Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2225

(اس باب میں قبروں کی زیارت کا جائز ہونا، زیارت قبور کی فضیلت اور زیارت

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں قبروں کی زیارت کا جائز ہونا، زیارت قبور کی فضیلت اور زیارت

Zujajat al-Masabih 2225Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2600
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں اپنے حجرہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں، جب جایا کرتی تو اپنی چادر اتار دیا کرتی تھی اور اپنے دل میں کہا کرتی تھی کہ (کون ہیں یہاں غیر) میرے شوہر ہیں اور میرے والد ہیں (اس لئے مجھے اپنی چادر اتار دینے میں کیا مضائقہ ہے) جب میرے اس حجرہ میں ان کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ بھی دفن کئے گئے (اور حضرت عمر میرے لئے محرم نہیں تھے) اس لئے میں اس دن سے جب اپنے اس حجرہ میں جاتی تو بخدا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شرما کر کپڑے اوڑھے لپٹے جاتی تھی۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1769 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 1769

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Out of respect for Umar.

(2) The statement: "Out of respect for Umar." This indicates that respecting the deceased is like respecting them when they were alive, as mentioned in Al-Marqah. In Radd Al-Muhtar, it is said: "If one sits, they should sit at a distance or close, depending on the deceased’s status during their lifetime." This is mentioned in Al-Alamgiriyyah, quoting Khazanat Al-Fatawa.

Note 2

قوله

(۲) قوله: حياء من عمر فيه أن احترام الميت كاحترامه حيا. قاله في المرقاة». وقال في رد المحتار»: وإن جلس يجلس وأن يجلس مجلس بعيدًا أو قريبا بحسب مرتبته في حال حياته. كذا في العالمگيرية ناقلا عن «خزانة الفتاوى».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ فرما کر حجرہ شریف میں اوڑھے لپٹے جایا کرتی تھیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مردے ان کو پہچانتے ہیں جو ان کے پاس زیارت کے لئے آتے ہیں اور اپنے پاس آنے والے کو جانتے ہیں، اس لئے زندگی میں ان کا جیسے لحاظ کیا جاتا تھا، مرنے کے بعد بھی ویسا ہی لحاظ کیا جانا چاہئے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، عالمگیری، ردالمحتار)۔12