Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) would fast so much that we would say, ‘He does not break his fast,’ and he would break his fast so much that we would say, ‘He does not fast.’ I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) complete a month of fasting except Ramadan, and I never saw him fast more in any month than in Sha’ban. He would fast all of Sha’ban 1 except a little.”
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کبھی نفل) روزے متواتر رکھے چلے جاتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے
تھے کہ آپ اب (نفل) روزے نہیں چھوڑیں گے، اور اسی طرح (کبھی نفل) روزے چھوڑ دیتے
تھے تو ہم کہتے تھے کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفل روزے نہیں رکھیں گے (یعنی نفل
روزے رکھنے کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص عادت مبارکہ نہ تھی) اور (حضرت عائشہؓ یہ
بھی فرماتی ہیں کہ) میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کسی ماہ میں بجز رمضان المبارک کے پورے مہینے
کے روزے رکھے ہوں، ہاں ماہ رمضان میں پورے روزے رکھا کرتے تھے اور میں حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ماہ شعبان میں جس قدر زائد روزے رکھتے دیکھی تھی، کسی اور مہینے میں اتنے روزے
رکھتے نہیں دیکھی۔
اور ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ماہ شعبان میں پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے، سوائے چند دنوں کے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
And the words of Allah Almighty: “Whatever good you send ahead for yourselves, you will find it with Allah.” (Qur’an 2:110)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1969 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1156a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He would fast all of Sha’ban.
(1) The statement: “He would fast all of Sha’ban.” In Fath al-Qadir, it is said: “Fasting all of Sha’ban and connecting it to Ramadan is good.” The recommended types of fasting are: fasting in Muharram, fasting in Rajab, fasting in Sha’ban, and fasting on the day of Ashura (the 10th of Muharram), according to the majority of scholars and the Companions. This is mentioned in Al-Zahiriyyah and Al-Alamkiriyyah. If someone asks, “Why did the Prophet (ﷺ) specifically fast more in Sha’ban?” The answer is: Because the deeds of people are raised to Allah in Sha’ban. In Al-Nasa’i, it is narrated from Usamah that he said: “O Messenger of Allah, I notice that you fast more in Sha’ban than in any other month.” The Prophet (ﷺ) said: “That is a month in which deeds are raised to the Lord of the worlds, and I love for my deeds to be raised while I am fasting.” This is mentioned by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Note 1
قوله
(۱) قوله : كان يصوم شعبان كله قال في فتح القدير: ومن صام شعبان و وصله برمضان فحسن انتهى. والمرغوبات من الصيام أنواع، أولها : صوم المحرم. والثاني: صوم رجب. والثالث: صوم شعبان وصوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة له. كذا في الظهيرية». قاله في العالمكيرية». فإن قلت: ما وجه تخصيصه بشعبان بكثرة الصوم؟ قلت: لكون أعمال العباد ترفع فيه، ففي النسائي من حديث أسامة. قلت: يا رسول الله! أراك لا تصوم من شهر من الشهر ما تصوم من شعبان؟ قال: ذاك شهر ترجع فيه الأعمال إلى رب العالمين، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم. قاله العلامة العيني في عمدة القاري».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان کے
پورے روزے رکھا کرتے تھے۔ اس بارے میں فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص شعبان کے
پورے روزے رکھ کر ماہ رمضان کے روزوں سے ان کا اتصال کر دے تو بہتر ہے، جن نفل روزوں کی
ترغیب دی گئی ہے ان کی قسمیں یہ ہیں:
(1) ماہ محرم میں روزے رکھنا (2) ماہ رجب میں روزے رکھنا (3) ماہ شعبان میں روزے رکھنا
(4) اور یوم عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ۔ لیکن مسنون یہ ہے کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کو بھی
روزہ رکھ لیا جائے۔ یہ فتاویٰ عالمگیریہ میں فتح القدیر اور ظہیریہ کے حوالے سے لکھا ہے۔
اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ شعبان میں جس قدر زیادہ روزے رکھتے ہیں اتنے کسی اور
مہینہ میں نہیں رکھتے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ماہ شعبان میں بندوں کے
اعمال اللہ تعالیٰ کے پاس پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حالت میں
اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔12
Abdullah ibn Shaqiq reported: “I asked Aisha (may Allah be pleased with her), ‘Did the Prophet (ﷺ) fast an entire month?’ She said, ‘I do not know of him fasting an entire month except Ramadan, nor did he break his fast entirely until he would fast some of it, and this continued until he passed away.’” [Narrated by Muslim]
The hadith about the crescent moon has been mentioned in the chapter on sighting the crescent.
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اے ام المومنین کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (رمضان کے سوا) کسی اور مہینہ میں پورے مہینہ کے روزے رکھا کرتے تھے؟ تو (یہ سن کر) ام
المومنین نے فرمایا: میں نہیں جانتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے سوا کسی اور مہینہ میں
پورے دنوں کے روزے رکھے ہوں لیکن کوئی مہینہ ایسا نہیں ہوتا تھا جس میں آپ بالکل روزے نہ
رکھتے ہوں (یعنی ہر مہینہ میں کچھ نہ کچھ روزے رکھا کرتے تھے) اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
آخری عمر تک یہی حال رہا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best fasting after Ramadan is fasting in the month of Allah, Muharram, and the best prayer after the obligatory prayers is the night prayer.” 2
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ رمضان کے (روزوں کے بعد) جن روزوں کی بڑی فضیلت ہے وہ ماہ
محرم الحرام کے روزے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نمازوں کے بعد جس نماز کی فضیلت ہے وہ
رات کی نماز یعنی تہجد ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
The night prayer.
(2) The statement: “The night prayer.” I say: It is better than the daytime prayer, as mentioned in Al-Jawharah and Nur al-Idah. The Qur’an and hadiths clearly emphasize its virtue and encourage it. In Al-Bahr, it is said: “Among them is what is in Sahih Muslim, where it is narrated: ‘The best prayer after the obligatory prayers is the night prayer.’” This is mentioned in Rad al-Muhtar.
Note 2
قوله
(۲) قوله: صلاة الليل: أقول: هي أفضل من صلاة النهار، كما في «الجوهرة» و «نور الإيضاح»، وقد صرحت الآيات والأحاديث بفضلها والحث عليها. قال في البحر»: فمنها ما في صحيح مسلم مرفوعا: أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل. قاله في رد المحتار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ فرض نمازوں کے بعد جس نماز کی فضیلت ہے وہ
رات کی نماز یعنی تہجد ہے، اس بارے میں ”جوہرہ اور نور الایضاح“ میں لکھا ہے کہ دن کی نفل
نمازوں سے تہجد افضل ہے، اس لئے کہ کئی آیات اور احادیث میں تہجد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
وارد ہے جیسا کہ ”بحر“ میں مذکور ہے۔ ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔12
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: “I never saw the Prophet (ﷺ) prioritize fasting any day over others except the day of Ashura 1 and the month of Ramadan.”
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشورا کے سوا کسی اور دن کو افضل جانتے ہوئے اس میں روزہ
رکھا ہو، اور اس مہینہ یعنی رمضان کے علاوہ (کسی اور مہینہ کو افضل جانتے ہوئے) اس میں روزے
رکھے ہوں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2006 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1132b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The day of Ashura.
(1) The statement: “The day of Ashura.” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting on the day of Ashura is recommended, as long as it is not mistaken for an obligation.” This is mentioned in Al-Mirqat. There is a difference of opinion regarding its ruling in early Islam. Abu Hanifah said: “It was obligatory, but when the fasting of Ramadan was prescribed, it became recommended.” This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
Note 1
قوله
(۱) قوله: يوم عاشوراء وقال الشيخ ابن الهمام: يستحب صوم يوم عاشوراء ما لم يظن إلحاقه بالواجب. كذا في «المرقاة». واختلفوا في حكمه أول الإسلام، فقال أبو حنيفة: كان واجبا فلما نزل صوم رمضان صار مستحبا. قاله في عمدة القاري».
Note 1
ف: شیخ ابن الہمام نے فرمایا ہے کہ عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس کو
واجب نہ قرار دیا جائے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ابتداء اسلام میں جبکہ رمضان کے
روزے فرض نہیں ہوئے تھے یوم عاشوراء کا روزہ فرض تھا لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو
عاشوراء کا روزہ مستحب ہوگیا۔ مرقات اور عمدۃ القاری۔12
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that when the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Madinah, he found the Jews fasting on the day of Ashura. He asked them, “What is this day you are fasting?” They replied, “This is a great day on which Allah saved Musa and his people and drowned Pharaoh and his people. Musa fasted it out of gratitude, so we fast it.” The Messenger of Allah (ﷺ) said, “We are more deserving of Musa than you,” so he fasted it and commanded others to fast it.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب
مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے عاشوراء کے دن یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، آپ نے
ان سے دریافت کیا کہ (تمہارے نزدیک یہ) کیسا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو تو یہودیوں نے
جواب دیا کہ (ہمارے پاس) یہ بڑا عظمت والا دن ہے، اسی روز اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ
السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
بطور شکرانہ کے روزہ رکھا تھا اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ بدرجہ اولیٰ حضرت موسیٰ
علیہ السلام کی اتباع کریں۔ پس آپ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس
دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) would command us to fast the day of Ashura, encourage us to do so, and check on us regarding it. When Ramadan was made obligatory, he neither commanded us nor forbade us from fasting it, nor did he check on us regarding it.”
جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ہم کو یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے اور اس کی ترغیب دلاتے اور (عاشوراء کا دن
قریب آ جانے پر) ہماری خبر گیری فرماتے (کہ ہم اس کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں) پھر جب
رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ نے نہ تو ہم کو (عاشوراء کا روزہ رکھنے کا) حکم دیا اور نہ اس
سے منع فرمایا اور نہ اس کے بارے میں ہماری خبر گیری فرمائی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said about fasting the day of Ashura: “Fast it, and fast a day before it 2 or a day after it, and do not resemble the Jews.”
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
یوم عاشوراء کے روزے کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ) عاشوراء کا روزہ رکھو اور عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو اور
(صرف عاشوراء کا روزہ رکھ کر) یہود سے مشابہت پیدا نہ کرو۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
(2) The statement: “Fast a day before it...” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting the day of Ashura is recommended, and it is recommended to fast a day before it or a day after it. If one fasts it alone, it is disliked due to resembling the Jews.” Ahmad narrated: “Fast the day of Ashura, differ from the Jews, and fast a day before it and a day after it.” The apparent meaning is that “and” means “or,” as indicated by this hadith, because differing from the Jews is achieved by either. Al-Shafi’i took the apparent meaning of Ahmad’s narration, so they combine all three. This is taken from Al-Mirqat.
Note 2
قوله
(۲) قوله: صوموا قبله إلخ وقال الشيخ ابن الهمام: يستحب صوم يوم عاشوراء، ويستحب أن يصوم قبله يوما، أو بعده يوما، فإن أفرده فهو مكروه للتشبه باليهود. وروى أحمد خبر صوموا يوم عاشوراء، وخالفوا اليهود، وصوموا قبله يوما وبعده يوما. وظاهره أن الواو بمعنى «أو»؛ لدلالة هذا الحديث عليه، ولأن المخالفة تحصل بأحدهما. وأخذ الشافعي بظاهر حديث أحمد، فيجمعون بين الثلاثة، أخذته من «المرقاة».
Note 1
ف: شیخ ابن الہمام نے کہا ہے کہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ
عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھا جائے اور اگر صرف عاشوراء کا روزہ رکھا تو یہود
کی مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہوگا۔
اور امام احمد رحمہ اللہ نے حدیث صدر کو اس طرح روایت کیا ہے کہ ”عاشوراء کا روزہ رکھو اور
یہود کی مخالفت (اس طرح) کرو کہ عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔
(یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔)12
Umm Al-Fadl bint Al-Harith (may Allah be pleased with her) narrated: “Some people argued in her presence on the day of Arafah about whether the Messenger of Allah (ﷺ) was fasting. Some said he was fasting, and others said he was not. She sent him a cup of milk while he was standing on his camel, and he drank it.” 1
ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے (جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیوی
ہیں) روایت ہے کہ ان کے پاس (عرفات کے میدان میں) چند آدمیوں نے عرفہ کے دن رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ دار ہونے سے متعلق اختلاف کیا۔ کسی نے کہا کہ حضور ﷺ روزہ
دار ہیں، اور کسی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ دار نہیں ہیں (یہ سن کر) میں نے ایک پیالہ
دودھ حضور ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات میں اپنے
اونٹ پر تشریف فرما تھے، پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں دودھ پی لیا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1988 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1123a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He drank it.
(1) The statement: “He drank it.” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting on the day of Arafah is recommended for non-pilgrims. For pilgrims, if fasting weakens them from standing and supplicating, it is recommended to break the fast. Some say it is disliked, but this is a dislike of a less preferred action (karahah tanzih), as it may detract from more important acts at that time.” This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فشربه وقال الشيخ ابن الهمام: صوم يوم عرفة لغير الحاج مستحب، وللحاج إن كان يضعفه عن الوقوف والدعوات فالمستحب تركه وقيل يكره، وهي كراهة تنزيه؛ لأنه لإخلاله بالأهم في ذلك الوقت. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: شیخ ابن الہمام رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا اس شخص کے لئے مستحب ہے
جو حج کی حالت میں نہ ہو اور جو شخص حج کی حالت میں ہو، اور روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو کمزوری لاحق
ہوتی ہو اور وقوف عرفہ اور اس دن کی دعاؤں میں اس کو رکاوٹ ہوتی ہو تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ
ہے کہ وہ عرفہ کے دن روزہ نہ رکھے، اور بعضوں نے کہا ہے کہ حج کرنے والے کے لئے عرفہ کے دن کا
روزہ رکھنا مکروہ ہے لیکن یہ کراہت تنزیہی ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی وجہ سے وہ اس دن کی اہم ترین
چیز دعاؤں وغیرہ سے عاجز رہ جاتا ہے اور اس دن دعاؤں میں مشغول رہنا اہم ترین چیز ہے۔
(یہ مرقات میں مذکور ہے۔)12
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے (حاجیوں کے لئے) عرفات کے میدان میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Hafsah (may Allah be pleased with her) narrated: “There were four practices the Prophet (ﷺ) never abandoned: fasting on Ashura, fasting the first ten days of Dhul-Hijjah, 2 fasting three days every month, and praying two rak’ahs before Fajr.”
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ چار
چیزیں ایسی تھیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے:(1) یوم عاشوراء یعنی دسویں
محرم کا روزہ رکھنا (2) ذوالحجہ کے پہلے دس (کے نو9) روزے رکھنا۔ (3) ہر مہینہ (ایام بیض یعنی
ہلالی مہینہ کی (14,13 اور15) کے تینوں دنوں میں (روزہ رکھنا) اور نماز کے پہلے دو رکعت
(سنت) کا پڑھنا۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
The first ten days.
(2) The statement: “The first ten days.” In Al-Alamkiriyyah, it is said: “It is recommended to fast the first nine days of Dhul-Hijjah.” This is mentioned in Al-Siraj al-Wahaj.
Note 2
قوله
(۲) قوله: والعشرة: وفي العالمكيرية»: ويستحب صوم تسعة أيام من أول ذي الحجة. كذا في «السراج الوهاج».
Note 1
ف: فتاویٰ عالمگیریہ میں السراج الوہاج کے حوالہ سے مذکور ہے کہ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ سے
لے کر نویں تاریخ تک نو(9) روزے رکھنا مستحب ہے۔
Some of the wives of the Prophet (ﷺ) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to fast nine days of Dhul-Hijjah, the day of Ashura, and three days of every month, specifically Monday and Thursday. 3 [Narrated by Nasa’i] Abu Dawud narrated something similar.
بعض امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ماہ ذوالحجہ کے نو(9) روزے (یعنی پہلی سے نو تک) رکھا کرتے تھے اور یوم عاشوراء کا روزہ
اور ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے جن میں پہلا روزہ دوشنبہ کا ہوتا اور دو روزے پنجشنبہ کے
ہوتے۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 2437 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
Monday...
(3) The statement: "Monday..." In Rad al-Muhtar, it is said: "Among the recommended acts is fasting on Mondays and Thursdays."
Note 3
قوله
(۳) قوله: اثنين إلخ : وقال في رد المحتار: ومن المندوب صوم الاثنين والخميس.
Note 1
ف: زاد المحتاج میں لکھا ہے کہ دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور نسائی کی ایک اور
روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوشنبہ اور پنجشنبہ کے روزوں کی تفصیل اس طرح مذکور ہے کہ دوشنبہ
کے روزے سے مراد ہلالی ماہ کا نوچندی دوشنبہ یعنی پہلا دوشنبہ ہے اور پنجشنبہ کے دو روزوں سے مراد نو
چندی دوشنبہ کے بعد والا پہلا اور دوسرا پنجشنبہ ہے۔
اور نسائی کی ایک اور روایت میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دوشنبہ اور پنجشنبہ کے
روزوں کی تفصیل اس طرح مذکور ہے کہ پنجشنبہ کے روزہ سے مراد ہلالی ماہ کا پہلا پنجشنبہ ہے اور دوشنبہ
کے روزوں سے مراد پہلے پنجشنبہ کے بعد والا پہلا اور دوسرا دوشنبہ ہے۔
علامہ سندھی نے لکھا ہے: مہینہ کے تین روزے پیر اور جمعرات میں اس طرح رکھے جائیں
کہ چاہے ایک پیر اور دو جمعرات ہوں یا ایک جمعرات اور دو پیر آ جائیں۔12
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that a man came to the Prophet (ﷺ) and asked, "How do you fast?" The Messenger of Allah (ﷺ) became angry at his question. When Umar (may Allah be pleased with him) saw his anger, he said, "We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Prophet. We seek refuge in Allah from the anger of Allah and His Messenger." Umar kept repeating these words until the Prophet’s anger subsided. Then Umar said, "O Messenger of Allah, what about someone who fasts every day of the year?" The Prophet (ﷺ) said, "He has not fasted nor broken his fast," 4 or he said, "He did not fast nor break his fast." Umar asked, "What about someone who fasts two days and breaks his fast on the third day?" The Prophet (ﷺ) said, "Can anyone do that?" Umar asked, "What about someone who fasts one day and breaks his fast the next day?" The Prophet (ﷺ) said, "That is the fast of Dawud." Umar asked, "What about someone who fasts one day and breaks his fast for two days?" The Prophet (ﷺ) said, "I wish I were given the strength to do that." Then the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Fasting three days of every month and Ramadan to Ramadan is like fasting the entire year. Fasting the day of Arafah, I hope Allah will expiate the sins of the previous year and the coming year. Fasting the day of Ashura, I hope Allah will expiate the sins of the previous year."
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ آپ کس طرح روزہ رکھتے ہیں؟ اس شخص کے
طرح سوال کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا (کیونکہ اس کو سوال اس طرح کرنا
چاہئے تھا کہ میں روزہ کس طرح رکھوں۔ نہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح روزہ رکھتے
ہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اعمال، اسرار اور مصالح پر مشتمل ہیں جن کی
امت میں تاب نہیں) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ دیکھا تو
یہ کہنا شروع کیا:
ہم اس بات سے راضی ہیں کہ اللہ ہمارا پروردگار ہے۔ اور اس بات سے بھی راضی ہیں کہ
اسلام ہمارا دین ہے۔ اور راضی ہیں اس بات سے بھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نبی
ہیں، ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب سے اور اللہ کے رسول ﷺ کے غضب سے۔
حضرت عمرؓ بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ جاتا رہا (جب
حضرت عمرؓ نے یہ دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے) تو خود حضرت عمرؓ
نے (روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کے آداب اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے) اس طرح سوال
کرنا شروع کیا کہ یا رسول اللہ اس شخص کا کیا حال ہے جو ہر روز روزہ رکھتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے جواب دیا: ایسے شخص نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا (یعنی روزہ نہ رکھا۔ اس لئے کہ
ہمیشہ روزہ رکھنے سے وہ روزہ کا عادی ہوجاتا ہے اور ہمیشہ روزہ رکھنے کی وجہ سے روزہ کی مشقت باقی
نہیں رہتی، اور عبادت نام ہے عادت کو توڑنے کا) حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا: (یا رسول اللہﷺ!)
اس شخص کا کیا حال ہے جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دے: تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے (یہ سن کر) فرمایا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا: کہ اگر کوئی شخص ایک
دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ نہ رکھے تو اس کا کیا حال ہے: تو حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ حضرت
داؤد پیغمبر علیہ السلام کا روزہ ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص ایک دن روزہ رکھے اور
دو دن روزہ چھوڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: میں دل سے چاہتا ہوں) کہ مجھے اس کی طاقت
ملے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بطور خود مستحب روزوں کی تفصیل اس طرح ارشاد
فرمائی کہ) ہر مہینہ میں تین روزے (رکھنا) خواہ وہ ایام بیض میں ہوں یا دوشنبہ اور پنجشنبہ کے روزے
ہوں) اور رمضان کے روزے (رکھنے والے کا حکم) اس شخص کا ہے جیسے اس نے سال بھر کے
روزے رکھے (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ’’جو
ایک نیکی کرے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ اس طرح ہر مہینہ کے تین روزے گویا ثواب میں
تیس روزوں کے برابر ہیں، اس کے بعد حضورﷺ نے پھر فرمایا کہ) عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے
مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کو اور آنے
والے ایک سال کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے اور عاشوراء کے دن روزہ رکھنے سے مجھے امید
ہے کہ اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے سال کے گناہوں کا کفارہ بنا دیں گے (عرفہ
کے روزہ کی فضیلت عاشوراء کے روزہ پر اس لئے ہے کہ عرفہ کا روزہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم میں مستحب قرار دیا گیا اور عاشوراء کا روزہ شریعت موسوی (على صاحبها السلام) میں تھا۔ جس
کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بطور مستحب کے باقی رکھا)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1162a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 4
He has not fasted nor broken his fast.
(4) The statement: "He has not fasted nor broken his fast." Shaykh Ibn al-Humam said: "Fasting the entire year is disliked because it weakens a person or becomes a habit, and worship is based on going against one’s habits." This is mentioned in Al-Mirqah.
Note 4
قوله
(٤) قوله : لا صام ولا أفطر: وقال الشيخ ابن الهمام يكره صوم الدهر ؛ لأنه يضعفه أو يصير طبعا له، ومبني العبادة على مخالفة العادة. كذا في «المرقاة».
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "O Abu Dharr, if you fast three days of the month, then fast the 13th, 14th, and 15th."
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: اے ابوذر! جب تم مہینہ کے تین دن کے (نفل) روزے رکھنا چاہو تو
(ہلالی ماہ کی) تیرہ، چودہ اور پندرھویں (تاریخ) کو روزہ رکھا کرو (ان کو ایام بیض کہتے ہیں)۔
اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him, "O Abdullah, have I not been informed that you fast during the day and stand in prayer at night?" I said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, "Do not do that. Fast and break your fast, stand in prayer and sleep, for your body has a right over you, your eyes have a right over you, your wife has a right over you, and your guest has a right over you. Fasting three days of every month is like fasting the entire year. Fast three days of every month and recite the Quran once every month." 1 I said, "I am capable of more than that." He said, "The best fast is the fast of Dawud: fasting one day and breaking the fast the next. Recite the Quran once every seven nights and do not exceed that." [Agreed upon]
In a narration by Tirmidhi, the Prophet (ﷺ) said, "He has not understood who recites the Quran in less than three days."
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک روز) مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم
(ہر روز) دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو، کیا یہ صحیح ہے؟ میں نے عرض کیا: جی
ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہ
کرو بلکہ روزہ بھی رکھا اور روزہ ترک بھی کرو، رات کو عبادت بھی کرو، اور سویا بھی کرو۔ اس لئے کہ
تمہارے جسم کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور
تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔ جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، گویا اس نے روزہ ہی نہ رکھا۔ ہر مہینہ
میں تین روزے رکھا (ثواب میں) ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے، تو تم ہر مہینہ صرف تین روزے
رکھ لیا کرو، اور ہر مہینہ میں ایک قرآن پڑھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم!) مجھے اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت ہے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: تو تم صوم داؤدی رکھا کرو جو روزوں میں بہترین روزے ہیں اور صوم داؤدی ایک دن روزہ
رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا ہے اور سات راتوں (یعنی ایک ہفتہ میں) ایک قرآن پڑھا کرو، اور
(روزوں کے رکھنے اور قرآن کے پڑھنے میں) اس سے زیادہ مشقت نہ اٹھاؤ۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور ترمذی کی ایک روایت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیا گویا
اس نے قرآن نہیں سمجھا (کنز الدقائق میں لکھا ہے کہ کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چالیس
دن میں ایک قرآن ختم کر لینا چاہئے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1975 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Three...
(1) The statement: "Three..." In Kanz al-Daqa’iq, it is said: "One should not complete the Quran in less than three days nor exceed forty days." This is mentioned in Al-Urf al-Shadhi.
Note 1
قوله
(۱) قوله : ثلاث إلخ وفي كنز الدقائق»: لا يختم في أقل من ثلاثة أيام ولا يزيد على أربعين يوما. قاله في «العرف الشذي».
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) would not fast the bright days (13th, 14th, and 15th of the lunar month) whether he was at home or traveling.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ایام بیض کے روزے کبھی نہیں چھوڑتے تھے خواہ آپ گھر میں ہوں یا سفر پر ہوں۔
اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about fasting on Mondays. He said, "On that day I was born, and on that day revelation was sent down to me."
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آپ دوشنبہ کے دن روزہ رکھا کرتے ہیں (اس کا کیا سبب ہے؟)
آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں دوشنبہ ہی کو پیدا ہوا ہوں اور مجھ پر دوشنبہ ہی سے وحی نازل ہونا شروع
ہوئی (اسی کے شکرانہ میں میں روزہ رکھا کرتا ہوں)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کبھی) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Deeds are presented on Mondays and Thursdays, and I love that my deeds be presented while I am fasting."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (بندوں کے) اعمال (اللہ تعالیٰ کے دربار میں) پیر اور جمعرات کو پیش
کئے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حالت میں پیش ہو کہ میں روزہ سے رہوں۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) used to fast on Mondays and Thursdays. It was said to him, "O Messenger of Allah, you fast on Mondays and Thursdays?" He said, "On Mondays and Thursdays, Allah forgives every Muslim except two who are in conflict. He says, 'Leave them until they reconcile.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیر اور
جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے تو آپ سے پوچھا گیا کہ آپ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے ہیں
تو آپ نے ارشاد فرمایا: (ہاں!) اس لئے کہ پیر اور جمعرات ایسے (فضیلت والے) دن ہیں کہ ان
میں اللہ تعالیٰ ہر مسلمان (کے گناہوں) کو بخش دیتے ہیں، بجز ان کے جو (آپس میں لڑ کر) قطع تعلق
کر لیں (اور اللہ تعالیٰ مغفرت کا سوال کرنے والے فرشتے سے) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو چھوڑ دو تا
وقتیکہ یہ آپس میں مصالحت کر لیں۔ اس کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts Ramadan and then follows it with six days of Shawwal, 1 it is as if he fasted the entire year."
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے مہینہ میں مزید چھ
(نفل) روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال بھر کے روزے رکھے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Then follows it...
(1) The statement: "Then follows it..." In Alamgiriyyah, it is said: "Fasting six days of Shawwal is disliked according to Abu Hanifah, whether done consecutively or separately. According to Abu Yusuf, it is disliked if done consecutively but not if done separately. However, most later scholars saw no issue with it." This is mentioned in Bahr al-Raiq. The correct view is that there is no harm in it. This is mentioned in Muhit al-Sarakhsi.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثم أتبعه إلخ: وفي العالمكيرية» ويكره صوم ستة من شوال عند أبي حنيفة ، متفرقا كان أو متتابعا، وعن أبي يوسف كراهته متتابعا لا متفرقا، لكن عامة المتأخرين لم يروا به بأسا، هكذا في البحر الرائق»، والأصح إنه لا بأس به. كذا في محيط السرخسي».
Note 1
ف: واضح ہو کہ ستہ شوال رمضان سے متصل متواتر رکھ سکتے ہیں، یا پورے مہینہ میں متفرق چھ
روزے رکھ سکتے ہیں۔12
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on the days of Eid al-Fitr and Eid al-Adha. [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Ziyad ibn Jubayr, it is reported that a man came to Ibn Umar and said, "I vowed to fast a day, 2 and it coincided with Eid al-Adha or Eid al-Fitr." Ibn Umar said, "Allah has commanded the fulfillment of vows, but the Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on this day."
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور عید اضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور مسلم کی ایک اور روایت میں زیاد بن جبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک دن روزہ رکھنے کی نذر مانی
ہے اور وہ دن اتفاق سے عید کے دن یعنی عید قربانی یا عید فطر کے دن آ گیا ہے (مجھے کیا کرنا چاہئے)
تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پورا کرنے کا حکم دیا (لہذا تم اور کسی دن
اس کی قضاء کر لو، اس لئے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن یعنی عید الفطر اور عید اضحیٰ
کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دو دنوں میں یعنی عید الفطر اور عید اضحیٰ میں روزہ رکھنا جائز نہیں
ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1991 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1138a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
I vowed...
(2) The statement: "I vowed..." Even if one vows to fast on the prohibited days or to fast the entire year, it is valid according to the preferred opinion. They differentiated between vows and initiating fasting, as initiating fasting is sinful while the vow itself is an act of obedience. Thus, it is valid, but one must break the fast on the prohibited days to avoid sin and make up for it later to fulfill the obligation. This is indicated by this hadith. The meaning is that it can be made up for, thus fulfilling the command and avoiding the prohibition. This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar, summarized from them.
Note 2
قوله
(۲) قوله: إني نذرت إلخ ولو نذر صوم الأيام المنهية أو صوم هذه السنة صح مطلقا على المختار، وفرقوا بين النذر، والشروع فيها بأن نفس الشروع معصية ونفس النذر طاعة فصح، ولكنه أفطر الأيام المنهية وجوبا تحاميا عن المعصية، وقضاها إسقاطاً للواجب، ويدل عليه هذا الحديث، والمعنى: أنه يمكن قضاءه، فيخرج به عن عهدة الأمر والنهي. الدر المختار» ورد المحتار» ملتقط منهما.
Nubayshah al-Hudhali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "The days of Tashriq are days of eating, drinking, and remembering Allah."
نُبَیْشَہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ ایام تشریق (یعنی 11،12 اور 13 ذوالحج) کھانے پینے اور اللہ کی یاد کے دن
ہیں (اس لئے ان دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1141b (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: درمختار اور ردالمحتار میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اَیَّام مَنْہِیَّہ (ممانعت کے ایام) یعنی
عیدالفطر کے روز اور عیدالاضحی اور ایام تشریق یعنی ذوالحج کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ان پانچ
دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر کرے یا پورے سال بھر کے روزوں کی نذر مانے تو قول مختار یہ ہے کہ ایسے
شخص کی یہ نذر مطلقاً صحیح ہے اس لئے کہ نذر ماننا طاعت ہے لیکن اس کو چاہئے کہ ان اَیَّام مَنْہِیَّہ میں
روزہ رکھنے سے وجوباً پرہیز کرے تاکہ وہ معصیت سے بچ جائے اور ان ممنوعہ ایام میں اس نے روزوں
کی جو نذر مانی تھی اور جس کی ادائی اس پر واجب ہوچکی ہے ان دنوں کے روزوں کو وہ دوسرے دنوں
میں قضا کرلے، تاکہ نذر ماننے کا وجوب اس سے ساقط ہوجائے اور ممنوعہ ایام میں روزہ رکھنے کے گناہ
سے بچ جائے۔
اسی لئے علماء احناف نے وضاحت کی ہے کہ ان ممنوعہ ایام میں روزوں کی نذر تو درست
ہے مگر ان میں روزہ رکھنا گناہ ہے۔ اور صدر کی مذکورہ احادیث سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے۔12
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated, "I rarely 1 saw the Messenger of Allah (ﷺ) breaking his fast on a Friday." [Narrated by Ibn Majah] Tirmidhi and Nasa’i narrated something similar. Tirmidhi said, "This hadith is hasan gharib." It was authenticated by Ibn Hibban, Ibn Abd al-Barr, and Ibn Hazm.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت
کم دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے ہوں (یعنی آپ اکثر
جمعہ کا روزہ رکھا کرتے تھے)۔
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1725 (unverified) 95% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 742 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Rarely...
(1) The statement: "Rarely..." In Alamgiriyyah, it is said: "Fasting on Friday alone is recommended according to the general opinion, like Monday and Thursday." This is mentioned in Bahr al-Raiq. In Al-Urf al-Shadhi, it is said: "Fasting on Friday is recommended as mentioned in Al-Durr al-Mukhtar. However, the commentators differed on its recommendation. In my opinion, if there is a fear of misunderstanding, one should not fast; otherwise, it is recommended. This reconciles the juristic and hadith narrations."
Note 1
قوله
(۱) قوله: قلما إلخ: وفي العالمكيرية»: وصوم يوم الجمعة بإنفراده مستحب عند العامة كالاثنين والخميس. كذا في «البحر الرائق» انتهى.
وفي العرف الشذي: يستحب صوم يوم الجمعة كما في الدر المختار»، إلا أن المحشيين ردوا في الاستحباب، وعندي إن كان يتوهم فساد الاعتقاد فلا يصوم، وإلا فيستحب، وهكذا يجمع في الروايات الفقهية والحديثية.
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated, "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) breaking his fast on a Friday." [Narrated by Ibn Abi Shaybah] In a narration from Ibn Abbas, something similar is reported.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے دن روزہ چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ کی دوسری روایت میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے
اسی طرح مروی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts on a Friday, Allah will write for him the reward of ten days, the likes of which are not found in this world." [Narrated by Bayhaqi in Shu’ab al-Iman] Yahya said, "I heard Malik say, 'I have not heard any scholar or jurist whom people follow prohibit fasting on Friday. Fasting on Friday is good, and I have seen some scholars fast on it, and I think they preferred it.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے جمعہ کے دن کا روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے
حق میں (ایک دن کے بدلے) دس دن کے روزہ کا ثواب) لکھ دیتے ہیں اور ان میں سے ہر دن
آخرت کے دن کے برابر ہوگا (اور آخرت کے دن کی خصوصیات یہ ہیں کہ آخرت کا ایک دن دنیا
کے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے اور یہ دن) نہایت روشن اور چمک دار ہوتا ہے اور (دنیا کے) یہ
دن (کسی طرح) آخرت کے دن کے مشابہ نہیں ہوں گے۔ (جمعہ کے ایک دن روزہ رکھنے سے دس
دنوں کا جو ثواب ملے گا ان میں سے ہر دن مذکورہ بالا خصوصیات کا حامل ہوگا) اس کی روایت بیہقی
نے شعب الایمان میں کی ہے۔
اور یحییٰ نے کہا ہے کہ میں نے امام مالک کو یہ کہتے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ میں نے
کسی عالم اور فقیہ اور کسی ایسے شخص کو جس کی لوگ اقتداء کرتے ہوں جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع
کرتے ہوئے نہیں سنا۔
اور امام مالک نے یہ بھی فرمایا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے بلکہ میں نے خود اہل علم کو
دیکھا ہے کہ وہ جمعہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا اہتمام اور پابندی کیا کرتے تھے۔
ف: واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں مذکور ہے کہ جس طرح دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ منفرداً رکھنا
مستحب ہے اسی طرح علمائے احناف کے پاس جمعہ کا روزہ بھی منفرداً رکھنا مستحب ہے۔ بحر الرائق میں
بھی ایسا ہی مذکور ہے اور صدر کی مذکورہ حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔12
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Do not single out the night of Friday 2 for standing in prayer among all the nights."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اور راتوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ کی رات کو عبادت کے لئے مختص مت کیا
کرو (بلکہ ہر رات کو شب بیداری رکھو اور کچھ نہ کچھ عبادت کیا کرو۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts a day for the sake of Allah, Allah will keep his face away from the Fire for seventy years."
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد وغیرہ میں)
ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوزخ (کی راہ) سے ستّر برس (کے فاصلہ تک) دور کر دیں
گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts a day seeking the pleasure of Allah, Allah will keep him away from Hellfire by a distance of seventy years." [Narrated by Ahmad] Bayhaqi narrated in Shu’ab al-Iman from Salamah ibn Qaysar. 1
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس (کسی مسلمان) نے اللہ کی خوشنودی کے لئے ایک دن روزہ رکھا
تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے اس قدر فاصلہ تک دور کر دیں گے جتنی دور تک ایک کوّا اپنے بچپن سے
لے کر مرنے تک اڑتا رہے (کوّے سے تشبیہ اس لئے دی گئی ہے کہ کوّے کی عمر کہا جاتا ہے کہ ایک
ہزار سال کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12)۔
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
اور بیہقی نے اس کی روایت شعب الایمان میں مسلمہ بن قیصر سے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Salamah ibn Qaysar.
(1) The statement: "Salamah ibn Qaysar." What is found in the copies of Mishkat: "Salamah ibn Qays" is a mistake. The correct version is "Salamah ibn Qaysar." This is mentioned in Al-Mirqah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: سلمة بن قيصر : أن ما وقع في نسخ المشكاة»: سلمة بن قيس غلط، والصواب: «سلمة بن قيصر». قاله في «المرقاة».
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts a day for the sake of Allah, Allah will place between him and Hellfire a trench as wide as the distance between heaven and earth."
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں یا حج اور عمرہ
کے دوران میں یا علم دین سیکھنے کے زمانہ میں یا خالصۃً اللہ کی خوشنودی کے لئے۔ جیسا کہ مرقات میں
مذکور ہے۔12) ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اور دوزخ کے درمیان اتنا فاصلہ
حائل فرما دیتے ہیں جتنا فاصلہ آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Busr reported from his sister al-Samma’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Do not fast on Saturdays 2 except for what is obligatory upon you. If one of you finds nothing but a grape or a twig, let him suck on it."
عبداللہ بن بُسر اپنی بہن صماء رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (صرف) ہفتہ کے دن (نفل) روزہ نہ رکھا
کرو، سوائے اس کے کہ تم پر (ایسے روزہ کی ادائی) فرض ہو، اگر تم میں سے کسی کے پاس (کھانے
کے لئے) انگور کے درخت کی چھال یا کسی درخت کی لکڑی کے سوائے اور کچھ نہ ہو تو اسی کو چبا لو (اور
ہفتہ کے دن، روزہ نہ رکھو تاکہ یہود سے مشابہت نہ ہو، جو ہفتہ کو مقدس سمجھ کر اس دن روزہ رکھا
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Do not fast...
(2) The statement: "Do not fast..." The prohibition here is for discouragement according to the majority. This is mentioned by Al-Tibi. In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: "The disliked act is discouraged, like fasting on Ashura alone or Saturday alone."
Note 2
قوله
(۲) قوله : لا تصوموا إلخ والنهي فيه للتنزيه عند الجمهور. قاله الطيبي. وقال في الدر المختار»: والمكروه تنزيها كعاشوراء وحده وسبت وحده.
Note 1
کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ ہفتہ کے دن منفرداً روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے البتہ ہفتہ کے ساتھ
کسی اور دن کو ملا کر روزہ رکھنا مکروہ نہیں ہے۔ جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے۔12)۔
اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “He would fast all of Sha’ban.” In Fath al-Qadir, it is said: “Fasting all of Sha’ban and connecting it to Ramadan is good.” The recommended types of fasting are: fasting in Muharram, fasting in Rajab, fasting in Sha’ban, and fasting on the day of Ashura (the 10th of Muharram), according to the majority of scholars and the Companions. This is mentioned in Al-Zahiriyyah and Al-Alamkiriyyah. If someone asks, “Why did the Prophet (ﷺ) specifically fast more in Sha’ban?” The answer is: Because the deeds of people are raised to Allah in Sha’ban. In Al-Nasa’i, it is narrated from Usamah that he said: “O Messenger of Allah, I notice that you fast more in Sha’ban than in any other month.” The Prophet (ﷺ) said: “That is a month in which deeds are raised to the Lord of the worlds, and I love for my deeds to be raised while I am fasting.” This is mentioned by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Note 1
(۱) قوله : كان يصوم شعبان كله قال في فتح القدير: ومن صام شعبان و وصله برمضان فحسن انتهى. والمرغوبات من الصيام أنواع، أولها : صوم المحرم. والثاني: صوم رجب. والثالث: صوم شعبان وصوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة له. كذا في الظهيرية». قاله في العالمكيرية». فإن قلت: ما وجه تخصيصه بشعبان بكثرة الصوم؟ قلت: لكون أعمال العباد ترفع فيه، ففي النسائي من حديث أسامة. قلت: يا رسول الله! أراك لا تصوم من شهر من الشهر ما تصوم من شعبان؟ قال: ذاك شهر ترجع فيه الأعمال إلى رب العالمين، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم. قاله العلامة العيني في عمدة القاري».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان کے پورے روزے رکھا کرتے تھے۔ اس بارے میں فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص شعبان کے پورے روزے رکھ کر ماہ رمضان کے روزوں سے ان کا اتصال کر دے تو بہتر ہے، جن نفل روزوں کی ترغیب دی گئی ہے ان کی قسمیں یہ ہیں: (1) ماہ محرم میں روزے رکھنا (2) ماہ رجب میں روزے رکھنا (3) ماہ شعبان میں روزے رکھنا (4) اور یوم عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ۔ لیکن مسنون یہ ہے کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کو بھی روزہ رکھ لیا جائے۔ یہ فتاویٰ عالمگیریہ میں فتح القدیر اور ظہیریہ کے حوالے سے لکھا ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ شعبان میں جس قدر زیادہ روزے رکھتے ہیں اتنے کسی اور مہینہ میں نہیں رکھتے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ماہ شعبان میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے پاس پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔12