت کی دعا نہیں کی گئی۔)
ہاں جو بالغ مرد ہیں یا عورتیں ہیں (ان کو بھی اپنی رحمت
سے مایوس نہ کیجئے) سب کی آپ مغفرت فرما دیجئے۔
(یوں تو آپ کی رحمت عام ہے مگر عاجزوں پر خاص طور
سے آپ رحم فرماتے ہیں، اس وقت یہ مردہ بہت عاجز ہو کر آپ
کے سامنے آ رہا ہے، اس پر آپ کی رحمت ہو رہی ہے، اس لئے
دل چاہتا ہے کہ ہم آپ کی رحمت سے یہ دعا ء کریں) الٰہی! ہم
جب تک زندہ رہیں ہم کو اپنے احکام کا فرماں بردار رکھئے۔
اور جب ہم مر رہے ہوں (اس وقت عمل کا موقع نہیں اس
وقت صرف تصدیق قلبی کی ضرورت ہے اس لئے ہم کو مرتے وقت
کامل تصدیق قلبی عطا کیجئے۔ آپ پر اور آپ کے رسول پر کامل
ایمان لے کر آپ کے پاس حاضر ہو جائیں
الٰہی! (اس مردہ کی وجہ سے ہم پر جو مصیبت آئی ہے) ہم
(بے صبری کر کے) ثواب سے محروم نہ رہیں، ہم کو صبر کی توفیق
دیجئے تاکہ ہم صبر کر کے اس مصیبت کا ثواب پائیں۔
اس مرنے والے کے بعد فتنے میں نہ پڑ جائیں (غم کی وجہ سے آپ
کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کریں بلکہ ہم اس مرنے والے کی موت سے
عبرت لیں، خود بھی مرنے کی تیاری میں لگ جائیں۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3201 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1498 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1025 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) His statement: "O Allah, forgive..." In Fath al-Qadir, it is mentioned: "One should supplicate in the third takbir for the deceased, for oneself, for one's parents, and for all Muslims. There is no specific restriction on the supplication except that it should pertain to matters of the Hereafter. If one supplicates with what is narrated, it is among the best and most eloquent supplications."
Note 2
(۲) قوله: اللهم اغفر إلخ وفي فتح القدير: ويدعو في الثالثة للميت ولنفسه ولأبويه وللمسلمين، ولا توقيت في الدعاء سوى أنه بأمور الآخرة، وإن دعا بالمأثور فمما أحسنه، وأبلغه.