English
Abu Musa al-Ash’ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The example of a believer who recites the Qur’an is like a citron—its fragrance is pleasant, and its taste is pleasant. The example of a believer who does not recite the Qur’an is like a date—it has no fragrance, but its taste is sweet. The example of a hypocrite who does not recite the Qur’an is like a colocynth—it has no fragrance, and its taste is bitter. And the example of a hypocrite who recites the Qur’an is like a basil—its fragrance is pleasant, but its taste is bitter." [Agreed upon]
In another narration: "The believer who recites the Qur’an and acts upon it is like a citron, and the believer who does not recite the Qur’an but acts upon it is like a date."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٥٦٦ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأَتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا طَيِّبُ. وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلُو. وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانِةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرَّ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالْأُتْرُجَّةِ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ».
اردو
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مسلمان قرآن پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال ترنج کے پھل
جیسی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے اور مزہ بھی عمدہ ہوتا ہے (یعنی قرآن پڑھنے والے مسلمان کا
ظاہر و باطن دونوں اچھے ہوتے ہیں) اور اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے کھجور کی طرح
ہے کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا مزہ شیریں ہوتا ہے (یعنی اس کا باطن ایمان کی وجہ سے تو
اچھا ہے لیکن قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے ایمان کا اثر اس پر ظاہر نہیں ہے) اور جو منافق قرآن نہیں
پڑھتا اس کی مثال اندرائن کے پھل کی طرح ہے جس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی کڑوا
ہوتا ہے۔ (یعنی منافق کا نہ ظاہر اچھا ہے اور نہ باطن) اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے
خوشبودار پھول کی طرح ہے کہ بو تو اس کی اچھی ہے لیکن مزہ اس کا کڑوا ہے۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن
پڑھ کر عمل کرتا ہو وہ ترنج کی طرح ہے اور وہ مسلمان جو قرآن تو نہیں پڑھتا ہے لیکن اس پر عمل کرتا
ہے کھجور کی طرح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 797a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5020 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.