Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues of the Qur’an

Hadith 2592

Opening narrations

In this book

Current reading

the Virtues of the Qur’an

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2592Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3067
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان کی زکات یعنی صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت اور نگرانی پر مامور فرمایا۔ پس میرے پاس ایک شخص آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے غلہ سمیٹنے لگا میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے کہا: میں ضرور تجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤں گا، اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں محتاج ہوں اور صاحب اولاد ہوں جن کا نفقہ میرے ذمہ ہے اور میں سخت ضرورتمند ہوں۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے اس کو چھوڑ دیا اور جب صبح ہوئی تو (حضور کی خدمت میں حاضر ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کچھ کہے بغیر خود ہی مجھ سے دریافت فرمایا: اے ابو ہریرہ! تمہارا رات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے کہا یا رسول اللہ اس نے اپنی سخت ضرورت اور عیال داری کی شکایت کی تو مجھ کو اس پر ترس آ گیا۔ اور میں نے اسے چھوڑ دیا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یاد رکھو اس نے تم سے جھوٹ کہا ہے اور کل پھر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے پر کہ وہ کل پھر آئے گا کہ چنانچہ میں اس کی تاک میں رہا۔ وہ پھر آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ سمیٹنے لگا۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا: میں تجھ کو ضرور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر کروں گا اس نے پھر کہا مجھے چھوڑ دو۔ میں بہت محتاج ہوں اور بچوں کا سارا بوجھ میری گردن پر ہے میں اب پھر نہیں آؤں گا۔ مجھے اس پر پھر رحم آ گیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا اور جب صبح ہوئی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ تمہارا رات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے اپنی سخت ضرورت کی شکایت کی اور بچوں کی ضرورت کا بھی اظہار کیا تو مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا تو حضور نے فرمایا اس نے تم سے جھوٹ کہا وہ پھر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے سے کہ وہ پھر آئے گا میں نے یقین کر لیا کہ وہ ضرور دوبارہ آئے گا چنانچہ میں اس کو پکڑنے کے لئے تاک میں رہا وہ پھر آیا اور غلہ سمیٹنے لگا میں اس کو پکڑ لیا اور کہا میں تجھ کو ضرور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر کروں گا۔ اور یہ تین دفعہ میں آخری مرتبہ ہے کہ تو نے وعدہ کیا تھا کہ نہیں آؤں گا اور پھر آ گیا ہے۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں تم کو چند کلمے ایسے سکھا دیتا ہوں جن کے ذریعہ سے اللہ تمہیں فائدہ دے گا۔ جب تم سونے کے لئے بستر پر جاؤ تو آیۃ الکرسی ”اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ“ تا ختم آیت یعنی ”وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ“ تک پڑھ لیا کرو تو خدا کی طرف سے تمہارا ایک نگہبان یعنی ایک فرشتہ مقرر کیا جائے گا اور (اس کی برکت سے) صبح تک کوئی شیطان اور جن تمہاری ایذا رسانی کے لئے تمہارے قریب نہیں آئے گا تو میں نے اسے پھر چھوڑ دیا جب صبح ہوئی اور میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا قیدی کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے چند کلمات ایسے سکھا دئے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دیں گے (چنانچہ اس نے مجھے سوتے وقت یہ آیۃ الکرسی پڑھنے کی فضیلت بتائی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے جو کچھ بتایا ہے سچ بتایا ہے آیۃ الکرسی کی وہی خاصیت ہے (اگرچہ کہ اور باتوں میں) وہ جھوٹا ہے۔ (ابو ہریرہ) کیا تم کو خبر ہے کہ تین راتوں سے تم کس سے مخاطب تھے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ نہیں میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھا۔ حضور نے فرمایا کہ: وہ شیطان تھا۔ (جو صدقات میں نقص پیدا کرنے اور خیر کے کاموں میں خلل ڈالنے کے لئے آیا کرتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2311 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5010 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.