English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that Al-Hasan ibn Ali took a date from the charity dates and put it in his mouth. The Prophet (ﷺ) said: “Kikh, kikh! Throw it away. Do you not know that we do not eat charity?”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٢٨٩ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلَيَّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ : كِخْ كِخْ لِيَطْرَحَهَا ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا شَعُرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ»2. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2689
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) حضرت
حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکات (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) کے کھجور میں سے ایک
کھجور لے کر منہ میں ڈال لیا (یہ دیکھ کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کِخْ کِخْ کہا (یعنی
تھوک دو، تھوک دو) فرمایا تا کہ وہ کھجور منہ سے نکال کر پھینک دیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے (تفہیم کے لئے) فرمایا کیا تم کو نہیں معلوم کہ ہم (بنی ہاشم) زکات اور صدقہ نہیں کھاتے
ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1491 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1069a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “We do not eat charity.” In Al-Durr Al-Mukhtar: “Charity cannot be given to Banu Hashim. The apparent ruling in the school is a general prohibition. The opinion of Al-Ayni and Al-Hashimi that it is permissible to give one’s charity to someone like them is incorrect. It is not permissible.” This is mentioned in Al-Nahr. In Sharh Al-Nuqayah: Al-Tahawi said: “Abu Hanifah held that all charities are permissible for Banu Hashim, and the prohibition was during the Prophet’s lifetime because they received a share of the Khums. When that ceased after his death, charity became permissible for them.” He said: “This is our position.”
Note 2
(۲) قوله : إنا لا نأكل لذلك قال في الدر المختار ولا يصرف إلى بني هاشم. ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع. وقول العيني والهاشمي يجوز له دفع زكاته لمثله صوابه لا يجوز. نهر) انتهى. وقال في شرح النقاية»: قال الطحاوي وعن أبي حنيفة لك أن الصدقات كلها جائزة على بني هاشم، والحرمة كانت في عهده ؛ الوصول الخمس إليهم. فلما سقط ذلك بموته حلت لهم الصدقة. قال: وبه نأخذ.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ“ (ہم (بنی ہاشم) زکات اور صدقہ نہیں کھاتے ہیں) اسی بناء پر درمختار میں لکھا ہے کہ زکات اور صدقۂ فطر بنی ہاشم کو نہ دیئے جائیں۔ چنانچہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ بنی ہاشم کو صدقہ دینا مطلقاً منع ہے اور علامہ عینیؒ نے فرمایا ہے کہ بنی ہاشم کا کسی بنی ہاشم کو زکات دینا جائز ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ بھی ناجائز ہے جیسا کہ نہر میں مذکور ہے۔ شرح الوقایہ میں لکھا ہے کہ امام طحاوی نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ بنی ہاشم کو اس زمانہ میں ہر قسم کے صدقات لینا جائز ہے اور صدقات لینے کی حرمت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں تھی کیونکہ بنو ہاشم کو مال غنیمت میں خُمس ملا کرتا تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد ساقط ہوگیا۔ جس کی وجہ سے بنو ہاشم کے لئے صدقات کا قبول کرنا جائز ہوگیا۔ امام طحاوی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ زکات اور دیگر صدقات بنی ہاشم کو دینا جائز ہے۔12