Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2118

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

Zujajat al-Masabih 2118Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that a black woman or a young man who used to clean the mosque passed away, and the Messenger of Allah (ﷺ) noticed her absence. He asked about her, and they said, "She has died." He said, "Why did you not inform me?" It seemed as if they considered her matter insignificant. He said, "Show me her grave." They showed him, and he prayed over her. 1 Then he said, "These graves are filled with darkness for their inhabitants, but Allah illuminates them through my prayer over them." [Agreed upon, with the wording from Muslim] Ibn Hibban narrated something similar. In At-Ta'liq al-Mumajjad, it is mentioned: "Praying over a funeral after it has already been prayed over is among the unique practices of the Prophet (ﷺ), as his prayer over his Ummah is a blessing and purification, as indicated by this hadith."

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۱۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ ، فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: «أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟ قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ، فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ، فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى1 عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوْئَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهُ لِمُسْلِمٍ. وَرَوَى ابْنُ حِبَّانَ نَحْوَهُ. وَقَالَ فِي التَّعْلِيقِ الْمُمَجَّدِ»: إِنَّ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَازَةِ بَعْدَ مَا صُلِّي عَلَيْهِ مِنْ خُصُوصِيَاتِ النَّبِيِّ ﷺ ؛ لِأَنَّ صَلَاتَهُ عَلَى أُمَّتِهِ بَرْكَةً وَطُهُورُ كَمَا يُفِيدُهُ مَا وَرَدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2477
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک حبشی عورت (مدینہ منورہ میں رہتی تھی اور) مسجد نبوی کی خدمت کرتی اور مسجد کو جھاڑو دیا کرتی تھی، اس کا انتقال ہوگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ ہوسکی، ایک دن حضور اس کو یاد فرمائے اور ارشاد فرمائے کہ فلاں عورت کہاں ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: حضور! اس کا تو انتقال ہوگیا ہے اس پر حضور فرمائے کہ تم نے مجھے اس کے موت کی اطلاع کیوں نہیں دی، صحابہ اس کے موت کے واقعہ کو غیر اہم سمجھ کر حضور کو تکلیف دینا مناسب نہیں سمجھے تھے، اس لئے اطلاع نہیں دئے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے اچھا مجھے اس کی قبر بتلا دو تو حضور کو اس کی قبر بتلا دی گئی، آپ اس کی قبر کے پاس جاکر (اور اس کی قبر کے مقابل) کھڑے ہوکر (دوبارہ) نماز جنازہ ادا فرمائے اور ارشاد فرمائے، یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں۔ میری نماز سے ان قبروں میں رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ روشنی پیدا کردیتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور اس حدیث کے الفاظ مسلم کی روایت کے موافق ہیں اور ابن حبان نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 956a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 458 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He prayed over her...

(1) His statement: "He prayed over her..." This indicates that the ruler may repeat the prayer, even if he was not present, as understood from Radd al-Muhtar. In Fath al-Qadir, it is mentioned: "As for what is narrated that he prayed over a grave after the family had prayed over it, this is because he had the right to precedence in prayer." Muhammad said in his Muwatta: "It is not appropriate to pray over a funeral that has already been prayed over, and the Prophet (ﷺ) is not like others in this regard. Do you not see that he prayed over Negus in Madinah, even though he died in Abyssinia? The prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) is a blessing and purification, unlike other prayers. This is the opinion of Abu Hanifah." In At-Ta'liq al-Mumajjad, it is summarized: "This is among the unique practices of the Prophet (ﷺ), as his prayer over his Ummah is a blessing and purification, as indicated by what is mentioned in Sahih Muslim and Ibn Hibban: 'He prayed over the grave.' Then he said, 'These graves are filled with darkness for their inhabitants, but Allah illuminates them through my prayer over them.' In the hadith of Zayd: 'My prayer over him is a mercy.' This is not achieved by others, just as he prayed over Negus, even though he had already been prayed over in his country and despite the absence of the funeral."

Note 1

قوله

(۱) قوله: فصلى عليها فهذا يفيد أن للسلطان الإعادة، ولو لم يكن حاضرا، على ما يفهم من رد المحتار». وقال في فتح القدير: وأما ما روي أ أنه صلى على قبر بعد ما صلى عليه أهله؛ فلأنه كان له . حق التقدم في الصلاة انتهى. وقال محمد في موطئه»: ولا ينبغي أن يصلى على جنازة قد صلي عليها، وليس النبي الله في هذا كغيره. ألا يرى أنه صلى على النجاشي بالمدينة، وقد مات بالحبشة، فصلاة رسول الله الله بركة وطهور، فليست كغيرها من الصلوات، وهو قول أبي حنيفة انتهى. وقال في التعليق الممجد حاصله: أنه من خصوصيات النبي ؛ لأن صلاته على أمة بركة وظهور، كما يفيده ما ورد في صحيح مسلم» و «ابن حبان: فصلى على القبر». ثم قال: إن هذه القبور مملؤة ظلمة على أهلها، وان الله ينورها لهم بصلاتي عليهم. وفي حديث زيد فإن صلاتي عليه رحمة. وهذا لا يتحقق في غيره، كما أنه صلى على النجاشي، مع أنه قد صلى عليه في بلده، ومع غيبوبة الجنازة.

Note 1

ف: واضح ہو کہ دفن کے پہلے میت پر نماز جنازہ پڑھی گئی ہو تو پھر اس پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اس لئے کہ نماز جنازہ کا ادا کرنا جو فرض ہے، وہ ایک دفعہ کے ادا کرنے سے یہ فرض ادا ہوچکا، اگر پھر دوبارہ نماز جنازہ ادا کی جائے تو وہ نفل ہوگی اور نماز جنازہ میں نفل ثابت نہیں ہے اور یہی مذہب حنفی ہے، ہاں اگر سلطان یعنی بادشاہ وقت یا ولی کو اگر نماز جنازہ نہ ملی ہو، یا بغیر اجازت ولی کے غیر مستحق امام نے نماز پڑھا دی ہو تو ولی یا سلطان دوبارہ نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کیا گیا ہے تو میت کے سڑنے سے پہلے جس کی مدت تین دن ہے، قبر پر نماز جنازہ پڑھنا چاہئے، اگر میت کو نماز جنازہ پڑھنے کے بعد دفن کردیا گیا ہے تو اس پر کسی کو نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا جائز نہیں، البتہ ولی کی اجازت کے بغیر کسی غیر مستحق امام نے نماز جنازہ پڑھا دی اور میت کو دفن بھی کردیا گیا تو ایسی صورت میں صرف ولی کو دوبارہ قبر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ نعش پھٹنے کا اندیشہ نہ ہو، اگر ولی کی اجازت کے ساتھ مستحق امام نے کسی میت کی نماز جنازہ پڑھا دی اور میت کو دفن بھی کردیا گیا تو ایسی صورت میں کسی شخص کو خواہ وہ ولی ہو یا سلطان یعنی بادشاہ وقت ہو، قبر پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ ہر حالت میں قبر پر دوبارہ نمازِ جنازہ ادا فرمائیں، اس لئے کہ حضور کی نماز امت پر رحمت اور برکت کا سبب ہے اور قبروں کو نورانی بنانے کا باعث ہے اور یہ حضور کی خصوصیات سے ہے اور صدر کی حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ قبر پر جو نماز پڑھنے کا واقعہ مذکور ہوا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ہے۔ (یہ مضمون درمختار، فتاویٰ عالمگیری، ملتقیٰ، شرح وقایہ اور عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)12