اردو
اور ابن ماجہ نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، ”فَلَيْسَ لَهُ
شَيْءٌ“ یعنی مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے والے کو کوئی اجر وثواب نہیں ملتا اور اس حدیث کی سند حسن
ہے اور عنایہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت اس طرح لائے ہیں ”فَلَا أَجْرَ لَهُ“ یعنی نماز
جنازہ مسجد میں ادا کرنے والے کو نماز کا کوئی اجر نہیں ملے گا، یعنی اجر وثواب کی وجہ سے نماز نماز ہے،
اگر اجر وثواب نہ ملے تو وہ نماز نماز نہیں۔
اسی لئے طیالسی اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ”فَلَا صَلَاةَ لَهُ“ آیا ہے
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1517 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
یعنی مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے والے کو اجر وثواب نہیں ملتا، اس لئے ایسی نماز نماز ہی نہیں، ہاں نماز جنازہ کی فرضیت جو اس کے ذمہ تھی ادا ہو جائے گی، اگر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہوتا تو نجاشی شاہِ حبش کے انتقال کا کشف ہونے کے وقت حضور مسجد میں تشریف فرما تھے تو حضور شاہِ حبش کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا فرماتے حضور ایسا نہ کر کے مسجد کے باہر تشریف لے جا کر نجاشی کی نماز جنازہ ادا فرمائے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ نماز جنازہ مسجد میں ادا نہیں فرمایا کرتے تھے، حالانکہ مسجد نبوی بہت بڑی فضیلت کی جگہ ہے بلکہ حضور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے مسجد سے باہر ایک خاص مقام پر تشریف لے جا کر نماز جنازہ ادا فرمائے۔