English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "I used to enter the room where the Messenger of Allah (ﷺ) was buried, and I would remove my outer garment, saying, 'He is only my husband and my father.' But when Umar was buried with them, by Allah, I never entered it except with my garments tightly wrapped out of respect for Umar." 2
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٢٢٥ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِيَ الَّذِي فِيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ وَإِنِّي وَاضِعُ ثَوْبِي، وَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِيْ وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ، مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُوْدَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً2 مِنْ عُمَرَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2600
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ میں اپنے حجرہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں، جب جایا کرتی تو اپنی چادر
اتار دیا کرتی تھی اور اپنے دل میں کہا کرتی تھی کہ (کون ہیں یہاں غیر) میرے شوہر ہیں اور میرے
والد ہیں (اس لئے مجھے اپنی چادر اتار دینے میں کیا مضائقہ ہے) جب میرے اس حجرہ میں ان کے
ساتھ عمر رضی اللہ عنہ بھی دفن کئے گئے (اور حضرت عمر میرے لئے محرم نہیں تھے) اس لئے میں اس
دن سے جب اپنے اس حجرہ میں جاتی تو بخدا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شرما کر کپڑے اوڑھے لپٹے
جاتی تھی۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1769 (unverified) 50% confidence
Mishkat (candidate) 1769
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: "Out of respect for Umar." This indicates that respecting the deceased is like respecting them when they were alive, as mentioned in Al-Marqah. In Radd Al-Muhtar, it is said: "If one sits, they should sit at a distance or close, depending on the deceased’s status during their lifetime." This is mentioned in Al-Alamgiriyyah, quoting Khazanat Al-Fatawa.
Note 2
(۲) قوله: حياء من عمر فيه أن احترام الميت كاحترامه حيا. قاله في المرقاة». وقال في رد المحتار»: وإن جلس يجلس وأن يجلس مجلس بعيدًا أو قريبا بحسب مرتبته في حال حياته. كذا في العالمگيرية ناقلا عن «خزانة الفتاوى».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ فرما کر حجرہ شریف میں اوڑھے لپٹے جایا کرتی تھیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مردے ان کو پہچانتے ہیں جو ان کے پاس زیارت کے لئے آتے ہیں اور اپنے پاس آنے والے کو جانتے ہیں، اس لئے زندگی میں ان کا جیسے لحاظ کیا جاتا تھا، مرنے کے بعد بھی ویسا ہی لحاظ کیا جانا چاہئے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، عالمگیری، ردالمحتار)۔12