Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2192

Chapter on Weeping Over the Deceased

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Weeping Over the Deceased

Zujajat al-Masabih 2192Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "When Zainab, the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), died, the women wept. Umar began to strike them with his whip, but the Messenger of Allah (ﷺ) stopped him with his hand and said, 'Gently, O Umar.' Then he said, 'Beware of the shrieks of Satan.' He added, 'Whatever comes from the eyes and the heart is from Allah, the Almighty, and is a mercy. But whatever comes from the hands and tongue is from Satan.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٩٢ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ فَبَكَتِ النِّسَاءُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهُ، فَأَخَرَهُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «مَهْلًا يَا عُمَرُا» ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَنَعِيْقَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنْ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَمِنْ الرَّحْمَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَالنِّسَانِ فَمِنْ الشَّيْطَانِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2566
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو عورتیں (جمع ہوئیں اور بغیر نوحہ اور چیخ و پکار کے آنسوؤں سے) رونے لگیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ (میت پر صرف آنکھوں سے رونے کو بھی برا سمجھتے تھے اس لئے اٹھے اور عورتوں کو رونے سے منع کرنے لگے، مگر عورتیں حضرت عمر کے منع کرنے سے نہ رکیں تو حضرت عمر کو یہ خوف ہوا کہ یہ رونا بڑھتے بڑھتے کہیں نوحہ تک نہ پہنچ جائے، اس لئے) کوڑے مارنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر کو عورتوں کے پاس سے اپنے دست مبارک سے ہٹائے اور ارشاد فرمائے: ٹھہرو عمر! اتنی سختی مت کرو (ابھی تو عورتیں آنکھوں سے رو رہی تھیں گو تم اس کو برا سمجھتے ہو مگر یہ جائز ہے، حضرت عمر کو جو خوف تھا کہ کہیں عورتیں روتے روتے نوحہ کرنا شروع کر دیں، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمائے (قاعدہ ہے کہ رونا بڑھتے بڑھتے نوحہ تک پہنچ جاتا ہے) تم نوحہ کی نوبت نہ آنے دو (اس لئے کہ) نوحہ شیطان کی طرف سے ہے، اس سے بچتے رہنا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عورتوں سے مخاطب ہو کر) ارشاد فرمائے سنو! (کسی کے مرنے پر غم کرنا کئی قسم کا ہوتا ہے بعض جائز ہے اور بعض ناجائز ہے) جب آنکھوں سے آنسو بہا کر غم کیا جائے اور دل غمگین رہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے اور رحمت کا باعث ہے (اللہ تعالیٰ اس طرح غم کا اظہار کرنے سے ناراض نہیں ہوتے ہیں) اور جب (غم کا اظہار) ہاتھ سے ہو (مثلاً منھ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور بال نوچنا) زبان سے ہو (جیسے چلانا اور بیان کر کے رونا) اور ایسے الفاظ کہہ کر رونا جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں) یہ سب شیطان کے بہکانے کی وجہ سے ہے (شیطان اس سے خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1741 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 2127 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1741

Confidence and text similarity are not editorial verification.