English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts on a Friday, Allah will write for him the reward of ten days, the likes of which are not found in this world." [Narrated by Bayhaqi in Shu’ab al-Iman] Yahya said, "I heard Malik say, 'I have not heard any scholar or jurist whom people follow prohibit fasting on Friday. Fasting on Friday is good, and I have seen some scholars fast on it, and I think they preferred it.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٥٢٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ صَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَتَبَ اللهُ تَعَالَى لَهُ عَشَرَةَ أَيَّامٍ عَدَدَهُنَّ مِنْ أَيَّامِ الْآخِرَةِ، غَرَّاءَ زَهْرَاءَ)، لَا تُشَاكِلُهُنَّ أَيَّامُ الدُّنْيَا». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ، وَقَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُوْلُ: لَمْ أَسْمَعْ أَحْدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ وَمَنْ يُقْتَدَى بِهِ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَصِيَامُهُ حَسَنٌ، وَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَصُوْمُهُ، وَأَرَاهُ كَانَ يَتَحَرَّاهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2977
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے جمعہ کے دن کا روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے
حق میں (ایک دن کے بدلے) دس دن کے روزہ کا ثواب) لکھ دیتے ہیں اور ان میں سے ہر دن
آخرت کے دن کے برابر ہوگا (اور آخرت کے دن کی خصوصیات یہ ہیں کہ آخرت کا ایک دن دنیا
کے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے اور یہ دن) نہایت روشن اور چمک دار ہوتا ہے اور (دنیا کے) یہ
دن (کسی طرح) آخرت کے دن کے مشابہ نہیں ہوں گے۔ (جمعہ کے ایک دن روزہ رکھنے سے دس
دنوں کا جو ثواب ملے گا ان میں سے ہر دن مذکورہ بالا خصوصیات کا حامل ہوگا) اس کی روایت بیہقی
نے شعب الایمان میں کی ہے۔
اور یحییٰ نے کہا ہے کہ میں نے امام مالک کو یہ کہتے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ میں نے
کسی عالم اور فقیہ اور کسی ایسے شخص کو جس کی لوگ اقتداء کرتے ہوں جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع
کرتے ہوئے نہیں سنا۔
اور امام مالک نے یہ بھی فرمایا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے بلکہ میں نے خود اہل علم کو
دیکھا ہے کہ وہ جمعہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا اہتمام اور پابندی کیا کرتے تھے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں مذکور ہے کہ جس طرح دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ منفرداً رکھنا مستحب ہے اسی طرح علمائے احناف کے پاس جمعہ کا روزہ بھی منفرداً رکھنا مستحب ہے۔ بحر الرائق میں بھی ایسا ہی مذکور ہے اور صدر کی مذکورہ حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔12