English
Al-Harith al-A’war narrated: "I passed by the mosque, and people were engaged in idle talk. I went to Ali (may Allah be pleased with him) and informed him. He said, ‘Have they really done so?’ I said, ‘Yes.’ He said, ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "There will indeed be trials." I asked, ‘What is the way out of them, O Messenger of Allah?’ He said: ‘The Book of Allah. In it is the news of what came before you, the information of what will come after you, and the judgment between you. It is decisive, not frivolous. Whoever abandons it out of arrogance, Allah will break him, and whoever seeks guidance elsewhere, Allah will misguide him. It is Allah’s strong rope, the Wise Reminder, and the Straight Path. It is that by which desires are not swayed, tongues are not confused, scholars are never satiated, it does not wear out despite repetition, and its wonders never cease. It is that which the jinn did not hesitate to declare when they heard it: ‘Indeed, we have heard an amazing Qur’an that guides to righteousness, so we have believed in it.’ (Al-Jinn: 1-2) Whoever speaks by it speaks the truth, whoever acts by it is rewarded, whoever judges by it is just, and whoever calls to it is guided to the Straight Path.’"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٥٧٨ - وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُوْنَ فِي الْأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلَى الله فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَوَ قَدْ فَعَلُوْهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّهَا سَتَكُوْنُ فِتْنَةٌ، فَقُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «كِتَابُ اللهِ، فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ،وَهُوَ الْفَضْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللهُ، وَمَنْ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللهِ الْمَتِينُ، وَهُوَ الذَّكْرُ الْحَكِيمُ، وَهُوَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لَا تَزِيعُ بِهِ الْأَهْوَاءُ، وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ، وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ﴾ (الجن : ١) مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3051
حضرت حارث اعور رحمہ اللہ سے جو مشہور تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں
ایک دفعہ کوفہ کی ایک مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ (تلاوت قرآن کی بجائے) بے فائدہ
باتوں (غیر ضروری مباحثوں) میں مشغول ہیں۔ یہ دیکھ کر میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی
خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ کو اس کی اطلاع دی۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: کیا لوگ (قرآن
کی تلاوت کو چھوڑ کر مسجد میں) ایسی خرافات میں مشغول ہوگئے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں (یا
امیر المومنین) پھر حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے
سنا ہے کہ خبردار ہو جاؤ! کہ عنقریب ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ یہ سن کر میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ﷺ! اس فتنہ سے محفوظ رہنے کی کیا صورت ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن کے احکام پر عمل کرنا (ہی اس فتنے سے محفوظ رہنا ہے) اس میں تم سے
پہلے (کی امتوں) کے تذکرے ہیں اور تمہارے بعد (قیامت تک پیش آنے والے واقعات) کا
بیان ہے اور تمہارے مسائل (حلال و حرام وغیرہ) کا ذکر ہے اور وہ یعنی قرآن ہی (حق و باطل کے
درمیان) فیصلہ کرنے والا ہے اور اس میں کوئی بات ناشائستہ نہیں۔ جس سرکش نے اسے چھوڑا اللہ
تعالیٰ اس کو ہلاک کردے گا۔ اور جس نے ہدایت کو قرآن کے سوا (ان کتابوں اور علوم میں) تلاش
کیا (جو کتاب اللہ سے ماخوذ نہیں) تو اللہ تعالیٰ اس کو (ہدایت کے راستے سے) گمراہ کر دیتے ہیں اور
قرآن ہی اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور قرآن ہی حکمت سے بھری ہوئی نصیحت ہے اور قرآن ہی
سیدھا راستہ ہے اور قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس کی اتباع کرنے والے کو خواہشات نفس گمراہ نہیں
کرسکتیں اور قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی دوسرا کلام خلط ملط نہیں ہوسکتا۔ (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ
نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے) اور علماء اس سے سیر نہیں ہوتے اور بار بار دوہرانے کے باوجود
یہ پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس کی تلاوت کی لذت اور شیرینی کم نہیں ہوتی (بلکہ ہر وقت اس کی لذت
بڑھتی ہی جاتی ہے) اور اس کے عجائب و غرائب ختم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ وہی کلام ہے جس کو سنتے ہی
(ایک لمحہ بھی توقف کئے بغیر اجنہ نے یہ کہا: ”إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا . يَهْدِيْ اِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا
بِهٖ“ (سورۃ جن، آیت نمبر: 2:1) ہم نے قرآن کو سنا جو عجیب و غریب کلام ہے اور جو ہدایت
کا راستہ دکھاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے جس نے قرآن کے مطابق؟ سچ کہا اور جس نے اس پر
عمل کیا اجر پایا اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا انصاف کیا جس نے (لوگوں کو) قرآن کی
طرف بلایا اس کو سیدھی راہ کی ہدایت ملی۔ اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2906 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2138 (unverified) 95% confidence
Mishkat (candidate) 2138
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جس نے قرآن کے سوا کسی اور چیز میں ہدایت تلاش کی تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دیں گے‘‘۔ اس ارشاد سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ شیخ ابو اسحاق کازرونی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ گمراہ فرقے جیسے خوارج، قدریہ، جبریہ وغیرہ سنت کی طرح قدریہ قرآن ہی سے استدلال کرتے ہیں؟ اس پر علامہ کازرونی نے قرآن کی آیت پڑھی: ’’يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا‘‘۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:26) (اللہ تعالیٰ قرآن ہی سے اکثر کو گمراہ کرتے ہیں اور قرآن ہی سے اکثر کو ہدایت دیتے ہیں) اور علامہ ممدوح نے یہ بھی فرمایا کہ گمراہ فرقے کامل طور پر قرآن سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ انھوں نے ان حدیثوں کو چھوڑ دیا جو حقیقت میں مقاصد قرآنی کی تفسیر ہیں حالانکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‘‘ (سورۃ حشر، آیت نمبر:7) (رسول جو کچھ تم کو دیں تم اس کو لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو باز رکھیں تم اس سے باز رہو)۔ تو ان فرقوں نے قرآن کی معرفت کا حق ادا نہیں کیا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی جو قرآن کی معرفت میں کامل ہیں جس کے نتیجہ میں انھوں نے احادیث کا انکار کیا۔ چنانچہ امام الصوفیہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جو قرآن حفظ نہ کرے اور حدیث نبوی نہ لکھے تو وہ اتباع کے لائق نہیں ہے اور جو ہمارے طریقہ یعنی تصوف میں بغیر علم کے داخل ہوا اور اپنی جہالت پر اڑا رہا تو وہ شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے گا کیونکہ ہمارا طریقہ کتاب اور سنت کے ساتھ مقید ہے۔ مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ قرآن کے ساتھ احادیث نبوی مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے حجت اور ماخذ قرار دینے کے لئے محدثین کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں متعدد حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے یہاں بطور مثال کے ابوداؤد کی ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس کو حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے وہ تو صرف قرآن ہی میں موجود ہے (اب حدیث کی کیا ضرورت ہے) سن رکھو خدا کی قسم میں نے جن جن چیزوں (کے کرنے کا) کا حکم دیا ہے اور نصیحت کی ہے اور جن چیزوں سے منع کیا ہے (یعنی میری احادیث) وہ بھی (اپنی نوعیت میں) قرآن کی طرح ہیں بلکہ (بعض صورتوں میں جہاں قرآن مجمل ہو یا ساکت ہو قرآن سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اعلی آخر الحدیث۔ اس سے ثابت ہوا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرنے والا منکر اور کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو انکار حدیث کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔