Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Do not fast until you see the crescent moon, and do not break your fast until you see it. If it is obscured from you, then estimate it." In another narration, he said, "The month is twenty-nine nights, so do not fast until you see the crescent moon. If it is obscured from you, then complete the count of thirty days."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تک (رمضان) کا چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھا کرو اور جب تک (عید
کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ ختم نہ کرو اور اگر (ابر کی وجہ سے) تم لوگوں کو چاند نظر نہ آئے تو اندازہ کرو
(یعنی رمضان کے دنوں کو گن لو اور تیس دن کی تکمیل کرو)۔
اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا ہے کہ مہینہ (کبھی) 29 انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے تو تم لوگ اس وقت تک روزہ نہ رکھو جب
تک چاند نہ دیکھ لو، اگر (ابر کی وجہ سے) تم چاند نہ دیکھ سکو تو (رمضان کے) پورے تیس دن (کے
روزوں کی) تکمیل کیا کرو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
And the saying of Allah, the Almighty: "They ask you about the crescent moons. Say, 'They are measurements of time for the people and for Hajj.'" (Quran 2:189)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1906 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 1907 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1080a (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
Measurements of time.
(2) The statement: "Measurements of time." In Al-Madarik, it is said: "They are landmarks by which people time their farming, trade, debt settlements, fasting, breaking the fast, the waiting period for women, their menstrual cycles, the duration of pregnancy, and other matters. They are also landmarks for Hajj, by which its time is known."
Note 3
Then estimate it.
(3) The statement: "Then estimate it." In Al-Qunya, it is narrated from Shams Al-A’immah Al-Halwani that the condition for the obligation of fasting and breaking the fast is the sighting of the crescent moon, and the statement of the astronomers is not relied upon. Then it is narrated from Majd Al-A’immah Al-Tarjumani that the companions of Abu Hanifah, except for a few, and Al-Shafi’i agreed that there is no reliance on their statement, and it is not considered, even if they are trustworthy. Al-Maziri said: "The majority of jurists understood the Prophet’s (ﷺ) statement, 'Then estimate it,' to mean completing the count to thirty days, as explained in another hadith. It is not permissible to interpret it as calculating the stars, because if people were required to do so, it would be burdensome for them, as only a few individuals know it. The Lawgiver only commands people with what is known to the majority. This is the position of the majority of jurists from the regions of Hijaz, Iraq, Syria, and Morocco, including Malik, Al-Shafi’i, Al-Awza’i, Al-Thawri, Abu Hanifah, his companions, and the majority of the people of hadith, except for Ahmad and those who agreed with him." This is the summary of what is in Rad Al-Muhtar and Al-Durr Al-Mukhtar.
Chapter-heading commentary
قوله
(٢) قوله: مواقيت إلخ: وقال في المدارك»: أي معالم يوقت بها الناس مزارعهم ومتاجرهم ومحال ديونهم وصومهم وفطرهم وعدة نسائهم وأيام حيضهن ومدة حملهن وغير ذلك، ومعالم للحج يعرف بها وقته.
Note 3
قوله
(۳) قوله: فاقدروا له وفي القنية»: نقل عن شمس الأئمة الحلواني أن الشرط في وجوب الصوم والإفطار الرؤية ولا يؤخذ فيه بقول الموقتين، ثم نقل عن مجد الأئمة الترجماني أنه اتفق أصحاب أبي حنيفة إلا النادر والشافعي أنه لا اعتماد على قولهم ولا عبرة ولو عدولا.
وقال المازري: حمل جمهور الفقهاء قوله ﷺ : فاقدروا له» على أن المراد إكمال العدة ثلاثين، كما فسره في حديث آخر، ولا يجوز أن يكون المراد حساب النجوم؛ لأن الناس لو كلفوا به ضاق عليهم؛ لأنه لا يعرفه إلا الأفراد، والشارع إنما يأمر الناس بما يعرفه جماهيرهم. وعلى هذا مذهب جمهور فقهاء الأمصار بالحجاز والعراق والشام والمغرب منهم مالك والشافعي والأوزاعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه وعامة أهل الحديث إلا أحمد ومن قال بقوله. هذا حاصل ما في رد المحتار» و«الدر المختار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اگر (ابر کی وجہ سے) تم چاند نہ دیکھ سکو تو (رمضان
کے) روزوں کا اندازہ کرو (یعنی رمضان کے دنوں کو گن لو، اور پورے تیس دن کی تکمیل کرو) اس
بارے میں قنیہ میں شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے کہ رمضان کے روزے رکھنے اور چھوڑنے کے لئے
شرط یہ ہے کہ رؤیت ہلال ہو اور اس بارے میں تقویم اور جنتری والوں کے قول کو نہ اختیار کیا جائے اور
عبدالائمہ ترجمانی سے بھی منقول ہے کہ بجز شاذ و نادر کے جملہ اصحاب ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کا
اسی پر اتفاق ہے کہ اس بارے میں حساب دانوں کے قول پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کے حساب
کا اعتبار ہوگا، اگرچہ یہ لوگ ثقہ اور عادل ہوں اور علامہ مازری نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے ارشاد: ”فَاقْدُرُوا لَهُ“، (یعنی دنوں کو گن لو اور تیس دن کی تکمیل کرو) سے مراد یہی ہے کہ تیس
دن کی تکمیل کی جائے جیسا کہ دوسری حدیث میں ”فَاقْدُرُوا لَهُ“، (کی تفسیر ”فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ
ثَلَاثِينَ“ کے الفاظ سے کی گئی ہے (یعنی چاند دکھائی نہ دینے کی صورت میں رمضان کے پورے تیس
دن کی تکمیل کر لو) اس لئے ”فَاقْدُرُوا لَهُ“ سے جنتری اور حساب کا مراد لینا درست نہیں، اس لئے کہ
لوگوں کو اگر جنتری اور حساب کا مکلف بنایا جائے تو ان پر دشواری ہوگی، کیونکہ حساب اور نجوم سے
بہت کم لوگ واقف ہوتے ہیں اور شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسی عام فہم چیزوں کے ذریعہ سے احکام
دیتے ہیں جن کے سمجھنے میں کسی کو دقت پیش نہ آئے بلکہ ہر شخص سمجھ سکے، اسی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے رمضان کے روزوں کے بارے میں ایک واضح اور فیصلہ کن حکم دے دیا کہ چاند دیکھ کر
روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑ دو۔
ظاہر ہے کہ اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے اور اسی کو حجاز، عراق، شام اور مغرب کے فقہاء نے اختیار
کیا ہے جن میں امام مالک، امام شافعی، امام اوزاعی، امام ثوری اور امام ابوحنیفہ اور آپ کے جملہ تلامذہ
ہیں اور اسی کو اکثر محدثین نے بھی اختیار کیا ہے۔
(یہ پورا مضمون رد المحتار، درمختار اور عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Fast when you see the crescent moon, and break your fast when you see it. If it is obscured from you, then complete the count of Sha’ban as thirty days."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (رمضان کا) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (عید کا) چاند دیکھ کر روزہ چھوڑ
دو اور اگر 29/شعبان کو ابر کی وجہ سے رمضان کا) چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر لو
(اور اسی طرح 29/رمضان کو ابر کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس روزے پورے کر لو،
اس کے بعد عید کرو)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) was more cautious about Sha’ban than he was about other months. He would fast upon sighting the crescent moon of Ramadan, but if it was obscured from him, he would count thirty days and then fast.
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ہر سال) شعبان کے مہینہ کے دنوں کو ایک ایک کر کے خوب یاد رکھتے تھے
کہ دوسرے مہینوں کے دنوں کو اس طرح گن کر یاد نہیں رکھتے تھے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھ لیا کرتے تھے اور اگر (شعبان کی انتیس کو ابر کی وجہ سے رمضان کا)
چاند نظر نہ آتا تو شعبان کے مہینے کے تیس دن شمار میں لے لیا کرتے اور پھر رمضان کا روزہ شروع
فرماتے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Abu Al-Bakhtari reported: We went out for Umrah, and when we stopped at Batn Nakhlah, we tried to sight the crescent moon. Some of the people said, "It is three nights old," while others said, "It is two nights old." We met Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) and said, "We saw the crescent moon." Some of the people said, "It is three nights old," while others said, "It is two nights old." He asked, "On which night did you see it?" We said, "On such-and-such night." He said, "The Messenger of Allah (ﷺ) extended the time for sighting it, so the night you saw it is the night." In another narration, he said, "We began Ramadan while we were at Dhat ‘Irq. We sent a man to Ibn Abbas to ask him, and Ibn Abbas said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah has extended the time for sighting it, so if it is obscured from you, complete the count as thirty days."'"
ابوالبختری رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ (کوفہ سے) عمرہ
کرنے کے لئے نکلے، جب ہم مقام بطن نخلہ میں ٹھہرے (جو طائف اور مکہ کے درمیان ہے) تو
چاند دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے۔ (چاند دیکھ کر) بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری رات کا (چاند) ہے
اور بعضوں نے کہا کہ یہ دوسری رات کا (چاند) ہے، پھر ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر
ملے تو ہم نے کہا کہ (فلاں رات کو) ہم نے چاند دیکھا، بعضوں نے کہا کہ وہ تیسری رات کا ہے اور
بعضوں کا خیال تھا کہ وہ دوسری رات کا ہے (یہ سن کر) حضرت ابن عباسؓ نے دریافت کیا کہ تم نے
کس رات میں چاند دیکھا؟ تو ہم نے بتلا دیا کہ فلاں رات کو (ہم نے چاند دیکھا تھا، یہ سن کر)
حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (رمضان کو) چاند دیکھنے پر
موقوف رکھا ہے پس جس رات کو تم نے چاند دیکھا تھا (رمضان کو) اسی رات سے شمار کرو (یعنی اگر تم
نے 29 ویں کو چاند دیکھا تو 29 کو شمار کرو اور اگر تیسویں کو چاند دیکھا تو تیسویں کو شمار کرو کیونکہ
چاند دیکھنے کی یہی دو تاریخیں ہیں)
ایک دوسری روایت میں ابوالبختری ہی سے ہی اسی طرح مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رمضان کا چاند مقام ذات عرق میں دیکھا اور ایک شخص کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی
خدمت میں (مسئلہ) دریافت کرنے کے لئے روانہ کیا (کہ آج چاند کی کونسی تاریخ ہے؟) حضرت
ابن عباسؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (رمضان کے) چاند دیکھنے کی ایک تاریخ
(یعنی 29 ویں شعبان) مقرر فرمائی ہے، پس اگر چاند (ابر کی وجہ سے) نظر نہ آئے تو (ماہ شعبان
کے) تیس دن کو پورے شمار کرلو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1088a (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1088b (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
We tried to sight the crescent moon.
(1) The statement: "We tried to sight the crescent moon." This means we gathered to sight the crescent moon due to its full visibility, or some of us showed others the difficulty in seeing it or the lack of knowledge about its position. Ibn Al-Humam said: "Pointing to the crescent moon is disliked because it was a practice of the people of pre-Islamic ignorance. However, pointing may be necessary when showing it to others, so the dislike applies when there is no necessity." This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: تراءينا الهلال: أي اجتمعنا لرؤيته الهلال لكمال ظهوره، أو أرى بعضنا بعضا الخفاء نظره أو عدم علمه بمسقط قمره. قال ابن الهمام: الإشارة إلى الهلال تكره؛ لأنه فعل أهل الجاهلية، فيه أنه يحتاج إلى الإشارة عند الإراءة، فتحمل الكراهة على وقت عدم الضرورة. قاله في «المرقاة».
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "We are an unlettered nation; we do not write or calculate. The month is like this and this and this," and he folded his thumb on the third time, meaning twenty-nine days. Then he said, "The month is like this and this and this," meaning thirty days, indicating that sometimes it is twenty-nine and sometimes thirty.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم (عرب) قوم اُمّی لوگ ہیں حساب و کتاب نہیں جانتے ہیں (یعنی
مہینوں کے شمار کے بارے میں ہمارا عمل نجوم کے قاعدوں پر نہیں ہے بلکہ یاد رکھو کہ مہینہ 29 دن کا یا
تیس دن کا ہوتا ہے، اس کو حضور نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا) مہینہ
اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے (یعنی دوسری مرتبہ آپ نے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیوں کو کھول کر شمار کر کے
بتایا) اور تیسری بار (ایک ہاتھ کے) انگوٹھے کو بند کر کے شمار فرمایا (اس طرح پہلی دو مرتبہ بیس کی
تعداد اور تیسری بار آخری میں نو کے عدد کو بتلا کر 29 شمار فرمایا، اس کے بعد آپ نے دونوں ہاتھوں
کی دس دس انگلیوں کو کھول کر تین دفعہ اشارہ کر کے بتایا اور) فرمایا کہ مہینہ اتنا اتنا اور اتنا ہوتا ہے،
پورے تیس دن کا ہوتا ہے، یعنی کبھی مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذوالحجہ ایسے ہیں (کہ فضیلت اور ثواب
میں) کم نہیں ہوتے (اگرچہ کہ وہ 29 دن ہی کیوں نہ ہوں)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1912 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1089a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Do not decrease.
(1) The statement: "Do not decrease." In Umdat Al-Qari, it is said: "The days of Hajj may be affected by obscurity and decrease, just as the end of Ramadan may be affected by the obscurity of the crescent moon of Dhul-Qi’dah, leading to an error of adding or subtracting a day. Thus, ‘Arafah may fall on the eighth or tenth day. The meaning is that the reward of those standing at ‘Arafah on such a day is not less than what it would be if there were no error." Ibn Battal said: "A group of scholars said that if someone stands at ‘Arafah on the wrong day due to a widespread error among the people, it suffices for him, because these two months do not decrease in reward before Allah for those who worship Him through striving, just as the reward of Ramadan is not decreased if it is twenty-nine days." This is the opinion of ‘Ata’, Al-Hasan, Abu Hanifah, and Al-Shafi’i.
Note 1
قوله
(۱) قوله: لا ينقصان: قال في عمدة القاري»: قد يكون أيام الحج من الإغماء والنقصان مثل ما يكون في آخر رمضان بأن يغمى هلال ذي القعدة، ويقع فيه الغلط بزيادة يوم أو نقصانه، فيقع عَرَفَة في اليوم الثامن أو العاشر منه، فمعناه أن أجر الواقفين بعرفة في مثله، لا ينقص عما لا غلط فيه، وقال ابن بطال : قالت طائفة من وقف بعرفة بخطأ شامل الجميع أهل الموقف في يوم قبل يوم عرفة أو بعده أنه يجزئ عنه؛ لأنهما لا ينقصان عند الله من أجر المتعبدين بالاجتهاد، كما لا ينقص أجر رمضان الناقص. وهو قول عطاء والحسن وأبي حنيفة والشافعي.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ عید کے دو مہینے (ایسے) ہیں کہ ان (کے اجر و ثواب)
میں کمی نہیں کی جاتی۔ اس بارے میں عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ ابر کی وجہ سے ایام حج کے تعین میں غلطی
ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک دن کی کمی یا زیادتی ہو جاتی ہے جس طرح آخر رمضان میں تاریخ عید
کے تعین میں غلطی ہوا کرتی ہے۔ ایام حج کے تعین میں غلطی کی صورت یہ ہے کہ ذوالقعدہ کے چاند دیکھنے
میں ابر کی وجہ سے غلطی ہو جائے کہ ایک دن بڑھ جائے یا ایک دن گھٹ جائے، اگر غلطی کی وجہ سے ایک
دن گھٹ جائے تو عرفہ، ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ کو ہو جائے گا اور اگر ایک دن بڑھ جائے تو عرفہ دس
ذوالحجہ آ جائے گا اور حقیقت میں وقوف عرفہ نویں ذوالحجہ کو ہونا چاہئے تھا اس کی وجہ سے وہ لوگ جو غلطی
کی وجہ سے آٹھویں ذوالحجہ کو وقوف عرفہ کر لیں یا دسویں ذوالحجہ کو وقوف عرفہ کر لیں تو ان کو وقوف عرفہ کا
وہی ثواب ملے گا جو ٹھیک نویں ذوالحجہ کو وقوف عرفہ کرنے والوں کو ملتا ہے۔
اور ابن بطال رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اسی طرح رمضان اگر 29 واں ہو جائے تو اجر و ثواب میں
کوئی کمی نہیں کی جاتی بلکہ پورے تیس دن کا ثواب دیا جاتا ہے اور حضرت عطاء، حضرت حسن بصری،
امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔12
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "None of you should fast a day or two before Ramadan, except for a person who is accustomed to fasting, in which case he may fast that day." [Agreed upon] In another narration by Bukhari and Muslim from Imran ibn Husayn: The Messenger of Allah (ﷺ) said to him or to another person, "Did you fast the last days of Sha’ban?" He said, "No." He said, "Then when you break your fast, fast two days."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص رمضان المبارک کے ایک یا دو دن قبل روزہ نہ
رکھے، ہاں مگر وہ شخص رمضان سے قبل روزہ رکھ سکتا ہے جو روزہ رکھنے کا عادی ہو (مثلاً کوئی شخص
دوشنبہ یا پنجشنبہ کا روزہ رکھا کرتا ہو اور اتفاق سے یہ معین دن رمضان سے پہلے آ گیا تو ایسا شخص اپنا
روزہ رکھ سکتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے یا کسی اور صحابی سے (جو ہر مہینہ کے آخر
میں نفل روزہ رکھا کرتے تھے) (جیسا کہ اعلاء السنن میں مذکور ہے۔12) ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے
شعبان کے آخری دنوں کے روزے رکھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، (میں نے آپ کے منع
فرمانے کی وجہ سے ان دنوں کے روزے نہیں رکھے ہیں) اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ تم (جب رمضان کے) روزے ختم کر لو تو دو روزے رکھ لو (کیوں کہ شعبان کے آخری دنوں
میں روزے رکھنا ان کے لئے ممنوع ہے جو عادتاً ان دنوں میں روزہ نہ رکھتے ہوں، تم چونکہ اس کے
عادی ہو، اس لئے یہ ممانعت تم سے متعلق نہیں، اس لئے تم رمضان کے بعد یہ روزے رکھ لو)۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد، نسائی اور طحاوی نے بھی کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1914 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1082a (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 1983 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1161a (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
None of you should fast.
(2) The statement: "None of you should fast." This means that the day of doubt, which is the thirtieth day of Sha’ban, should not be fasted except voluntarily. Voluntary fasting on this day is preferred if it coincides with a habitual fast or if one fasts three or more days at the end of Sha’ban, not less, based on the hadith: "Do not fast a day or two before Ramadan." The summary is that our school permits it, while Al-Shafi’i dislikes it unless it coincides with a habitual fast. Ahmad held the opinion that it is obligatory to fast it with the intention of Ramadan in one of the two narrations from him, as mentioned by Ibn Al-Jawzi in Al-Tahqiq. The meaning of the hadith about advancing is to avoid adding to the fast of Ramadan, as the People of the Book added to their fast. This reconciles it with the hadith: "The last days are the hidden days of the month," with the word "sirr" pronounced with a fatha or kasra on the first letter, as stated by Abu ‘Ubayd and the majority of linguists, referring to the concealment of the moon, which may last one or two nights, as explained by Nuh in the commentary of Al-Durr. Ahmad used the hadith about the last days to argue for the obligation of fasting the day of doubt, but we interpret it as recommended, as it is reconciled with the hadith about advancing, as clarified in Al-Fath. This is explicitly stated in Al-Hidayah and its commentaries, that what is prohibited is advancing Ramadan by fasting for Ramadan. The reason for specifying a day or two is that fasting for Ramadan usually occurs when there is doubt about the month being twenty-nine or thirty days, so one fasts a day or two as a precaution, as explained in Al-Imdad and Al-Sa’iyah. In Al-Fath, it is said: "Therefore, fasting another obligatory fast on the day of doubt is not disliked." This is the apparent meaning of Al-Tuhfa, which states: "The evidence indicates that fasting on this day for another obligation or voluntarily is not disliked at all, so what is disliked is what we have mentioned, meaning fasting for Ramadan." In Al-Muhit, it is said: "It should not be disliked to fast with the intention of another obligation, but it is described as somewhat disliked as a precaution, without affecting the reward, like praying on usurped land." The clarification is that there is a difference of opinion among scholars. Dawud held that fasting on this day is invalid, even if it coincides with a habitual fast. A group held that it is not permissible to fast the last day of Sha’ban voluntarily unless it coincides with a habitual fast, based on the apparent meaning of this hadith, and this is the opinion of Al-Shafi’i. Another group permitted voluntary fasting on this day, as narrated from Aisha and her sister Asma’, who used to fast the day of doubt. This is the opinion of Al-Layth, Al-Awza’i, Abu Hanifah, Ahmad, and Ishaq. What is narrated by the authors of the Sunan from the hadith of Al-‘Ala’ ibn ‘Abd Al-Rahman from his father from Abu Hurairah, marfu’: "When Sha’ban is halfway through, do not fast," is rejected. Ahmad and Ibn Ma’in said this. Some said the hadith is weak, and Al-Bayhaqi used the hadith about advancing to weaken it, saying: "The permissibility is based on what is more authentic than the hadith of Al-‘Ala’." It is said that Abu Hurairah used to fast in the second half of Sha’ban, so he said: "The one who says that the consideration is based on what he saw is the one whose action is considered." It is also said that his action indicates that what he narrated is abrogated. Al-Tahawi narrated what supports the opinion of those who permit fasting after the middle of Sha’ban, as he narrated from the hadith of Thabit from Anas that the Prophet (ﷺ) said: "The best fasting after Ramadan is Sha’ban." Also, when the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Except for a person who is accustomed to fasting, in which case he may fast that day," this indicates that the Messenger of Allah commanded his Ummah according to what he practiced. This indicates that fasting from the middle of Sha’ban to Ramadan has the same ruling as fasting at other times. When this meaning is established, it indicates that the prohibition in the hadith of Al-‘Ala’: "When Sha’ban is halfway through, do not fast," was only out of concern for those who fast Ramadan, not for any other reason. Similarly, we advise those who fast close to Ramadan and become weak, preventing them from fasting Ramadan, not to fast until they fast Ramadan, because fasting Ramadan is more important than fasting what is not obligatory. This is the meaning that should be understood from this hadith so that it does not contradict other hadiths. Also, when the Messenger of Allah (ﷺ) permitted fasting every other day in the well-known narrations, this indicates that fasting after the middle of Sha’ban is included in what the Prophet (ﷺ) permitted. This is the summary of what is in Al-Durr Al-Mukhtar, Rad Al-Muhtar, Fath Al-Qadir, Umdat Al-Qari, and Sharh Ma’ani Al-Athar. In Al-Durr Al-Mukhtar, it is said: "As for the hadith, 'Whoever fasts the day of doubt has disobeyed Abu Al-Qasim,' it has no basis." This is what Al-Zayla’i said, then he said: "It is narrated as a mawquf report from ‘Ammar ibn Yasir, and in such cases, it is like a marfu’ report." I say: The denial of its basis should be understood as referring to its being marfu’. In Al-Fath, it is said: "The authors of the four Sunan and others narrated it, and Al-Tirmidhi authenticated it from Sillah ibn Zafar, who said: 'We were with ‘Ammar on the day of doubt, and a roasted sheep was brought. Some people withdrew, and ‘Ammar said: 'Whoever fasts this day has disobeyed Abu Al-Qasim.'" In Al-Fath, it is said: "It seems that he understood from the man who withdrew that he intended to fast for Ramadan, so it does not contradict what has been mentioned." This is after understanding it as being heard from the Prophet (ﷺ). Rad Al-Muhtar summarizes this.
Note 2
قوله
(٢) قوله : لا يتقدمن إلخ : أي لا يصام يوم الشك هو يوم الثلاثين من شعبان إلا نفلا، والتنفل فيه أحب أي أفضل اتفاقا إن وافق صوما يعتاده، أو صام من آخر شعبان ثلاثة فأكثر لا أقل؛ لحديث: لا تقدموا رمضان بصوم يوم أو يومين.
حاصله أن مذهبنا إباحته، ومذهب الشافعي كراهته إن لم يوافق صوما له ومذهب أحمد وجوب صومه بنية رمضان في أصح الروايتين عنه، ذكره ابن الجوزي في التحقيق. والمراد من حديث التقدم هو التقدم بصوم رمضان، حتى لا يزاد على صوم رمضان، كما زاد أهل الكتاب على صومهم توفيقا بينه وبين حديث: «السرر سرر الشهر بفتح السين المهملة وكسرها آخره، كذا قال أبو عبيد وجمهور أهل اللغة لاسترار القمر فيه أي اختفائه، وربما كان ليلة أو ليلتين، كذا أفاده نوح في حاشية الدر».
وما استدل أحمد بحديث السرر» على وجوب صوم يوم الشك، وهو عندنا محمول على الاستحباب؛ لأنه معارض بحديث التقدم توفيقا بين الأدلة ما أمكن كما أوضحه في «الفتح»، هذا، وقد صرح في «الهداية» وشروحها وغيرها بأن المنهي عنه هو التقدم على رمضان بصوم رمضان، ووجه تخصيصه بيوم أو يومين أن صومه عن رمضان إنما يكون غالبا عند توهم النقصان في شهر أو شهرين، فيصوم يوما أو يومين عن رمضان على ظن أن ذلك احتياط، كما أفاده في الإمداد» و «السعاية». وقال في «الفتح»: وعليه فلا يكره صوم واجب آخر في يوم الشك، قال: وهو ظاهر كلام «التحفة» حيث قال: وقد قام الدليل على أن الصوم فيه عن واجب آخر عن التطوع مطلقا لا يكره، فثبت أن المكروه ما قلنا يعني صوم رمضان.
وفي المحيط»: كان ينبغي أن لا يكره بنية واجب آخر إلا أنه وصف بنوع كراهة احتياطا، فلا يؤثر في نقصان الثواب كالصلاة في الأرض المغصوبة انتهى. وتوضيحه أن فيه تفصيلا واختلافا للعلماء، فذهب داود إلى أنه لا يصح صومه أصلا، ولو وافق عادة له. وذهبت طائفة إلى أنه لا يجوز أن يصام آخر يوم من شعبان تطوعا، إلا أن يوافق صوما كان يصومه، وأخذوا بظاهر هذا الحديث، وهو قول الشافعي وأجازت طائفة صومه تطوعا، روي عن عائشة وأسماء أختها أنهما كانتا تصومان يوم الشك. وهو قول الليث والأوزاعي وأبي حنيفة وأحمد وإسحاق.
و ما رواه أصحاب السنن من حديث العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة مرفوعا: إذا انتصف شعبان فلا تصوموا فهو منكر. قاله أحمد وابن معين. وقال بعضهم وضعف الحديث الوارد فيه، وقد استدل البيهقي بحديث التقدم على ضعفه، فقال: الرخصة في ذلك بما هو أصح من حديث العلاء. وقيل: كان أبو هريرة يصوم في النصف الثاني من شعبان فقال: من يقول: العبرة بما رأى إن فعله هو المعتبر، وقيل: فعله يدل على أن ما رواه منسوخ. وقد روى الطحاوي ما يقوي قول من ذهب إلى أن الصوم فيما بعد انتصاف شعبان جائز، غير مكروه بما رواه من حديث ثابت عن أنس أن النبي ﷺ قال : أفضل الصيام بعد رمضان شعبان وأيضًا لما قال رسول الله ﷺ : إلا أن يكون رجل كان يصوم يوما فليصم ذلك اليوم، دل ذلك على أمر رسول الله أمته ما قد وافق فعله. وعلى أن ما بعد النصف من شعبان إلى رمضان حكم صومه حكم صوم سائر الدهر المباح صومه. فلما ثبت هذا المعنى الذي ذكرنا دلّ ذلك أن النهي الذي كان من رسول الله ﷺ في حديث العلاء: إذا انتصف شعبان فلا تصوموا لم يكن إلا على الإشفاق منه على صوام رمضان لا لمعنى غير ذلك، وكذلك نأمر من كان الصوم بقرب رمضان يدخله به ضعف يمنعه من صوم رمضان أن لا يصوم حتى يصوم رمضان؛ لأن صوم رمضان أولى به من صوم ما ليس عليه صومه. فهذا هو المعنى الذي ينبغي أن يحمل عليه معنى ذلك الحديث حتى لا يضاد غيره من هذه الأحاديث. وأيضًا لما أباح رسول الله ﷺ في الآثار المتواترة صوم يوم وإفطار يوم من سائر الدهر، دلّ ذلك أن صوم ما بعد النصف من شعبان مما قد دخل في إباحة النبي . هذا حاصل ما في «الدر المختار» ورد المحتار» و «فتح القدير» و «عمدة القاري و شرح معاني الآثار». وقال في الدر المختار»: أما حديث من صام يوم الشك فقد عصى أبا القاسم فلا أصل له انتهى.
كذا قال الزيلعي، ثم قال: ويروى موقوفا عن عمار بن ياسر ، وهو في مثله كالمرفوع. قلت: وينبغي حمل نفي الأصلية على الرفع. قال في «الفتح»: وأخرج أصحاب السنن الأربعة وغيرهم، وصححه الترمذي عن صلة بن زفر قال: كنا عند عمار في اليوم الذي يشك فيه، فأتى بشاة مصلية، فتنحى بعض القوم، فقال عمار: من صام هذا اليوم فقد عصى أبا القاسم. قال في «الفتح»: وكأنه فهم من الرجل المتنحي أنه قصد صومه عن رمضان، فلا يعارض ما مر. وهذا بعد حمله على السماع من النبي . رد المحتار» ملخصا.
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) fast two consecutive months except that he would join Sha’ban with Ramadan." [Narrated by Nasa’i] Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Ibn Majah narrated something similar. In a narration by Al-Tahawi from Ibn Umar (may Allah be pleased with him): "The Messenger of Allah (ﷺ) would join Sha’ban with Ramadan."
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو متواتر دو مہینے روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (ماہ شعبان میں مسلسل نفل روزے رکھ کر) شعبان (کے نفل روزوں) کو رمضان (کے فرض
روزوں) سے ملا دیتے تھے۔
اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور طحاوی کی ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (شعبان میں نفل روزے رکھ کر) شعبان کو رمضان (کے فرض
روزوں) سے ملا دیتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 736 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 2336 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: احادیث مذکورہ بالا میں دو باتوں کا ذکر ہے ایک یہ کہ شعبان کے آخری دنوں کو کوئی روزہ نہ
رکھے۔ دوسرے یہ کہ شعبان کے آخری دنوں میں روزہ رکھا جاسکتا ہے۔ بظاہر ان حدیثوں میں تعارض
معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ حدیثیں باہم معارض نہیں ہیں، اس لئے کہ شعبان کے آخری دنوں
میں روزہ رکھنے کی ممانعت اس شخص سے متعلق ہے جو رمضان کی نیت سے شعبان کے آخری دن روزہ
رکھ لے۔ کیونکہ شعبان کی تیسویں شب کو ابر کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی بناء پر تیسویں شعبان کو یوم
شک کہا جاتا ہے اور اس دن رمضان کی نیت سے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور وہ حدیثیں جن سے آخر
شعبان میں روزہ رکھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے وہ ایسے شخص سے متعلق ہیں جو مطلقاً نفل کی نیت سے روزہ
رکھ لے، یا وہ ایّام آخر ماہ میں روزے رکھا کرتا ہو، یا عادۃً ہفتہ کے کسی دن روزہ رکھا کرتا ہو، اور یہ دن
اتفاق سے آخر شعبان میں آ جائے یا وہ آخر شعبان میں اپنے قضاء روزوں کو رکھنا چاہتا ہو تو ایسا شخص
آخر شعبان میں روزہ رکھ سکتا ہے۔ (یہ ردالمختار، درالمختار، فتح القدیر، عمدۃ القاری، شرح معانی الآثار سے
ماخوذ ہے) اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے یوم الشک میں نفل کی نیت سے روزہ رکھ لیا
ہو اور بعد تحقیق ہوئی کہ وہ دن رمضان کا تھا تو اس کا نفل روزہ نفل باقی نہ رہے گا بلکہ رمضان کا فرض
روزہ ہو جائے گا۔12
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ رمضان (کے چاند کی صحت) کی خاطر شعبان کے چاند (کو دیکھ کر
شعبان کے دنوں) کا شمار کرو (تا کہ یہ تحقیق ہو جائے کہ شعبان کا مہینہ 29 دن کا ہے یا تیس دن
کا)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 687 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Count the crescent moon.
(1) The statement: "Count the crescent moon." It is necessary to seek the crescent moon of Sha’ban as well to ensure the completion of the count. This is mentioned in Al-‘Alamgiriyyah.
Note 1
قوله
(۱) قوله : أحصوا إلخ : ينبغي أن يلتمسوا هلال شعبان أيضًا في حق إتمام العدد. كذا في «العالمكيرية».
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "I have seen the crescent moon," meaning the crescent moon of Ramadan. The Prophet (ﷺ) asked, "Do you testify that there is no god but Allah?" He said, "Yes." He asked, "Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah?" He said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "O Bilal, announce to the people that they should fast tomorrow." [Narrated by Abu Dawud, Al-Tirmidhi, Nasa’i, Ibn Majah, and Al-Darimi] Al-Hakim authenticated it, and Al-Bayhaqi mentioned that it came through connected and disconnected chains, and the connected chains are authentic.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا
ہے تو حضور نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو
انھوں نے جواب دیا: ہاں (میں اللہ ہی کے معبود ہونے کی گواہی دیتا ہوں) پھر آپ نے دریافت
فرمایا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں؟ تو انھوں نے جواب
دیا: ہاں! (میں اس کا بھی اقرار کرتا ہوں) تو حضورﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ
اعلان کردو کہ لوگ کل سے روزہ رکھیں۔
اس کی روایت ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار
دیا ہے اور بیہقی نے بیان کیا ہے کہ یہ حدیث مختلف طریق سے آئی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 2
A Bedouin.
(2) The statement: "A Bedouin." The hadith indicates that the testimony of an unknown person is accepted, and that the testimony of one person is accepted for the crescent moon of Ramadan. This is mentioned in Al-Mirqat. This is also found in Al-Durr Al-Mukhtar, Rad Al-Muhtar, and Al-‘Alamgiriyyah.
Note 3
They should fast tomorrow.
(3) The statement: "They should fast tomorrow." In Al-Mirqat, it is said: "The lack of restriction to Ramadan indicates our position that it is valid to perform it with the intention of general fasting."
Note 2
قوله
(۲) قوله : أعرابي: دل الحديث على أن المستور تقبل شهادته، وعلى أن شهادة الواحد مقبولة في هلال رمضان. قاله في «المرقاة». كذا في الدر المختار» و رد المحتار» و «العالمگيرية».
Note 3
قوله
(۳) قوله: أن يصوموا غدا: قال في المرقاة»: وفي عدم تقييده برمضان إشعار إلى مذهبنا من أنه يصح أداؤه بنية مطلق الصوم.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”أَذِّنْ فِى النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا“ (اعلان کردو
کہ لوگ کل سے روزہ رکھیں) اس بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ اگر رمضان کا روزہ مطلقاً صوم کی
نیت سے رکھا جائے، یعنی یہ کہا جائے کہ کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں اور یہ نہ کہے کہ کل رمضان
کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔ اس طرح مطلق روزہ کی نیت کرنے سے رمضان کا روزہ ادا ہو جائے
گا۔12
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The people tried to sight the crescent moon, and I informed the Messenger of Allah (ﷺ) that I had seen it. He fasted and ordered the people to fast." [Narrated by Abu Dawud and Al-Darimi] Al-Hakim narrated it and said it meets the conditions of Muslim. Al-Bayhaqi narrated it, and Ibn Hibban authenticated it. Al-Nawawi said: "Its chain meets the conditions of Muslim."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ (رمضان کا) چاند دیکھنے کے لئے
جمع ہوئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی روزہ رکھے اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیئے۔
اس کی روایت ابوداود اور دارمی نے کی ہے اور حاکم نے بھی اس کی روایت کی ہے اور کہا ہے
کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے موافق ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت کی ہے اور ابن حبان نے اس
حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور امام نووی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
I had seen it.
(1) The statement: "I had seen it." This also indicates that the testimony of one person is accepted for the crescent moon of Ramadan.
Note 1
قوله
(۱) قوله : إني رأيته إلخ فيه أيضًا دل على أنه شهادة الواحد مقبولة في هلال رمضان.
Note 1
ف: مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ہلال رمضان کی گواہی ایک شخص بھی
دے دے تو اس کی گواہی معتبر ہے۔ اس بارے میں بدایہ، عالمگیری اور اعلاء السنن میں لکھا ہے کہ آسمان
پر ابر ہونے سے یا کسی اور وجہ سے رمضان کا چاند دکھائی نہ دے اور ایک عادل یعنی دیندار، پرہیزگار
اور سچے آدمی نے گواہی دی کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے تو ایسے شخص کی گواہی قبول کی جائے گی
خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس کے برخلاف عید کا چاند مطلع صاف نہ ہونے سے دکھائی نہ دے تو ایسی
صورت میں ایک شخص کی گواہی کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ ایسے دو آدمیوں کی گواہی ضروری ہوگی جو معتبر اور
پرہیزگار ہوں اور اگر مطلع بالکل صاف ہو تو ایک یا دو آدمیوں کی گواہی معتبر نہ ہوگی، چاہے وہ رمضان کا
چاند ہو یا عید کا، بلکہ ایسی صورت میں ایک بڑی تعداد کا چاند کے دیکھنے کے بارے میں گواہی دینا
ضروری ہوگا۔12
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(2) The statement: "Measurements of time." In Al-Madarik, it is said: "They are landmarks by which people time their farming, trade, debt settlements, fasting, breaking the fast, the waiting period for women, their menstrual cycles, the duration of pregnancy, and other matters. They are also landmarks for Hajj, by which its time is known."
Note 3
(3) The statement: "Then estimate it." In Al-Qunya, it is narrated from Shams Al-A’immah Al-Halwani that the condition for the obligation of fasting and breaking the fast is the sighting of the crescent moon, and the statement of the astronomers is not relied upon. Then it is narrated from Majd Al-A’immah Al-Tarjumani that the companions of Abu Hanifah, except for a few, and Al-Shafi’i agreed that there is no reliance on their statement, and it is not considered, even if they are trustworthy. Al-Maziri said: "The majority of jurists understood the Prophet’s (ﷺ) statement, 'Then estimate it,' to mean completing the count to thirty days, as explained in another hadith. It is not permissible to interpret it as calculating the stars, because if people were required to do so, it would be burdensome for them, as only a few individuals know it. The Lawgiver only commands people with what is known to the majority. This is the position of the majority of jurists from the regions of Hijaz, Iraq, Syria, and Morocco, including Malik, Al-Shafi’i, Al-Awza’i, Al-Thawri, Abu Hanifah, his companions, and the majority of the people of hadith, except for Ahmad and those who agreed with him." This is the summary of what is in Rad Al-Muhtar and Al-Durr Al-Mukhtar.
Chapter-heading commentary
(٢) قوله: مواقيت إلخ: وقال في المدارك»: أي معالم يوقت بها الناس مزارعهم ومتاجرهم ومحال ديونهم وصومهم وفطرهم وعدة نسائهم وأيام حيضهن ومدة حملهن وغير ذلك، ومعالم للحج يعرف بها وقته.
Note 3
(۳) قوله: فاقدروا له وفي القنية»: نقل عن شمس الأئمة الحلواني أن الشرط في وجوب الصوم والإفطار الرؤية ولا يؤخذ فيه بقول الموقتين، ثم نقل عن مجد الأئمة الترجماني أنه اتفق أصحاب أبي حنيفة إلا النادر والشافعي أنه لا اعتماد على قولهم ولا عبرة ولو عدولا. وقال المازري: حمل جمهور الفقهاء قوله ﷺ : فاقدروا له» على أن المراد إكمال العدة ثلاثين، كما فسره في حديث آخر، ولا يجوز أن يكون المراد حساب النجوم؛ لأن الناس لو كلفوا به ضاق عليهم؛ لأنه لا يعرفه إلا الأفراد، والشارع إنما يأمر الناس بما يعرفه جماهيرهم. وعلى هذا مذهب جمهور فقهاء الأمصار بالحجاز والعراق والشام والمغرب منهم مالك والشافعي والأوزاعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه وعامة أهل الحديث إلا أحمد ومن قال بقوله. هذا حاصل ما في رد المحتار» و«الدر المختار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اگر (ابر کی وجہ سے) تم چاند نہ دیکھ سکو تو (رمضان کے) روزوں کا اندازہ کرو (یعنی رمضان کے دنوں کو گن لو، اور پورے تیس دن کی تکمیل کرو) اس بارے میں قنیہ میں شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے کہ رمضان کے روزے رکھنے اور چھوڑنے کے لئے شرط یہ ہے کہ رؤیت ہلال ہو اور اس بارے میں تقویم اور جنتری والوں کے قول کو نہ اختیار کیا جائے اور عبدالائمہ ترجمانی سے بھی منقول ہے کہ بجز شاذ و نادر کے جملہ اصحاب ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کا اسی پر اتفاق ہے کہ اس بارے میں حساب دانوں کے قول پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کے حساب کا اعتبار ہوگا، اگرچہ یہ لوگ ثقہ اور عادل ہوں اور علامہ مازری نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد: ”فَاقْدُرُوا لَهُ“، (یعنی دنوں کو گن لو اور تیس دن کی تکمیل کرو) سے مراد یہی ہے کہ تیس دن کی تکمیل کی جائے جیسا کہ دوسری حدیث میں ”فَاقْدُرُوا لَهُ“، (کی تفسیر ”فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ“ کے الفاظ سے کی گئی ہے (یعنی چاند دکھائی نہ دینے کی صورت میں رمضان کے پورے تیس دن کی تکمیل کر لو) اس لئے ”فَاقْدُرُوا لَهُ“ سے جنتری اور حساب کا مراد لینا درست نہیں، اس لئے کہ لوگوں کو اگر جنتری اور حساب کا مکلف بنایا جائے تو ان پر دشواری ہوگی، کیونکہ حساب اور نجوم سے بہت کم لوگ واقف ہوتے ہیں اور شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسی عام فہم چیزوں کے ذریعہ سے احکام دیتے ہیں جن کے سمجھنے میں کسی کو دقت پیش نہ آئے بلکہ ہر شخص سمجھ سکے، اسی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے روزوں کے بارے میں ایک واضح اور فیصلہ کن حکم دے دیا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑ دو۔ ظاہر ہے کہ اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے اور اسی کو حجاز، عراق، شام اور مغرب کے فقہاء نے اختیار کیا ہے جن میں امام مالک، امام شافعی، امام اوزاعی، امام ثوری اور امام ابوحنیفہ اور آپ کے جملہ تلامذہ ہیں اور اسی کو اکثر محدثین نے بھی اختیار کیا ہے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار، درمختار اور عمدۃ القاری سے ماخوذ ہے۔)