اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3066
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: اے ابوالمنذر (یہ حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے)
تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کی کون سی آیت سب سے بڑھ کر فضیلت والی
ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ حضور نے دوبارہ پھر فرمایا: اے
ابوالمنذر، اے ابوالمنذر! قرآن کی کون سی آیت تمہارے خیال میں افضل ہے؟ اب میں نے عرض
کیا: ”اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ“ (یعنی پوری آیہ الکرسی) حضرت ابی بن کعب کہتے
ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت سے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر مارا
اور ارشاد فرمایا: اے ابوالمنذر تم کو تمہارا یہ علم مبارک ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 810 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2122 (unverified) 92% confidence
Mishkat (candidate) 2122
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "The greatest..." It is mentioned in Al-‘Alamgiriyyah: "Some Surahs and verses are superior, like Ayat al-Kursi, in that their recitation carries greater reward and awakens the heart. However, it is best not to prefer some parts of the Qur’an over others at all—this is the preferred view."
Note 1
(۱) قوله : أعظم وقال في العالمگيرية: يفضل بعض السور والآيات كآية الكرسي ونحوها، ومعنى الأفضلية أن ثواب قراءته كثير وقليل بأنه للقلب أيقظ، وهذا أقرب إلى الصواب، وبهذا المعنى يقال: إن القرآن أفضل من سائر الكتب المنزلة، والأفضل أن لا يفضل بعض القرآن على بعض أصلا، وهو المختار . كذا في جواهر الأخلاطي».
Note 1
ف: فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ قرآن کی بعض سورتوں کو دوسری سورتوں پر اور بعض آیتوں کو دوسری آیتوں پر فضیلت ہے۔ جیسے آیہ الکرسی وغیرہ۔ اور افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے پڑھنے کا ثواب زیادہ ملتا ہے اور افضل ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ایسی سورتیں اور آیتیں اپنے معنی اور مضامین کے اعتبار سے دل کو زائد متنبہ کرنے والی ہیں۔ اور فضیلت کا یہی مفہوم زیادہ قرین صواب ہے۔ یہ جواہر الاخلاطی میں مذکور ہے۔ اس بارے میں دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یوں تو پورا قرآن کلام اللہ کی حیثیت سے مساوی مرتبہ کا حامل ہے۔ اس لیے اس کے کسی جزو کو کسی جزو پر فضیلت ہرگز نہ دی جائے اور یہی مسلک مختار اور مفتی بہ ہے۔