Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2210

Chapter on Weeping Over the Deceased

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Weeping Over the Deceased

Zujajat al-Masabih 2210Volume 1

English

Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'The believer is amazing. If he is given good, he praises Allah and is grateful, and if he is afflicted with a calamity, he praises Allah and is patient. The believer is rewarded in every matter, even in the morsel he raises to his wife's mouth.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢١٠ - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «عَجَبُ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللهَ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللهَ وَصَبَرَ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهِ حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2585
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان کا عجب حال ہے (ہر حال میں وہ اللہ ہی کا رہتا ہے) اگر اس کو بھلائی اور نعمت پہنچتی ہے تو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر کوئی بلا اور مصیبت پہنچتی ہے تو اس بلا، اور مصیبت کا ثواب اس کے پیش نظر ہو جاتا ہے، اس وجہ سے وہ ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہتا ہے (یا اس کو یہ خیال آتا ہے کہ یہ بلا، اور مصیبت دنیوی امور میں آئی ہے دین کو میرے اللہ نے بچا رکھا ہے اور دین پر کوئی مصیبت نہیں آئی ہے، اس لئے الحمدللہ کہتا ہے یا یہ خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ مجھ پر یہ مصیبت بھیجا، اس سے کوئی اور بڑی مصیبت میں مجھکو مبتلا نہیں کیا، اس لئے الحمدللہ کہتا ہے اور ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ کہہ کر صبر کرتا ہے مسلمان کا جو کام ہوتا ہے وہ اللہ کی خوشنودی اور اس کو راضی کرنے کے لئے ہوتا ہے اس لئے) اس کو ہر کام میں اجر و ثواب ملتا ہے (مثلاً) اگر وہ اپنی بیوی کے منھ میں نوالہ دے (اور دیتے وقت یہ نیت کرے کہ اس کا حق جو میرے ذمہ ہے، اس کی ادائی کے لئے دے رہا ہوں، اگرچہ کہ اس میں اس کو حظ نفس حاصل ہو رہا ہے لیکن وہ دنیا کے ذریعہ حظ نفس حاصل نہ کر کے حلال ذریعہ سے اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنی بیوی کے منھ میں نوالہ دے کر حظ نفس حاصل کر رہا ہے، اس لئے اس کو اپنی بیوی کے منھ میں نوالہ دینے سے بھی اجر ملتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔