Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals · Chapter 5

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

53 narrations · In source reading order

Hadith 2097

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2443
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب جنازہ لے کر چلو تو جلدی جلدی قدم بڑھا کر لے چلو (مگر ایسا نہ دوڑو کہ جنازہ کو ڈولہ میں حرکت ہونے لگے، جلدی جلدی اس لئے لے جاؤ کہ) اگر میت نیک اور صالح ہے تو اس کے لئے راحت و آرام کا جو سامان تیار ہے، میت کو وہاں جلد پہنچا دینا بہتر ہے اور اگر میت ایسی نہیں ہے (بلکہ بد ہے اور بدی میں اس کی عمر گزری ہے۔) تو سمجھو کہ ایک بدبودار مردہ ہے جلد سے جلد اس کو کندھوں سے اتار دینا نہایت مناسب ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Almighty says: "And do not pray [the funeral prayer, O Muhammad], over any of them who has died—ever." (Qur'an 9:84)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1315 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 944a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2098

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2444
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب جنازہ تیار کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اس کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں، اگر وہ نیک ہوتا ہے تو قبر میں اس کے لئے راحت و آرام کا جو سامان مہیا کیا گیا ہے ،اس کے پیش نظر ہو جاتا ہے تو مردہ چاہتا ہے کہ جلد سے جلد وہاں پہنچ جائے، اس لئے مردہ جنازہ اٹھانے والوں سے کہتا ہے دوستو! جلدی جلدی مجھے لے چلو (تاکہ میں اپنی قبر میں جو میرے راحت و آرام کا مقام تیار کیا گیا ہے جلد سے جلد وہاں پہنچ جاؤں) اگر مردہ نیک نہیں ہوتا ہے اور برائی کرتے ہوئے اس کی عمر گزری ہے تو اس کے سامنے قبر کی تکلیفیں اور مصیبتیں پیش ہوجاتی ہیں تو جنازہ اٹھانے والوں سے مردہ کہتا ہے لوگو! مجھے کہاں لے جارہے ہو (ہائے ہائے! افسوس مجھے لے جاکر عذاب کے گڑھے میں ڈالنا چاہتے ہو، کیا کروں؟ کیسے بچوں، مردہ کی اس حسرتناک اور عبرت ناک) پکار کو انسان کے سوائے سب سنتے ہیں۔ (اگر انسان اس پکار کو سن لے تو چیخ مار کر بے ہوش ہو کر گر جائے اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے) اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1314 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2099

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2445Noor 2446Noor 2447
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرمائے ہیں کہ (جب تم کہیں بیٹھے ہوئے ہوں اور جنازہ آ رہا ہو یا جنازہ سامنے سے گزر رہا ہو تو اس کے متعلق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے ہم کو حکم دے تھے کہ جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہو جائیں، ہم ایسا ہی کیا کرتے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم بعد میں دیکھے کہ جنازہ آتا ہوا (دیکھ کر) بیٹھے ہوئے رہتے تھے اور ہم کو بھی بیٹھے ہوئے رہنے کا حکم دیتے تھے۔ اس کی روایت امام احمد اور امام طحاوی نے کی ہے۔ اور امام مالک اور ابوداؤد کی روایت میں بھی ایسا ہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ آتا ہوا دیکھ کر پہلے کھڑے رہتے تھے پھر بعد میں آپ کی عادت شریفہ یہ رہی کہ جنازہ آتا ہوا دیکھ کر بیٹھے رہتے تھے۔ اور امام محمد رحمہ اللہ کی روایت میں بھی ایسا ہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ آتا ہوا دیکھ کر پہلے کھڑے ہو جایا کرتے تھے، پھر بعد میں آپ کی عادت شریفہ یہ رہی کہ آپ جنازہ آتا ہوا دیکھ کر بیٹھے رہتے تھے۔ امام محمد اسی طرح روایت کر کے فرمائے ہیں کہ: ہم اسی
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3175 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

حدیث کو لئے ہیں اور اسی پر ہمارا عمل درآمد ہے کہ جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑے نہیں ہونا چاہئے، بیٹھے ہوئے رہنا چاہئے، جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑا رہنا پہلے کا عمل ہے، پھر بعد میں اس کو چھوڑ دیا گیا اور اس پر عمل نہ رہا، اس لئے جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑا رہنا منسوخ ہے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ فتح القدیر میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے، رد المحتار میں بھی شرح المنیہ کے حوالے سے ایسا ہی لکھا ہے۔

Hadith 2100

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2448
محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم ایک جگہ تشریف فرما تھے، ان دونوں حضرات کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو حضرت حسن بن علی جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور حضرت ابن عباس جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے بلکہ بیٹھے ہوئے ہی رہے، (حضرت ابن عباس کو بیٹھا ہوا دیکھ کر) حضرت حسن بن علی ارشاد فرمائے: ابن عباس آپ کیوں کھڑے نہیں ہوئے، کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودی کا جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے (یہ تو مسلمان کا جنازہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کر کے آپ کو ضرور کھڑا رہنا چاہئے تھا) تو حضرت ابن عباس فرمائے: آپ جو فرمائے ہیں وہ بالکل سچ ہے (یہودی کا جنازہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کھڑے ہوئے تھے وہ پہلے کا واقعہ ہے) پھر (بعد میں جنازہ آتا ہوا دیکھ کر) حضور (کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے) بیٹھے ہوئے ہی رہتے تھے۔ (۳۱ اس سے معلوم ہوا کہ جنازہ آتا ہوا دیکھ کر کھڑے رہنا منسوخ ہوگیا)۔ اس حدیث کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1922 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1697 (unverified) 25% confidence

Mishkat (candidate) 1697

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2101

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2449
ابن سخبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازہ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے تو ہمارے سامنے سے ایک دوسرا جنازہ گزرا اور ہم اس جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہوگئے تو حضرت علیؓ ہم سے فرمائے کہ جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کیوں کھڑے ہوگئے، تو میں نے عرض کیا کہ، ہماری نظر صحابہ کرام پر رہتی ہے، جیسے وہ حضرات کرتے ہیں ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں، صحابہ کرام کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہوا کرتے ہیں، اس لئے، ہم بھی کھڑے ہوگئے ہیں، چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب تم کسی مسلم یا یہودی یا نصرانی کے جنازہ کو آتا ہوا دیکھو تو کھڑے ہوجایا کرو، اس لئے کہ تم جنازہ (کی تعظیم) کے لئے نہیں کھڑے رہے ہو بلکہ جنازہ کے ساتھ جو فرشتے رہتے ہیں ان (کی تعظیم) کے لئے کھڑے ہوتے ہو (یہ ابو موسیٰ صحابی ہیں ان کے اس ارشاد کو سن کر ہم کھڑے ہوئے ہیں) یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک مرتبہ جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے (اور جنازہ کو دیکھ کر فرشتوں کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کا حکم دے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب تک کسی بارے میں صریح حکم نازل نہ ہو، آپ اہل کتاب کی مشابہت اختیار فرما لیا کرتے تھے اور جس امر میں اہل کتاب کی مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہوجاتی تھی، اس کو آپ ترک فرما دیتے تھے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا اہل کتاب کی مشابہت سے تھا کہ اہل کتاب جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے، پھر جب آپ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کی ممانعت کی گئی تو باوجود یہ کہ اس میں فرشتوں کی تعظیم تھی مگر ممانعت کی وجہ سے آپ جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا ترک فرما دئے، اس لئے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا منسوخ ہوگیا۔) اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

Hadith 2102

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2450Noor 2451Noor 2452
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب تم کسی جنازہ کے ساتھ چلو تو جب تک جنازہ کندھوں سے نہ اتار دیں مت بیٹھا کرو۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور ابوداؤد کی دوسری روایت میں ایسا ہے کہ جب تم کسی جنازہ کے ساتھ ہوں تو جب تک جنازہ زمین پر نہ رکھ دیا جائے نہ بیٹھا کرو۔ اور ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلے عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ جب کسی جنازہ کے ساتھ چلتے تو جب تک کہ جنازہ کندھوں سے اتار کر قبر میں نہ رکھ دیا جاتا تو آپ اس وقت تک زمین پر نہیں بیٹھا کرتے تھے، ایک مرتبہ یہودیوں کا ایک عالم حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو دیکھ کر کہنے لگا، (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!) جیسے آپ جنازہ کو قبر میں رکھنے تک نہیں بیٹھا کرتے ہیں، عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودی عالم سے یہ سن کر (جنازہ قبر میں رکھنے کا انتظار نہیں فرماتے تھے بلکہ جنازہ کندھوں سے اتار کر زمین پر رکھنے کے بعد ہی) بیٹھ جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہودی کی مخالفت کر کے بیٹھنے کے لئے جنازہ قبر میں اتارنے کا انتظار نہ کرو بلکہ جنازہ کندھوں سے اتار کر زمین پر رکھنے کے بعد ہی بیٹھ جایا کرو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3173 (unverified) 75% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Differ from them.

(1) His statement: "Differ from them." Therefore, it is disliked to sit before the funeral is placed, i.e., before it is taken off the shoulders of the carriers, as this is in imitation of them and a readiness to assist them. Once it is placed on the ground, there is no harm in sitting.

Note 1

قوله

(۱) قوله: خالفوهم لذلك قال في شرح النقاية وكره الجلوس قبل وضعها، أي عن أعناق الرجال موافقة لهم واستعدادا لإعانتهم، فإذا وضعت على الأرض فلا بأس بالجلوس.

Note 1

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جب جنازہ کے ساتھ چلیں تو جنازہ کندھوں سے اتار کر زمین پر رکھنے سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جنازہ قبر میں اتارنے کا انتظار کر کے کھڑے رہنا بھی مکروہ ہے۔

Hadith 2103

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2453
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مسلمان کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ ساتھ چلا اور اس سے اس کی کوئی اور غرض نہیں ہے بلکہ صرف ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے، پھر اس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھا اور اس کے دفن کرنے میں بھی شریک رہا (لوگ اس کے اس عمل کو معمولی سمجھتے ہوں گے نہیں اس کا یہ عمل ایسا ہے کہ جس کا) ثواب اس کو دو قیراط ملا ہے اور ہر قیراط کے ثواب کی مقدار اُحد کے پہاڑ کے برابر ہوتی ہے اور اگر کوئی صرف نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس ہو گیا اور دفن میں شریک نہ رہا (تو یہ بھی کچھ کم نہیں) صرف نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس ہونے والے کو ایک قیراط ثواب ملتا ہے جو اُحد کے پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 47 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 945a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2104

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2454Noor 2455Noor 2456Noor 2457
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک روز صحابہ کرام کے ساتھ مسجد نبوی۔ جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔12- میں تشریف فرما تھے، یکایک حضور کو کشف ہوا کہ حبش کے شاہ نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے اسی وقت حضور) شاہ نجاشی کی موت کی خبر صحابہ کرام کو دیئے اور صحابہ کرام سے فرمائے کہ شاہ حبش نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے عیدگاہ چلو (باوجود یہ کہ حضور نجاشی کی موت کا کشف ہونے کے وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، مسجد میں نمازِ جنازہ نہ پڑھ کر) صحابہ کو لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور عیدگاہ میں نمازِ جنازہ اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے، صاحبو! (مجھے کشف سے ظاہر ہوا ہے کہ) تمہارے بھائی نجاشی کی وفات ہوگئی ہے، چلو ان کی نمازِ جنازہ ادا کریں۔ یہ ارشاد فرما کر حضور بھی اٹھے اور صحابہ بھی اٹھے اور صحابہ کی صفیں درست فرما کر حضور چار تکبیرات کے ساتھ نجاشی کی نمازِ جنازہ ادا فرمائے، صحابہ فرماتے ہیں ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ہم کو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ نجاشی کا جنازہ حضور کے سامنے رکھا ہوا ہے اور حضور جنازہ دیکھ کر نماز ادا فرما رہے ہیں۔ اور ابو عوانہ کی روایت میں اس طرح مروی ہے، صحابہ فرماتے ہیں کہ جب ہم حضور کی اقتداء میں نجاشی کی نمازِ جنازہ ادا کر رہے تھے تو ہم کو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ (نجاشی کا جنازہ غائب نہیں ہے بلکہ) ہمارے سامنے رکھا ہوا ہے۔ اور طبرانی نے اپنی معجم اوسط میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، ابو امامہؓ فرماتے ہیں ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے (ایک دن) جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور فرمائے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کا انتقال ہوگیا ہے، کیا آپ پسند فرماتے ہیں کہ آپ کے لئے زمین سمیٹ دی جائے (اور معاویہ بن معاویہ مزنی کا جنازہ آپ کے سامنے ہو جائے) اور آپ ان کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، حضور ارشاد فرمائے بہت اچھا، تو جبرئیل
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1245 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 951a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (8)

Note 2

The prayer ground...

(2) His statement: "The prayer ground..." This is evidence for the Hanafi and Maliki schools in prohibiting praying over the deceased in the mosque, as the Prophet (ﷺ) took them to the prayer ground, lined them up, and prayed over him there. If it were permissible to pray over the deceased in the mosque, he would not have taken them to the prayer ground. This is mentioned in Umdat al-Qari.

Note 3

He lined them up...

(3) His statement: "He lined them up..." Ash-Shafi'i held that it is permissible to pray over an absent person (gha'ib). According to Abu Hanifah, it is not permissible and is invalid. As for the Prophet's prayer over Negus, it was because his bier was raised for him so that he could see it in his presence. Thus, the prayer of those behind him was over a deceased person whom the Imam could see and was present for, even if the followers could not see him. This does not prevent following the Imam. Al-Hafiz Ibn Hajar al-Asqalani, quoting Asbab an-Nuzul by Al-Wahidi without a chain, reported from Ibn Abbas that the Prophet (ﷺ) was shown Negus's bier, so he saw it and prayed over him. In Maghazi al-Waqidi: When the people met at Mu'tah, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the pulpit, and the distance between him and Syria was shortened for him so that he could see their battlefield. He said, "Zayd ibn Harithah took the flag and fought until he was martyred." The Prophet (ﷺ) prayed over him and supplicated for him, saying, "Seek forgiveness for him; he has entered Paradise, running." Then Ja'far ibn Abi Talib took the flag and fought until he was martyred. The Messenger of Allah (ﷺ) prayed over him and supplicated for him, saying, "Seek forgiveness for him; he has entered Paradise and is flying there with two wings wherever he wishes." This indicates that many of his companions, including the most beloved to him, such as the reciters of the Qur'an, died, and it is not reported that he prayed over them despite his eagerness to do so. He even said, "None of you should die without informing me, for my prayer over him is a mercy for him." This is the summary of what is mentioned in Al-Mirqat, Ad-Durr al-Mukhtar, Radd al-Muhtar, Sharh al-Munyah, and Fath al-Qadir.

Note 4

He performed four takbirs...

(4) His statement: "He performed four takbirs..." This indicates that the funeral prayer consists of four takbirs. This is mentioned in Umdat al-Qari.

Note 2

قوله

(٢) قوله: المصلي: وفيه حجة للحنفية والمالكية في منع الصلاة على الميت في المسجد؛ لأنه خرج بهم إلى المصلى، فصف بهم، وصلى عليه، ولو ساغ أن يصلي عليه في المسجد لما خرج بهم إلى المصلى. قاله في «عمدة القاري.

Note 3

قوله

(۳) قوله: فصف بهم إلخ ذهب الشافعي إلى جواز الصلاة على الغائب. وعند أبي حنيفة لا تجوز، ولا تصح. وأما صلاته على النجاشي؛ لأنه رفع سريره له حتى رآه بحضرته، فتكون صلاة من خلفه على ميت يراه الإمام ويحضره دون المأمومين، وهذا غير مانع من الاقتداء. وذكر الحافظ ابن حجر العسقلاني ناقلا عن أسباب النزول للواحدي بغير إسناد عن ابن عباس قال: كشف للنبي ﷺ عن سرير النجاشي حتى رآه، وصلى عليه. وفي مغازي الواقدي: لما التقى الناس بموتة جلس رسول الله له على المنبر، وكشف له ما بينه وبين الشام، فهو ينظر إلى معتركهم. فقال : أخذ الراية زيد بن حارثة ، فمضى حتى استشهد، وصلى عليه ودعا له، وقال: استغفروا له دخل الجنة وهو يسعى، ثم أخذ الراية جعفر بن أبي طالب، فمضى حتى استشهد، فصلى عليه رسول الله ﷺ ودعا له، وقال: استغفروا له دخل الجنة، فهو يطير فيها بجناحين حيث شاء. ويدل على ذلك أنه توفي خلق كثير من أصحابه من أعزهم عليه القراء، ولم ينقل عنه أنه صلى عليهم مع حرصه على ذلك، حتى قال: لا يموتن أحد منكم إلا آذنتموني به؛ فإن صلاتي عليه رحمة له. هذا حاصل ما في المرقاة» و«الدر المختار» ورد المحتار» وشرح «المنية» و «فتح القدير».

Note 4

قوله

(٤) قوله: وكبر أربع تكبيرات يدل على أن تكبيرات الجنازة أربع. كذا في «عمدة القاري».

Note 1

ادا فرمائے اگر نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنا جائز ہوتا تو مسجد ہی میں حضور نجاشی کی نماز جنازہ ادا فرماتے، اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔) جب حضور سب صحابہ کو لے کر عیدگاہ میں نجاشی کی نماز جنازہ ادا فرما رہے تھے تو حضور پہلے صفیں درست فرمائے، (بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرما رہے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ حضور کو کشف ہو گیا تھا اور نجاشی کا جنازہ حضور کے سامنے آ گیا تھا اور حضور جنازہ کو دیکھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اب رہا یہ شبہ کہ صحابہ جو مقتدی تھے ان کو نجاشی کا جنازہ نظر نہیں آ رہا تھا تو پھر صحابہ کی نماز جنازہ کیسے ادا ہو گئی، اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ امام کے سامنے جنازہ کا ہونا ضروری ہے، مقتدیوں کو بھی جنازہ نظر آنا ضروری نہیں، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مقتدیوں کو بھی جنازہ نظر آنا ضروری نہیں ہے۔ امام کا جنازہ کو دیکھنا کافی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو امام تھے، جنازہ کا نظر آنا کافی تھا، اس لئے نجاشی کی نماز جنازہ غائبانہ نہیں ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجاشی کا جنازہ نظر آ رہا تھا جو کہا گیا ہے اس پر دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ روایت ہے جس کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ واحدی کی کتاب اسباب النزول سے نقل کیا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے نجاشی کا جنازہ بطور کشف ظاہر ہو گیا تھا اور حضور جنازہ کو آنکھوں سے دیکھ کر نماز جنازہ ادا فرمائے ہیں اور حضور نا غائبانہ نماز جنازہ نہیں ادا فرمائے ہیں۔ نجاشی کے جنازہ کا حضور کو جو کشف ہوا تھا، یہ کوئی نئی بات نہیں تھی اور مواقع پر بھی حضور کو ایسا کشف ہوا ہے، جیسا کہ علامہ واقدی نے اپنی مغازی میں لکھا ہے کہ جب ملک شام میں جنگ موتہ ہو رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنگ کے پورے منظر کا کشف ہو گیا تھا، آپ منبر پر تشریف فرما ہو کر ارشاد فرما رہے تھے کہ میں موتہ کا میدان جنگ اس وقت دیکھ رہا ہوں، دیکھو زید بن حارثہ اس وقت سپہ سالار ہو گئے ہیں اور پرچم اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں اور کفار سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، زید بن حارثہ کا جنازہ اس وقت میرے سامنے ہے یہ فرما کر حضورؐ حضرت زید کی نماز جنازہ پڑھے اور دعاء مغفرت فرمائے اور یہ بھی فرمائے کہ تم بھی ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ دیکھو وہ جنت میں داخل ہو چکے ہیں اور خوش خوش جنت میں پھر رہے ہیں۔ پھر حضور فرمائے دیکھو اب پرچم کو جعفر بن ابی طالب سنبھالے ہیں اور بہت گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے، وہ بھی کفار سے لڑتے ہوئے کفار کے ہاتھوں شہید ہو گئے ہیں، ان کا جنازہ بھی میرے سامنے ہے۔ یہ فرما کر حضور ؐ حضرت جعفر کی نماز جنازہ ادا فرمائے اور ان کے لئے دعاء مغفرت فرمائے اور یہ بھی فرمائے کہ تم بھی ان کے لئے دعاء مغفرت کرو، وہ بھی جنت میں داخل ہو چکے ہیں اور میدان جہاد میں ان کے جو دونوں بازو کاٹ دئے گئے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے ان کو دو بازو عطا فرمائے ہیں اور ان کے ذریعہ جنت میں وہ جہاں چاہیں اڑ رہے ہیں، حضور کا نجاشی کے جنازہ کو دیکھ کر نماز جنازہ اداء فرمانے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ اور بھی صحابہ مثلاً قراء وغیرہ جو دور دراز مقام پر شہید ہوئے یا وفات پائے ان کے جنازوں کا حضور کو کشف نہیں ہوا تھا، اس لئے آپ ان کی نماز جنازہ ادا نہیں فرمائے اور اگر آپ ان کی نماز جنازہ ادا فرماتے تو غائبانہ نماز جنازہ ہوتی، اس لئے آپ ان صحابہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا نہیں فرمائے، اس وجہ سے کہ آپ غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، حالانکہ حضور کو صحابہ کی نمازِ جنازہ پڑھنے کا بے حد خیال تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی انتقال کر جائے تو مجھے اس کی اطلاع کرنا اس لئے کہ میرا ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا ان کے لئے رحمت کا باعث ہے، اس کے باوجود (حضور کا ان صحابہ پر جو دور دراز مقام پر وفات پائے ہوں، غائبانہ نمازِ جنازہ نہ پڑھنا اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ غائبانہ نمازِ جنازہ جائز نہیں ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔) راوی کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفیں درست فرما لئے تو چار تکبیروں کے ساتھ (نجاشی کی) نمازِ جنازہ ادا فرمائے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ نمازِ جنازہ کی چار ہی تکبیریں ہیں اور یہی مذہب حنفی ہے) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Note 2

علیہ الصلوٰۃ والسلام زمین پر اپنے پر مارے (اور زمین سمٹ گئی اور معاویہ بن معاویہ مزنی) کا جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاویہ مزنی کی نماز جنازہ پڑھائے اور آپ کے پیچھے (صحابہ کرام کے علاوہ) فرشتوں کی دو صفیں بھی نماز جنازہ میں شریک تھیں، اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت فرمائے کہ معاویہ مزنی کو اتنا بڑا مرتبہ کس وجہ سے ملا، تو جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمائے کہ معاویہ مزنی کو یہ مرتبہ اس وجہ سے ملا ہے کہ وہ سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ سے (اس قدر) محبت رکھتے تھے کہ اس سورت کو آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں پڑھا کرتے تھے۔ (ابن حبان، ابوعوانہ اور طبرانی کی ان تینوں روایتوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی دور دراز مقام پر وفات پانے والے صحابی کی نماز جنازہ ادا، فرمائے ہیں تو جنازہ حضور کے سامنے ہو جاتا تھا اور حضور جنازہ کو دیکھ کر نماز جنازہ ادا، فرماتے تھے اور ایسے صحابہ جو دور دراز مقام پر وفات پائے اور ان کا جنازہ حضور کے سامنے نہ آتا، تو آپ ان کی نماز جنازہ غائبانہ نہیں ادا، فرمائے۔)

Hadith 2105

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2458
سلمان المؤذن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب ابو شریحہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ان کی نماز جنازہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ پڑھائے نماز جنازہ کو چار تکبیرات سے ادا، فرمائے، ہم دریافت کئے نماز جنازہ کو آپ چار تکبیرات سے کیوں ادا، فرمائے (اور لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی پانچ تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا، کرتے ہیں اور کوئی چھ تکبیرات کے ساتھ) تو حضرت زید بن ارقم جواب دئے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح چار تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا، فرماتے دیکھا ہوں۔ (اور اسی وجہ سے میں بھی چار تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا، کیا ہوں۔) اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

Hadith 2106

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2459
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں) آپ کی وفات تک صحابہ کرام کا یہ عمل رہا ہے کہ بعض صحابہ نماز جنازہ پانچ تکبیرات کے ساتھ ادا فرماتے اور بعض چھ تکبیرات کے ساتھ اور بعض چار تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا فرماتے تھے، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی اسی طرح اختلاف رہا کہ بعض صحابہ پانچ تکبیرات کے ساتھ بعض صحابہ چھ تکبیرات کے ساتھ اور بعض چار تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا فرماتے تھے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو (دور فاروقی میں بھی) اسی طرح اختلاف کے ساتھ نماز جنازہ ادا، ہوتی رہی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ (صحابہ کرام کو جمع فرمائے) اور ان سے کہے کہ آپ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں، اگر آپ نماز جنازہ کی تکبیرات میں ایسا ہی اختلاف کرتے رہیں گے تو آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اسی طرح نماز جنازہ کی تکبیرات میں اختلاف کرتے رہیں گے، لوگ ابھی ابھی جاہلیت کے دور سے گزر کر اسلام کی روشنی میں آئے ہیں، ابھی ان کے ذہنوں میں اختلافات کا اثر باقی ہے (ایسا ہی ان کو نماز جنازہ کی تکبیرات میں اختلاف کرتا ہوا چھوڑنا مناسب نہیں) اس لئے آئیے آپس میں مشورہ کر کے کسی ایک بات پر اتفاق کر لیں، ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی ہمارے اتفاق کرنے کی وجہ سے آپس میں اتفاق کر لیں گے، آؤ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نماز جنازہ کتنے تکبیرات سے ادا فرمائے ہیں، اسی کو اختیار کرنا چاہیے، اس کے سوائے پہلے جو عمل رہا ہے اس کو چھوڑ دینا چاہیے، سب مل کر، بہت غور کرکے تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری جنازہ پر چار تکبیرات کے ساتھ نماز پڑھائے ہیں۔ (جب یہ معلوم ہوا کہ آخری جنازہ چار تکبیرات کے ساتھ ادا فرمائے ہیں تو سب صحابہ کا اجماع نماز جنازہ میں چار تکبیرات پر ہوا۔) اس حدیث کی روایت امام محمد نے کی ہے اور امام احمد اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔

Hadith 2108

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2461Noor 2462
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ میں (سورہ فاتحہ یا) قرآن کا کوئی سورہ یا کوئی آیت (کسی تکبیر کے بعد) کبھی نہیں پڑھے ہیں۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (اور نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہ فاتحہ یا قرآن کی کوئی سورۃ یا آیت کا پڑھنا مقرر فرمائے ہیں۔) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قرآن کی کوئی سورت یا آیت کا پڑھنا
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 538 (unverified) 35% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1660 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1660

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He did not recite in the funeral prayer...

(1) His statement: "He did not recite in the funeral prayer..." It is said in Tabaqat al-Athar: "What is narrated about recitation is understood to be with the intention of supplication." In Ad-Durr al-Mukhtar, it is stated: "Ash-Shafi'i specified Al-Fatihah in the first takbir. According to us, it is permissible with the intention of supplication but disliked with the intention of recitation, as there is no evidence that the Prophet (ﷺ) recited it in the funeral prayer." Ibn al-Malik mentioned the hadith of Tirmidhi: "He recited Al-Fatihah in the funeral prayer." Ash-Shafi'i said, "I say: Without specifying whether the recitation was over the deceased, during the prayer, or after any of the takbirs, the hadith cannot be used as evidence." In Radd al-Muhtar, it is stated: "It is apparent that Al-Fatihah with the intention of supplication takes the place of praise, based on the apparent narration that it is recommended to praise after the first takbir. It is disliked with the intention of recitation." In Al-Bahr, it is mentioned: "It is not permissible because the funeral prayer is a place for supplication, not recitation." This is also stated in Al-Walwaljiyah and At-Tatarkhaniyah, and it appears that the dislike is of a prohibitive nature. The statement in Al-Quniyah: "If he recites Al-Fatihah, it is permissible," means if he recites it with the intention of supplication, to align with what others have mentioned. Alternatively, it may mean that the permissibility refers to validity, but the statements in Al-Quniyah are not acted upon if they contradict others. The statement of Ash-Sharnbulali in his treatise: "It is permissible to recite it," is questionable, as is the statement of Mulla Ali al-Qari: "It is recommended to recite it with the intention of supplication to avoid differing with Imam Ash-Shafi'i." This is also questionable because, according to Ash-Shafi'i, it is only valid with the intention of recitation, and one should not recite it with the intention of recitation and commit a disliked act in his school to accommodate another school, as explained earlier in the book.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كان لا يقرأ في الصلاة على الجنازة وقال في تابع الآثار»: وما روي من القراءة محمول على ما كان نية الدعاء. وقال في الدر المختار» وعين الشافعي الفاتحة في الأولى، وعندنا تجوز بنية الدعاء وتكره بنية القراءة؛ لعدم ثبوتها فيها عنه . قال ابن الملك بحديث الترمذي قرأ على الجنازة بفاتحة الكتاب قال الشافعي، قلت: مع عدم تعيين دلالته على أن القراءة كانت على الميت، أو في الصلاة عليه، أو بعد أي تكبيرة من تكبيراتها، والحديث لا يصحالاستدلال به. وقال في رد المحتار: والظاهر أن الفاتحة بنية الدعاء تقوم مقام الثناء على ظاهر الرواية من أنه يُسَنُّ بعد الأولى التحميد، وتكره بنية القراءة. قال في البحر» عن التجنيس» و «المحيط»: لا يجوز؛ لأنها محل الدعاء دون القراءة ومثله في الولوالجية» و«التاتارخانية وظاهره أن الكراهة تحريمية، وقول «القنية»: لو قرأ الفاتحة جاز أي لو قرأها بنية الدعاء؛ ليوافق ما ذكره غيره أو أراد بالجواز الصحة على أن كلام القنية» لا يعمل به إذا عارضه غيره، فقول الشرنبلالي في رسالته: إنه نص على جواز قراءتها فيه نظر ظاهر لما علمته، وقوله وقول ملا علي القاري أيضًا: يستحب قراءتها بنية الدعاء؛ خروجا من خلاف الإمام الشافعي فيه نظر أيضًا؛ لأنها لا تصح عنده إلا بنية القرآن، وليس له أن يقرأها بنية القراءة، ويرتكب مكروه مذهبه ليراعى مذهب غيره، كما مر تقريره أول الكتاب.

Note 1

مقرر نہیں فرمائے ہیں، اور ابن بطال نے کہا ہے کہ صحابہ کرام میں سے حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت نہیں پڑھا کرتے تھے اور جو کوئی پڑھے اس پر انکار کیا کرتے اور اس کو ناپسند کیا کرتے تھے، اور ابن بطال نے یہ بھی کہا ہے کہ تابعین میں سے عطاء، طاؤس، سعید بن المسیب، ابن سیرین، سعید بن جبیر شعبی اور الحکم یہ سب حضرات بھی نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت نہیں پڑھا کرتے اور اگر کوئی پڑھتے تو اس پر انکار کرتے اور اس کو ناپسند کیا کرتے تھے۔ اور ابن منذر نے کہا ہے کہ اسی کے قائل مجاہد، حماد اور ثوری ہیں اور وہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ یا قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت نہ پڑھی جائے اور امام مالک نے فرمایا ہے کہ ہمارے شہر مدینہ منورہ میں نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے پر بالکل عمل نہیں ہے (مذہب حنفی بھی یہی ہے) یہ پورا مضمون عمدۃ القاری میں مذکور ہے اور شرح نقایہ میں بھی اسی طرح لکھا ہے۔

Hadith 2109

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2463
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب تم نمازِ جنازہ پڑھو تو (نماز جنازہ میں) مردہ کے لئے بہت خلوص سے دعاء مغفرت کرو۔) نمازِ جنازہ میت کی دعاء مغفرت کے لئے ہی ہے، اس میں سورہ فاتحہ یا قرآن کی کوئی اور سورت کا پڑھنا نہیں ہے، جیسے اور نمازوں میں ہے۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3199 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.685
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1497 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

When you pray over the deceased...

(1) His statement: "When you pray over the deceased..." This means that reciting the Qur'an is neither obligatory nor recommended in the funeral prayer according to us, i.e., with the intention of recitation. However, if one recites Al-Fatihah with the intention of praise, it is permissible. This is mentioned in Al-Ashbah. The basis for this is this hadith, as stated in Umdat ar-Ri'ayah.

Note 1

قوله

(۱) قوله : إذا صليتم إلخ : أي لا تجب ولا تسن عندنا قراءة القرآن فيها، أي بنية القرآن، فلو قرأ الفاتحة بنية الثناء جاز. كذا في «الأشباه». والأصل فيه هذا الحديث. كذا في عمدة الرعاية».

Hadith 2110

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
23-24/2464-2465-2466۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ جنازہ پڑھاتے تو (تیسری تکبیر کے بعد) یہ دعا کیا کرتے تھے: الٰہی! (یہ مردہ جس کا یہ جنازہ ہے، آپ کے فضل و کرم سے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہوئے حاضر ہو رہا ہے، الٰہی! اس کو بھی، ایک اس کو ہی نہیں بلکہ) ہمارے سب زندوں اور مردوں کو آپ بخش دیجئے (اس لئے کہ آپ کی مغفرت ہمارے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے اس لئے آپ کی عام مغفرت چاہتے، سب آپ کی مغفرت پر نظر لگائے ہوئے ہیں۔) اور جو حاضر ہیں ان کی بھی اور جو غائب ہیں ان کی بھی آپ مغفرت فرما دیجئے (کسی کو اپنی مغفرت سے محروم نہ کیجئے، آپ کریم ہیں آپ کے کرم سے ایسی ہی امید لگائے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ہمارے چھوٹے اور بڑے یعنی جوان اور بوڑھے سب کی مغفرت فرما دیجئے (سب کو آپ سے مغفرت کی امید ہے، جو بہت چھوٹے ہیں ان کے تو گناہ ہی نہیں، اس لئے ان کے لئے مغفرت کی دعا نہیں کی گئی۔) ہاں جو بالغ مرد ہیں یا عورتیں ہیں (ان کو بھی اپنی رحمت سے مایوس نہ کیجئے) سب کی آپ مغفرت فرما دیجئے۔ (یوں تو آپ کی رحمت عام ہے مگر عاجزوں پر خاص طور سے آپ رحم فرماتے ہیں، اس وقت یہ مردہ بہت عاجز ہو کر آپ کے سامنے آ رہا ہے، اس پر آپ کی رحمت ہو رہی ہے، اس لئے دل چاہتا ہے کہ ہم آپ کی رحمت سے یہ دعا ء کریں) الٰہی! ہم جب تک زندہ رہیں ہم کو اپنے احکام کا فرماں بردار رکھئے۔ اور جب ہم مر رہے ہوں (اس وقت عمل کا موقع نہیں اس وقت صرف تصدیق قلبی کی ضرورت ہے اس لئے ہم کو مرتے وقت کامل تصدیق قلبی عطا کیجئے۔ آپ پر اور آپ کے رسول پر کامل ایمان لے کر آپ کے پاس حاضر ہو جائیں الٰہی! (اس مردہ کی وجہ سے ہم پر جو مصیبت آئی ہے) ہم (بے صبری کر کے) ثواب سے محروم نہ رہیں، ہم کو صبر کی توفیق دیجئے تاکہ ہم صبر کر کے اس مصیبت کا ثواب پائیں۔ اس مرنے والے کے بعد فتنے میں نہ پڑ جائیں (غم کی وجہ سے آپ کی شان میں کوئی بے ادبی نہ کریں بلکہ ہم اس مرنے والے کی موت سے عبرت لیں، خود بھی مرنے کی تیاری میں لگ جائیں۔) اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3201 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1498 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1025 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

O Allah, forgive...

(2) His statement: "O Allah, forgive..." In Fath al-Qadir, it is mentioned: "One should supplicate in the third takbir for the deceased, for oneself, for one's parents, and for all Muslims. There is no specific restriction on the supplication except that it should pertain to matters of the Hereafter. If one supplicates with what is narrated, it is among the best and most eloquent supplications."

Note 2

قوله

(۲) قوله: اللهم اغفر إلخ وفي فتح القدير: ويدعو في الثالثة للميت ولنفسه ولأبويه وللمسلمين، ولا توقيت في الدعاء سوى أنه بأمور الآخرة، وإن دعا بالمأثور فمما أحسنه، وأبلغه.

Hadith 2111

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
26/2467-2468 عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھائے (اور میں بھی اس وقت حاضر تھا، تیسری تکبیر کے بعد مردہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو دعاء فرمائے، کیا کہوں وہ کیسی دعاء تھی، مجھے خوب یاد ہے کہ) اس دعاء کے الفاظ یہ تھے: الٰہی! اس مردہ کی (جس کا یہ جنازہ ہے اس کے گناہوں کو مٹا کر) مغفرت فرما دیجئے (اس کے نیکیاں قبول کر کے) اس پر رحمت نازل فرمائیے: (اس کو عذاب سے بچا کر) عافیت میں رکھئے (اور اس سے جو جو قصور اور کوتاہیاں ہوئی ہے، ان کو نظر انداز کر کے) معاف فرمائیے، (جیسے کریم مہمان نوازی کرتا ہے، ایسا ہی آپ تو سب سے زیادہ کریم ہیں) اس کی بہت عزت کے ساتھ مہمان نوازی کیجئے اور اس کی قبر کو بہت وسیع کر دیجئے۔ (الٰہی! جب ہم کسی کپڑے کو پاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کو پانی برف اور اولے سے دھویا کرتے ہیں، ایسا ہی) آپ اس کے تمام گناہوں کو ختم قسم کی مغفرت سے بالکل پاک و صاف کر دیجئے، جیسے سفید کپڑے کو خاص اہتمام سے دھویا جاتا ہے تا کہ اس میں کوئی دھبہ نہ رہے، ایسا ہی اس کے تمام گناہوں کو صغیرہ ہوں یا کبیرہ، حقوق اللہ ہوں، یا حقوق العباد اپنے فضل و کرم سے ایسا معاف کر دیجئے کہ کوئی گناہ باقی نہ رہے، (اب یہ اپنے گھر کو اور اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر آپ کے پاس آ رہا ہے) تو اس کے گھر سے بہتر آپ اپنے پاس اس کو گھر دیجئے اور اس کے خادموں سے، بہتر اس کو خادم دیجئے اور اس کی بیوی سے بہتر اس کو بیوی دیجئے (تا کہ یہ دنیا کی کسی چیز کو یاد نہ کرے، ہم کو آپ کی رحمت سے بڑی امید ہے۔) اس کو قبر اور دوزخ کے عذاب سے بچا کر جنت میں داخل کر دیجئے (تو سب کچھ اس کو مل جاتا ہے۔) راوی حدیث عوف بن مالک کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا تو میں آرزو کرنے لگا کہ کاش یہ مردہ میں ہوتا تو اچھا تھا۔ (کہ یہ دعاء میرے لئے کی جاتی۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 963a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2112

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2469
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مسلمان کی نماز جنازہ پڑھا رہے تھے ہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک تھے (تیسری تکبیر کے بعد) آپ جو دعاء پڑھ رہے ہیں اس کو خوب سنا ہوں آپ یہ دعاء فر الٰہی! یہ مردہ جس کا یہ جنازہ ہے، فلاں ہے اور فلاں کا بیٹا ہے اور یہ مسلمان ہوکر آپ کی پناہ میں آگیا ہے۔ (اور اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے آپ اس کو امن دیدیئے ہیں۔) حبل اللہ یعنی قرآن پر ہمیشہ عمل کیا کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ اس کو اپنی حفاظت میں لے لئے تھے۔ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَ عَذَابِ النَّارِ. (اور ہر مسلمان کو قبر کے فتنہ سے اور دوزخ کے عذاب سے بچانے کا آپ وعدہ کئے ہیں یہ بھی مسلمان ہے۔) اس کو بھی آپ قبر کے فتنہ اور دوزخ کے عذاب سے بچایئے۔) آپ جو وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ - وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ. اور آپ حق ہیں یعنی سچے ہیں اور آپ کا ہر وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے۔ - (اے اللہ! یہ مردہ نادم اور شرمندہ ہوکر آپ کے سامنے آ رہا ہے) آپ اس کی مغفرت فرمادیجئے اور اس پر رحمت نازل کیجئے (آپ کی کیا شان کہوں آپ کے سامنے جو نادم ہوکر آتا ہے) آپ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور آپ اس پر رحمت نازل کرتے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3202 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1499 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2113

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2470
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ میں (تیسری تکبیر کے بعد) کبھی اس طرح سے بھی دعاء فرمایا کئے ہیں: اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا. الٰہی! اس (مردہ) کو (جس کا یہ جنازہ ہے) آپ ہی پرورش کرتے رہے، آپ ہی اس کو پیدا کئے۔ (یہ کچھ نہیں تھا آپ ہی اس کو وجود دیئے۔) وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا اِلَى الْاِسْلَامِ. آپ ہی اس کو گمراہی سے بچا کر اسلام کی ہدایت دیئے۔ - وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَهَا. (کیا کیا دیئے سب دیئے، جب اس کی عمر پوری ہوگئی تو) اس کی روح کو آپ ہی قبض کئے، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ؛ فَاغْفِرْلَهُ. (کوئی چیز اس کی آپ سے چھپی ہوئی نہیں ہے) اس کا ظاہر اور باطن سب آپ پر ظاہر ہے) (ہم کیا کہیں سب کچھ آپ کو معلوم ہے (ہم صرف حکم کی تعمیل کرکے) شفیع بن کر آپ کے سامنے (دعاء مغفرت کرنے) آئے ہیں، آپ اس کی مغفرت فرما دیجئے (آپ دعاؤں کو قبول کرنے والے ہیں، آپ حاجتوں کے پورا کرنے والے ہیں، آپ اس کے لئے ہماری دعاء قبول کیجئے۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3200 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2114

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2471
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں جو شخص مسجد میں نماز جنازہ پڑھے (خواہ جنازہ اور نماز پڑھنے والا دونوں مسجد میں ہوں یا نماز پڑھنے والا مسجد میں اور جنازہ مسجد کے باہر ہو یا جنازہ مسجد میں ہو اور نماز پڑھنے والا مسجد کے باہر ہو، ہر حالت میں) نماز پڑھنے والے کو نماز جنازہ کا ثواب نہیں ملے گا۔ (البتہ نماز جنازہ ادا ہو جائے گی۔) (بحر الرائق میں ایسا ہی مذکور ہے12)۔ اس کی روایت ابوداؤد، امام احمد اور طحاوی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3191 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Whoever prays over a funeral in the mosque...

(1) His statement: "Whoever prays over a funeral in the mosque..." At-Tahawi said: "When the narrations from the Messenger of Allah (ﷺ) differed on this matter, we needed to clarify it to know which one came later, making it abrogate the earlier one. The narration from Aisha (may Allah be pleased with her) refers to the Prophet's (ﷺ) action during a time of permissibility before any prohibition. The narration from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) refers to the Prophet's (ﷺ) prohibition, which came after the permissibility, making Abu Hurairah's narration abrogate Aisha's. The disapproval of the companions towards Aisha supports this." This is summarized from Al-'Allamah Al-'Ayni's Sharh al-Hidayah. In Al-'Inayah, it is mentioned: "We rely on what Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever prays over a funeral in the mosque will receive no reward.' The narration from Aisha (may Allah be pleased with her) is subject to interpretation, as the Muhajirun and Ansar criticized her, indicating that the dislike for this was known among them. The explanation for the Prophet (ﷺ) praying over Suhayl's funeral in the mosque is that he was in i'tikaf at the time and could not leave, so he ordered the funeral to be placed outside the mosque." In Fath al-Qadir, it is mentioned: "What decisively proves that it is not a Sunnah is their disapproval and their singling her out in the narration of Ibn Abi Layla. If it were a Sunnah for every deceased person, this would have been established among them, and they would not have disapproved, as they would have inherited it. They would have said: 'The Prophet (ﷺ) used to pray over funerals in the mosque.'"

Note 1

قوله

(۱) قوله: من صلى على جنازة إلخ : وقال الطحاوي: إن الروايات لما اختلفت عن رسول الله ﷺ في هذا الباب فاحتجنا إلى كشف ذلك لنعلم المتأخر منها، فجعله ناسخا لما تقدم الحديث عائشة ما إخبار عن فعل رسول الله ﷺ في حال الإباحة التي لم يتقدمها نهي. وحديث أبي هريرة الله إخبار عن نهي رسول الله ﷺ الذي قد تقدمته الإباحة فصار حديث أبي هريرة ناسخًا لحديث عائشة وإنكار الصحابة عليها مما يُؤيد ذلك. قاله العلامة العيني في شرح «الهداية» ملخصا. وفي «العناية»: ولنا ما روى أبو هريرة إن رسول الله ﷺ قال: من صلى على جنازة في المسجد فلا أجر له. وحديث عائشة مشترك الإلزام؛ لأن الناس في زمانها المهاجرون والأنصار قد عابوا عليها، فدل على أن كراهة ذلك كانت معروفة فيما بينهم، وتأويل صلاته الله على جنازة سهيل في المسجد أنه كان معتكفا في ذلك الوقت فلم يمكنه الخروج، فأمر بالجنازة، فوضعت خارج المسجد انتهى. وقال في فتح القدير: ومما يقطع بعدم مسنونته إنكارهم وتخصيصها لها في الرواية ابني بيضاء؛ إذ لو كان سُنّة في كل ميت ذلك كان هذا مستقرا عندهم، لا ينكرونه؛ لأنهم كانوا حينئذ يتوارثونه، ولقالت: كان الله يصلي على الجنائز في المسجد.

Note 1

اور بنایہ میں لکھا ہے کہ ابوداؤد نے اس حدیث کی روایت کرکے سکوت اختیار کیا ہے، اور یہ حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔

Hadith 2115

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2472Noor 2473
اور ابن ماجہ نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، ”فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ“ یعنی مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے والے کو کوئی اجر وثواب نہیں ملتا اور اس حدیث کی سند حسن ہے اور عنایہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت اس طرح لائے ہیں ”فَلَا أَجْرَ لَهُ“ یعنی نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنے والے کو نماز کا کوئی اجر نہیں ملے گا، یعنی اجر وثواب کی وجہ سے نماز نماز ہے، اگر اجر وثواب نہ ملے تو وہ نماز نماز نہیں۔ اسی لئے طیالسی اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ”فَلَا صَلَاةَ لَهُ“ آیا ہے
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1517 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

یعنی مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے والے کو اجر وثواب نہیں ملتا، اس لئے ایسی نماز نماز ہی نہیں، ہاں نماز جنازہ کی فرضیت جو اس کے ذمہ تھی ادا ہو جائے گی، اگر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہوتا تو نجاشی شاہِ حبش کے انتقال کا کشف ہونے کے وقت حضور مسجد میں تشریف فرما تھے تو حضور شاہِ حبش کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا فرماتے حضور ایسا نہ کر کے مسجد کے باہر تشریف لے جا کر نجاشی کی نماز جنازہ ادا فرمائے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ نماز جنازہ مسجد میں ادا نہیں فرمایا کرتے تھے، حالانکہ مسجد نبوی بہت بڑی فضیلت کی جگہ ہے بلکہ حضور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے مسجد سے باہر ایک خاص مقام پر تشریف لے جا کر نماز جنازہ ادا فرمائے۔

Hadith 2116

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2475
ابو غالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ایک جنازہ کی نماز پڑھا رہے تھے، میں بھی آپ کی اقتداء کیا ہوا تھا، میں دیکھا ہوں کہ حضرت انس میت کے سینے کے مقابل کھڑے ہوئے تھے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1677 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1677

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Opposite his chest...

(1) His statement: "Opposite his chest..." What is narrated about standing at the head of a man or at the hips of a woman or in the middle is either a coincidence or based on convenience. Also, the middle could refer to the chest, and it is convenient not to use biers, as mentioned by the author of Al-Fath from Abu Dawud. This is mentioned in Tabaqat al-Athar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: حيال صدره وما روي من القيام عند رأس الرجل أو عند عجيزة المرأة أو في الوسط فإما اتفاق أو كان المصلحة. وأيضًا الوسط يحتمل الصدر، ومن المصلحة عدم النعوش إذ ذاك، كما نقله صاحب «الفتح» عن أبي داود. قاله في «تابع الآثار».

Hadith 2117

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2476
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جو امام نماز جنازہ پڑھا رہا ہو، اس کو چاہئے کہ میت اگر عورت ہو تو اس کے سینے کے مقابل کھڑا رہے۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

(ان) احادیث سے معلوم ہوا کہ میت مرد ہو یا عورت امام کو چاہئے کہ اس کے سینے کے مقابل کھڑا رہے، یہی مذہب حنفی ہے۔)12

Hadith 2118

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2477
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک حبشی عورت (مدینہ منورہ میں رہتی تھی اور) مسجد نبوی کی خدمت کرتی اور مسجد کو جھاڑو دیا کرتی تھی، اس کا انتقال ہوگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ ہوسکی، ایک دن حضور اس کو یاد فرمائے اور ارشاد فرمائے کہ فلاں عورت کہاں ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: حضور! اس کا تو انتقال ہوگیا ہے اس پر حضور فرمائے کہ تم نے مجھے اس کے موت کی اطلاع کیوں نہیں دی، صحابہ اس کے موت کے واقعہ کو غیر اہم سمجھ کر حضور کو تکلیف دینا مناسب نہیں سمجھے تھے، اس لئے اطلاع نہیں دئے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے اچھا مجھے اس کی قبر بتلا دو تو حضور کو اس کی قبر بتلا دی گئی، آپ اس کی قبر کے پاس جاکر (اور اس کی قبر کے مقابل) کھڑے ہوکر (دوبارہ) نماز جنازہ ادا فرمائے اور ارشاد فرمائے، یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں۔ میری نماز سے ان قبروں میں رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ روشنی پیدا کردیتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور اس حدیث کے الفاظ مسلم کی روایت کے موافق ہیں اور ابن حبان نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 956a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 458 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He prayed over her...

(1) His statement: "He prayed over her..." This indicates that the ruler may repeat the prayer, even if he was not present, as understood from Radd al-Muhtar. In Fath al-Qadir, it is mentioned: "As for what is narrated that he prayed over a grave after the family had prayed over it, this is because he had the right to precedence in prayer." Muhammad said in his Muwatta: "It is not appropriate to pray over a funeral that has already been prayed over, and the Prophet (ﷺ) is not like others in this regard. Do you not see that he prayed over Negus in Madinah, even though he died in Abyssinia? The prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) is a blessing and purification, unlike other prayers. This is the opinion of Abu Hanifah." In At-Ta'liq al-Mumajjad, it is summarized: "This is among the unique practices of the Prophet (ﷺ), as his prayer over his Ummah is a blessing and purification, as indicated by what is mentioned in Sahih Muslim and Ibn Hibban: 'He prayed over the grave.' Then he said, 'These graves are filled with darkness for their inhabitants, but Allah illuminates them through my prayer over them.' In the hadith of Zayd: 'My prayer over him is a mercy.' This is not achieved by others, just as he prayed over Negus, even though he had already been prayed over in his country and despite the absence of the funeral."

Note 1

قوله

(۱) قوله: فصلى عليها فهذا يفيد أن للسلطان الإعادة، ولو لم يكن حاضرا، على ما يفهم من رد المحتار». وقال في فتح القدير: وأما ما روي أ أنه صلى على قبر بعد ما صلى عليه أهله؛ فلأنه كان له . حق التقدم في الصلاة انتهى. وقال محمد في موطئه»: ولا ينبغي أن يصلى على جنازة قد صلي عليها، وليس النبي الله في هذا كغيره. ألا يرى أنه صلى على النجاشي بالمدينة، وقد مات بالحبشة، فصلاة رسول الله الله بركة وطهور، فليست كغيرها من الصلوات، وهو قول أبي حنيفة انتهى. وقال في التعليق الممجد حاصله: أنه من خصوصيات النبي ؛ لأن صلاته على أمة بركة وظهور، كما يفيده ما ورد في صحيح مسلم» و «ابن حبان: فصلى على القبر». ثم قال: إن هذه القبور مملؤة ظلمة على أهلها، وان الله ينورها لهم بصلاتي عليهم. وفي حديث زيد فإن صلاتي عليه رحمة. وهذا لا يتحقق في غيره، كما أنه صلى على النجاشي، مع أنه قد صلى عليه في بلده، ومع غيبوبة الجنازة.

Note 1

ف: واضح ہو کہ دفن کے پہلے میت پر نماز جنازہ پڑھی گئی ہو تو پھر اس پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اس لئے کہ نماز جنازہ کا ادا کرنا جو فرض ہے، وہ ایک دفعہ کے ادا کرنے سے یہ فرض ادا ہوچکا، اگر پھر دوبارہ نماز جنازہ ادا کی جائے تو وہ نفل ہوگی اور نماز جنازہ میں نفل ثابت نہیں ہے اور یہی مذہب حنفی ہے، ہاں اگر سلطان یعنی بادشاہ وقت یا ولی کو اگر نماز جنازہ نہ ملی ہو، یا بغیر اجازت ولی کے غیر مستحق امام نے نماز پڑھا دی ہو تو ولی یا سلطان دوبارہ نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کیا گیا ہے تو میت کے سڑنے سے پہلے جس کی مدت تین دن ہے، قبر پر نماز جنازہ پڑھنا چاہئے، اگر میت کو نماز جنازہ پڑھنے کے بعد دفن کردیا گیا ہے تو اس پر کسی کو نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا جائز نہیں، البتہ ولی کی اجازت کے بغیر کسی غیر مستحق امام نے نماز جنازہ پڑھا دی اور میت کو دفن بھی کردیا گیا تو ایسی صورت میں صرف ولی کو دوبارہ قبر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ نعش پھٹنے کا اندیشہ نہ ہو، اگر ولی کی اجازت کے ساتھ مستحق امام نے کسی میت کی نماز جنازہ پڑھا دی اور میت کو دفن بھی کردیا گیا تو ایسی صورت میں کسی شخص کو خواہ وہ ولی ہو یا سلطان یعنی بادشاہ وقت ہو، قبر پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ ہر حالت میں قبر پر دوبارہ نمازِ جنازہ ادا فرمائیں، اس لئے کہ حضور کی نماز امت پر رحمت اور برکت کا سبب ہے اور قبروں کو نورانی بنانے کا باعث ہے اور یہ حضور کی خصوصیات سے ہے اور صدر کی حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ قبر پر جو نماز پڑھنے کا واقعہ مذکور ہوا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ہے۔ (یہ مضمون درمختار، فتاویٰ عالمگیری، ملتقیٰ، شرح وقایہ اور عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)12

Hadith 2119

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2478
کریب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک صاحبزادہ کا انتقال مقام قدید یا مقام عسفان میں ہوا تو حضرت ابن عباس مجھ سے فرمائے کریب! باہر جا کر دیکھو کہ (نمازِ جنازہ کے لئے) کتنے لوگ جمع ہیں، کریب کہتے ہیں کہ میں باہر جا کر دیکھا کہ بہت سے لوگ جمع تھے، میں نے لوگوں کے جمع ہونے کی اطلاع حضرت ابن عباس کو دیدی، حضرت ابن عباس مجھ سے دریافت فرمائے کہ کیا تمہارے خیال میں وہ جو لوگ جمع ہیں چالیس ہوں گے، میں نے عرض کیا جی ہاں (چالیس ہوں گے) یہ سن کر حضرت ابن عباس فرمائے اچھا جاؤ میت کو باہر لے آؤ، کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جب کسی مسلمان کے جنازہ پر ایسے چالیس آدمی نماز پڑھیں، جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو جب وہ نمازِ جنازہ پڑھ کر دعاءِ مغفرت کریں تو ان کی دعاءِ مغفرت اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرما لیتے ہیں۔ (اسی لئے میں نے لوگوں کے جمع ہونے کو دریافت کیا، کیوں کہ ہر چالیس مسلمانوں میں ایک اللہ کا ولی ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 948 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2120

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2479
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس میت کی نمازِ جنازہ کثرت سے مسلمان پڑھیں جن کی تعداد (کم از کم چالیس ہو اور زیادہ سے زیادہ) سو 100 (یا اس سے زیادہ ہو، سب کے سب اس میت کی نمازِ جنازہ پڑھیں اور اس کے لئے دعاءِ مغفرت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعاء قبول فرماتا ہے اور اس میت کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 947a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2121

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2480Noor 2481
مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہوں کہ جب کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے، اور اس کی نماز جنازہ مسلمان تین صف ہو کر ادا کریں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ واجب کر لیتے ہیں کہ اس میت کی مغفرت فرما دیں اور اس کو جنت میں داخل کر دیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور ترمذی اور ابن ماجہ نے کہا ہے کہ اس حدیث پر مالک بن ہبیرہ بہت پختگی سے عمل فرماتے تھے، جب کسی میت کی نماز جنازہ آپ پڑھاتے اور نمازی کثرت سے ہوتے تو نمازیوں کو تین صف میں تقسیم کرتے تھے، اور اگر نمازیوں کو تعداد، بہت کم ہوتی تو پھر بھی نمازیوں کو تین صف ہی میں بانٹتے تھے تاکہ اس حدیث پر عمل ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3166 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1028 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2122

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2482Noor 2483Noor 2484
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ چند صحابہ کا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) ایک جنازہ پر سے گزر ہوا (صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ فلاں صاحب کا جنازہ ہے،) تو صحابہ میت کی بہت تعریف کرنے لگے (صحابہ کو میت کی تعریف کرتے ہوئے سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اس میت کے لئے واجب ہوگئی، اس کے بعد صحابہ کا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) ایک دوسرے جنازہ پر سے گزر ہوا (صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے) تو صحابہ میت کی برائیاں کرنے لگے (صحابہ کو میت کی برائیاں بیان کرتے ہوئے سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اس میت کے لئے واجب ہوگئی، حضور کو یہ فرماتے ہوئے سن کر عمر رضی اللہ عنہ عرض کئے: (یا رسول اللہ! ہماری سمجھ میں نہیں آیا، حضور دونوں کے لئے واجب ہوگئی، واجب ہوگئی، فرمائے تو) کیا چیز واجب ہوئی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: پہلی میت کی تم جو تعریف کئے ہو (یہ علامت ہے کہ) وہ میت جنت کی مستحق ہے (اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کو جنت دے گا، اس لئے کہ جنت نیکیوں کا بدلہ ہے) اور دوسری میت کی تم جو برائیاں بیان کئے ہو (یہ علامت ہے کہ) وہ میت دوزخ کی مستحق ہے وہ دوزخ میں جائے گی (اس لئے کہ برائیوں کا بدلہ دوزخ ہے۔) صاحبو! تم زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہ بنائے گئے ہو (اجتماعی طور پر جو بات تمہارے دل میں آئے، اور جو تمہاری زبان سے نکلے وہ حق ہوتی ہے، اسی لئے میں کہا ہوں کہ پہلے مردہ کی نیکیوں کی وجہ سے تم جو تعریف کئے اس سے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے مردے کی جو تم برائیاں بیان کئے، اس کے لئے میں کہا ہوں، اس کے لئے دوزخ واجب ہوگئی۔ اس لئے کہ تم اللہ کے گواہ ہو۔)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ مسلمان زمین پر اللہ کے گواہ ہیں (اجتماعی طور سے جو اُن کے منہ سے نکلتا ہے وہ حق ہوتا ہے۔) اور حاکم بھی اسی طرح روایت کئے ہیں۔ اور حاکم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اجتماعی طور پر مسلمان جو کچھ کہتے ہیں وہ اس لئے حق ہوتا ہے کہ بظاہر تو مسلمان کہتے ہیں، حقیقت میں فرشتے ان کی زبان سے کہلواتے ہیں (اسی لئے ان کا اجتماعی قول حق ہوتا ہے۔) اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے موافق صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1367 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 949a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2123

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2485
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس مسلمان میت کے لئے اس کے نیک ہونے کی چار مسلمان گواہی دیں تو (یہ علامت ہے کہ وہ مسلمان جنت کا مستحق ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے) اس کو جنت دے گا، (اس لئے کہ جنت نیکیوں کا بدلہ ہے) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ہم عرض کئے حضور اگر تین مسلمان میت کے نیک ہونے کی گواہی دیں تو کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ بھی جنت کا مستحق ہوگا اور جنت میں داخل کیا جائے گا، پھر ہم عرض کئے: یا رسول اللہ کہ اگر دو2 مسلمان ایسی گواہی دیں (تو اس کا کیا حکم ہے) حضور ارشاد فرمائے: تب بھی یہی حکم ہے (کہ وہ مسلمان جنت میں داخل کیا جائے گا) پھر ہم نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ دریافت ہی نہیں کیا کہ اگر ایک مسلمان کسی مسلمان میت کے نیک ہونے پر گواہی دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ (اس لئے کہ گواہی کا نصاب کم سے کم دو مسلمان ہیں۔) اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1368 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2643 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2124

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2486
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی مردہ کو برا نہ کہو (تم کو کیا معلوم کہ اگر وہ توبہ کر کے مرا ہے تو وہ توبہ کی وجہ سے جنتی ہو گیا اور تم برا سمجھ کر اس کو برا کہتے ہیں، یہ بے فائدہ بات ہے اور تم سے اس کا مواخذہ ہوگا اور اگر وہ کفر یا فسق کی حالت میں مرا ہے اور توبہ نہیں کیا تو جو) اس کو سزا ہونا ہے وہ ہو رہی ہے، اپنے کئے کا بدلہ پا رہا ہے (تمہارا اس کو برا کہنے سے کیا فائدہ ہے، مسلمان کی شان یہ ہے کہ بے فائدہ کام نہ کرے اور بے فائدہ بات نہ کہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1393 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6516 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2125

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2487
ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرو، اور ان کی برائیاں بیان نہ کیا کرو۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4900 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1019 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: یوں تو ہر شخص کو چاہئے کہ مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرے، اور مردوں کی برائیاں بیان کرنے سے رکا رہے، خاص کر مردوں کو جو غسل دینے والے ہیں، اگر ان پر مردہ کی اچھی حالت ظاہر ہو، مثلاً مردہ کی چہرہ پر نور برس رہا ہو، یا مردہ کے پاس سے خاص خوشبو آ رہی ہو، یا بغیر دقت کے مردہ غسل دینے والے کے قابو میں ہو جائے اور غسل دینے والا جو کچھ کرنا چاہے وہ آسانی سے کر سکتا ہو تو اس طرح کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرے اور مردہ کی ایسی خوبیاں ظاہر کرنا مستحب ہے، اور اگر غسل دینے والا مردہ کے پاس کوئی برائیاں دیکھے، مثلاً مردہ سے بدبو آ رہی ہے یا مردہ کا چہرہ یا اس کا جسم سیاہ ہو گیا ہو، یا چہرہ کچھ کا کچھ ہو گیا ہے تو ایسی برائیاں دیکھ کر غسل دینے والا کسی پر ظاہر نہ کرے، مردہ کی حالت دیکھنے والا خواہ غسل دینے والا ہو یا اور کوئی اس پر مردہ کی ان برائیوں کو لوگوں پر ظاہر کرنا حرام ہے۔ (یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)12

Hadith 2126

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2488
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداءِ احد پر (چار تکبیرات سے) نماز جنازہ ادا فرماتے، اور یہ نماز جنازہ بعینہ ایسی تھی جیسا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام دوسرے میتوں پر (چار تکبیرات کے ساتھ ہمیشہ نماز جنازہ ادا فرمایا کرتے تھے۔ اس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں ذکر کیا ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ بخاری اور مسلم دونوں نے اس حدیث کی تخریج متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1344 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2296a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.