English
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Do not fast until you see the crescent moon, and do not break your fast until you see it. If it is obscured from you, then estimate it." In another narration, he said, "The month is twenty-nine nights, so do not fast until you see the crescent moon. If it is obscured from you, then complete the count of thirty days."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٤٣١ - عَنِ ابْنِ عُمَرَ(رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : «لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرُوا الْهِلَال وَلَا تُفْطِرُوْا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ".3
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «الشَّهْرُ تِسْعُ وَعِشْرُوْنَ لَيْلَةً، فَلَا تَصُوْمُوْا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تک (رمضان) کا چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھا کرو اور جب تک (عید
کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ ختم نہ کرو اور اگر (ابر کی وجہ سے) تم لوگوں کو چاند نظر نہ آئے تو اندازہ کرو
(یعنی رمضان کے دنوں کو گن لو اور تیس دن کی تکمیل کرو)۔
اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا ہے کہ مہینہ (کبھی) 29 انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے تو تم لوگ اس وقت تک روزہ نہ رکھو جب
تک چاند نہ دیکھ لو، اگر (ابر کی وجہ سے) تم چاند نہ دیکھ سکو تو (رمضان کے) پورے تیس دن (کے
روزوں کی) تکمیل کیا کرو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "They ask you about the crescent moons. Say, 'They are measurements of time for the people and for Hajj.'" (Quran 2:189)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1906 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1907 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1080a (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(2) The statement: "Measurements of time." In Al-Madarik, it is said: "They are landmarks by which people time their farming, trade, debt settlements, fasting, breaking the fast, the waiting period for women, their menstrual cycles, the duration of pregnancy, and other matters. They are also landmarks for Hajj, by which its time is known."
Note 3
(3) The statement: "Then estimate it." In Al-Qunya, it is narrated from Shams Al-A’immah Al-Halwani that the condition for the obligation of fasting and breaking the fast is the sighting of the crescent moon, and the statement of the astronomers is not relied upon. Then it is narrated from Majd Al-A’immah Al-Tarjumani that the companions of Abu Hanifah, except for a few, and Al-Shafi’i agreed that there is no reliance on their statement, and it is not considered, even if they are trustworthy. Al-Maziri said: "The majority of jurists understood the Prophet’s (ﷺ) statement, 'Then estimate it,' to mean completing the count to thirty days, as explained in another hadith. It is not permissible to interpret it as calculating the stars, because if people were required to do so, it would be burdensome for them, as only a few individuals know it. The Lawgiver only commands people with what is known to the majority. This is the position of the majority of jurists from the regions of Hijaz, Iraq, Syria, and Morocco, including Malik, Al-Shafi’i, Al-Awza’i, Al-Thawri, Abu Hanifah, his companions, and the majority of the people of hadith, except for Ahmad and those who agreed with him." This is the summary of what is in Rad Al-Muhtar and Al-Durr Al-Mukhtar.
Chapter-heading commentary
(٢) قوله: مواقيت إلخ: وقال في المدارك»: أي معالم يوقت بها الناس مزارعهم ومتاجرهم ومحال ديونهم وصومهم وفطرهم وعدة نسائهم وأيام حيضهن ومدة حملهن وغير ذلك، ومعالم للحج يعرف بها وقته.
Note 3
(۳) قوله: فاقدروا له وفي القنية»: نقل عن شمس الأئمة الحلواني أن الشرط في وجوب الصوم والإفطار الرؤية ولا يؤخذ فيه بقول الموقتين، ثم نقل عن مجد الأئمة الترجماني أنه اتفق أصحاب أبي حنيفة إلا النادر والشافعي أنه لا اعتماد على قولهم ولا عبرة ولو عدولا. وقال المازري: حمل جمهور الفقهاء قوله ﷺ : فاقدروا له» على أن المراد إكمال العدة ثلاثين، كما فسره في حديث آخر، ولا يجوز أن يكون المراد حساب النجوم؛ لأن الناس لو كلفوا به ضاق عليهم؛ لأنه لا يعرفه إلا الأفراد، والشارع إنما يأمر الناس بما يعرفه جماهيرهم. وعلى هذا مذهب جمهور فقهاء الأمصار بالحجاز والعراق والشام والمغرب منهم مالك والشافعي والأوزاعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه وعامة أهل الحديث إلا أحمد ومن قال بقوله. هذا حاصل ما في رد المحتار» و«الدر المختار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اگر (ابر کی وجہ سے) تم چاند نہ دیکھ سکو تو (رمضان کے) روزوں کا اندازہ کرو (یعنی رمضان کے دنوں کو گن لو، اور پورے تیس دن کی تکمیل کرو) اس بارے میں قنیہ میں شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے کہ رمضان کے روزے رکھنے اور چھوڑنے کے لئے شرط یہ ہے کہ رؤیت ہلال ہو اور اس بارے میں تقویم اور جنتری والوں کے قول کو نہ اختیار کیا جائے اور عبدالائمہ ترجمانی سے بھی منقول ہے کہ بجز شاذ و نادر کے جملہ اصحاب ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کا اسی پر اتفاق ہے کہ اس بارے میں حساب دانوں کے قول پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کے حساب کا اعتبار ہوگا، اگرچہ یہ لوگ ثقہ اور عادل ہوں اور علامہ مازری نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد: ”فَاقْدُرُوا لَهُ“، (یعنی دنوں کو گن لو اور تیس دن کی تکمیل کرو) سے مراد یہی ہے کہ تیس دن کی تکمیل کی جائے جیسا کہ دوسری حدیث میں ”فَاقْدُرُوا لَهُ“، (کی تفسیر ”فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ“ کے الفاظ سے کی گئی ہے (یعنی چاند دکھائی نہ دینے کی صورت میں رمضان کے پورے تیس دن کی تکمیل کر لو) اس لئے ”فَاقْدُرُوا لَهُ“ سے جنتری اور حساب کا مراد لینا درست نہیں، اس لئے کہ لوگوں کو اگر جنتری اور حساب کا مکلف بنایا جائے تو ان پر دشواری ہوگی، کیونکہ حساب اور نجوم سے بہت کم لوگ واقف ہوتے ہیں اور شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسی عام فہم چیزوں کے ذریعہ سے احکام دیتے ہیں جن کے سمجھنے میں کسی کو دقت پیش نہ آئے بلکہ ہر شخص سمجھ سکے، اسی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے روزوں کے بارے میں ایک واضح اور فیصلہ کن حکم دے دیا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑ دو۔ ظاہر ہے کہ اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے اور اسی کو حجاز، عراق، شام اور مغرب کے فقہاء نے اختیار کیا ہے جن میں امام مالک، امام شافعی، امام اوزاعی، امام ثوری اور امام ابوحنیفہ اور آپ کے جملہ تلامذہ ہیں اور اسی کو اکثر محدثین نے بھی اختیار کیا ہے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار، درمختار اور عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔)