اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2611
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، خلیفہ ہوئے تو عرب کے
بعض قبیلے (جیسے غطفان، فزارہ اور بنو سلیم وغیرہ زکات کا انکار کر کے (یہ مرقات میں مذکور
ہے۔12) کافر ہوگئے (اس لئے کہ زکات فرض ہے اور فرض کا منکر کافر ہوتا ہے) (حضرت ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ ان لوگوں سے جہاد کا ارادہ فرمالئے تو) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے
حضرت صدیقؓ سے فرمایا کہ آپ کس طرح ان منکرین زکات سے جہاد کریں گے جب کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ صریح حکم موجود ہے (کہ جو شخص ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“
کا قائل ہوجائے اس کی جان اور مال محفوظ رہیں گے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد
ہے) مجھے لوگوں سے اس وقت تک جہاد کرنے کا حکم ملا ہے، جب تک وہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ (اور
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ) کے قائل نہ ہوجائیں جو شخص ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ کا قائل ہوجائے گا وہ مجھ سے
اپنا مال اور اپنی جان محفوظ رکھ سکے گا۔ ناحق اس کا مال لیا جائے گا اور نہ جان، باقی (باطن کا) حساب تو
اللہ لینے والے ہیں (یہ سن کر) حضرت صدیقؓ فرمائے: خدا کی قسم میں تو ہر اس شخص سے جہاد کروں گا
جو نماز اور زکات میں فرق کرے (کہ نماز تو ادا کرے اور زکات کا انکار کرے اور نہ دے) جبکہ اللہ
تعالیٰ نے قرآن میں نماز اور زکات کا ذکر ساتھ ساتھ فرمایا ہے، کیونکہ زکات (اسی طرح) مالی
عبادت ہے (جیسا کہ نماز بدنی عبادت ہے) اللہ کی قسم اگر وہ لوگ مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک
رکھیں گے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ (یہ سن
کر) حضرت عمرؓ فرمائے: خدا کی قسم (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ عزم دیکھ کر) میں نے یہ رائے
قائم کرلی کہ (منکرین زکات کے خلاف) جہاد کرنے کی نسبت اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کا شرح صدر
فرمایا ہے یعنی آپ کا سینہ کھول دیا ہے اور میں سمجھ گیا کہ یہی فیصلہ حق ہے (کہ منکرین زکات سے
جہاد کیا جائے) (یہ ہے شان فاروقی کہ جب حق ظاہر ہوگیا تو اپنی رائے سے رجوع فرمالیا)۔ اس
حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1399 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 20a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "A young she-goat." According to Abu Hanifa, there is no Zakat on young goats, lambs, or calves unless they are with older ones. This is his final opinion, and it is the opinion of Muhammad. In Al-Qahistani, from Al-Tuhfa: "The correct opinion is theirs, and the hadith of Abu Bakr does not contradict it because taking a young goat does not necessitate taking from the young, as it is apparent from what we mentioned in the hadith of the apostates regarding the Zakat of sheep that a young goat refers to a one-year-old or two-year-old, even if metaphorically. Therefore, it should be understood to avoid contradiction. Even if it is accepted, it is permissible to take it as its value, not that it is the obligation itself, and we say this. Or it is on the basis of exaggeration, not precision, as indicated by the fact that in another narration, 'a rope' is mentioned instead of 'a young goat.' This is the summary of what is in Al-Hidayah, Radd al-Muhtar, and Fath al-Qadir.
Note 1
(۱) قوله: عناقا وليس في الفصلان والحملان والعجاجيل صدقة عند أبي حنيفة، إلا أن يكون معها كبار، وهذا آخر أقوله، وهو قول محمد وفي القهستاني» عن «التحفة»: الصحيح قولهما، وحديث أبي بكر لا يعارضه؛ لأن أخذ العناق لا يستلزم الأخذ من الصغار؛ لأن ظاهر ما قدمنا في حديث المرتدين في صدقة الغنم أن العناق يقال على الجذعة والثنية ولو مجازا، فارجع إليه، فيجب الحمل عليه دفعا للتعارض، ولو سلم جاز أخذها بطريق القيمة، لا أنها هي نفس الواجب، ونحن نقول به، أو هو على طريق المبالغة لا التحقيق يدل عليه أن في الرواية الأخرى عقالا» مكان العناق»، هذا حاصل ما في الهداية» ورد المحتار» و«فتح القدير».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ ”اگر وہ مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک رکھیں گے جسے وہ (زکات میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے جہاد کروں گا“، واضح ہو کہ یہاں بکری کے بچے سے مراد حقیقتاً بکری کا بچہ نہیں ہے، کیوں کہ بکری کے بچے پر زکات واجب نہیں بلکہ یہاں یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مثلاً بکری کا بچہ ہی کیوں نہ ہو، جو پہلے زکات میں دیا جاتا تھا اور اب نہ دیا جائے تو اس کے لئے بھی جہاد کیا جائے گا (زکات میں وصول کئے جانے والے جانوروں کے بچوں سے متعلق مسائل آگے اپنے مقام پر آرہے ہیں)۔ (ماخوذ از: ہدایہ، ردالمحتار اور فتح القدیر)12