English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) passed by a woman weeping at a grave and said, 'Fear Allah and be patient.' She replied, 'Leave me, for you have not suffered my loss and did not know him.' She was told, 'This is the Prophet (ﷺ).' She then went to the Prophet’s door but found no doorkeepers. She said, 'I did not recognize you.' He replied, 'Patience is only at the first shock.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢١٩٤ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِامْرَأَةِ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ، فَقَالَ: «اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي قَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي؛ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِيْ وَلَمْ تَعْرِفْهُ، فَقِيلَ لَهَا: أَنَّهُ النَّبِيُّ ، فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ. فَقَالَ: إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأَوْلَى». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2568
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (ایک بار) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عورت کی طرف سے گزرے جو ایک قبر کے پاس (بیٹھی) آواز سے رو رہی
تھی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ارشاد فرمائے کہ (تو آواز سے رو رہی ہے اور نوحہ کر رہی
ہے یہ ناجائز ہے) خدا سے ڈر (اور اس طرح کا نوحہ چھوڑ دے) اور صبر کر (تاکہ تجھے اس صبر کا
ثواب ملے) اس عورت نے جواب دیا، جاؤ صاحب اپنا کام کرو (آپ کو میری مصیبت کی کیا خبر
آپ میری جیسی مصیبت میں گرفتار نہیں ہوئے ہیں (یہ عورت جب یہ کہہ رہی تھی تو اس وقت اس کو
معلوم نہیں تھا کہ یہ نصیحت فرمانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، حضور جب وہاں سے
تشریف لے گئے تو پھر اس عورت سے کہا گیا کہ تجھے کچھ خبر بھی ہے یہ نصیحت فرمانے والے کون تھے؟
سنو! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے جو تمہیں نصیحت فرما رہے تھے (وہ عورت، بہت نادم ہوئی)
اور وہاں سے اٹھی تو سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دولت خانہ پر پہونچی، وہ سمجھ رہی تھی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر دربان ہوں گے، جیسے بادشاہوں کے دروازے پر
ہوتے ہیں، یہاں آ کر اس نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہاں نہ تو دربان ہیں اور نہ تو کوئی تکلیف
ہے (گھر کے اندر گئی) اور عرض کی: یا رسول اللہ میں آپ کو پہچانی نہیں (میرا قصور معاف کیجئے)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ صبر کا ثواب تو ابتداء مصیبت کے وقت ہی ملتا ہے (اور
آخر میں تو خود بخود صبر آ جاتا ہے یعنی دراصل صبر وہ ہے جو صدمہ کے شروع وقت کیا جائے، ورنہ بعد
میں تو ہر ایک کو صبر خود بخود آ ہی جاتا ہے، لہذا شروع مصیبت کے وقت صبر کرنا چاہئے کیونکہ اس پر
ثواب ملتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1283 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 926b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.