English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (ﷺ) sent a man in charge of an expedition who would recite Surah al-Ikhlas for his companions in prayer. When they returned, they mentioned this to the Prophet (ﷺ), who asked why he did so. The man replied: 'Because it describes the Most Merciful, and I love to recite it.' The Prophet (ﷺ) said: 'Tell him that Allah loves him.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٦٢٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) َنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِفِي صَلَاتِهِمْ، فَيَخْتِمُ1 بِـ ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ ، فَلَمَّا رَجَعُوْا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ، فَقَالَ: سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ : أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3106
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ایک لشکر پر امیر بنا کر بھیجا اور وہ اپنے ساتھیوں کی نماز
میں امامت بھی کیا کرتے تھے۔ تو وہ اپنی ہر نماز کی قرأت کو سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ“ پر ختم کیا
کرتے تھے جب صحابہ واپس ہوئے تو ان حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا
حضور نے فرمایا: انھیں سے دریافت کرو کہ وہ ایسا کیوں کیا کرتے ہیں؟ جب لوگوں نے ان سے
دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ اس سورہ میں رحمٰن یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہے اس لئے میں اس
کے پڑھنے کو پسند کرتا ہوں (اور بار بار پڑھتا ہوں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جواب
سنا تو فرمایا کہ ان کو مطلع کردو کہ اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتے ہیں (اور اس کی برکت سے تم کو
طاعت الٰہی پر استقامت نصیب فرمائیں گے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 7375 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 813a (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2131 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 2131
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "It is sealed, etc." In the last rak'ah after Al-Fatihah in every prayer, this surah is recited. This was mentioned in Al-Marqat. It was said in Al-'Alamgiriyyah: It is disliked to designate a specific part of the Qur'an for a specific part of the prayer. Al-Tahawi and Al-Isbijabi said: This applies if one considers it obligatory and necessary, such that nothing else is permissible, or considers reciting something else to be disliked. However, if one recites it for ease or to seek blessings, there is no dislike in that, provided that they occasionally recite something else so that an ignorant person does not assume that nothing else is permissible. This is stated in Al-Tabyin.
Note 1
(۱)قوله: فيختم إلخ في الركعة الأخيرة بعد الفاتحة من كل صلاة هذه السورة. قاله في المرقاة» وقال في «العالمكيرية»: ويكره أن يوقت شيئًا من القرآن لشيء من الصلاة. قال الطحاوي والإسبيجابي: هذا إذا رآه حتما واجبًا بحيث لا يجوز غيره أو رأى قراءة غيره مكروهة، وأما إذا قرأ لأجل اليسر عليه أو تبركا بقراءته له فلا كراهية في ذلك، ولكن يشترط أن يقرأ غيره أحيانا؛ لئلا يظن الجاهل أن غيره لا يجوز. هكذا في «التبيين».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ایک صحابی اپنی ہر نماز کی قرأت کو سورۂ اخلاص پر ختم فرمایا کرتے تھے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ وہ صحابی ہر نماز کی آخری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔ اور عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ کسی بھی نماز کے لئے قرآن کی کسی ایک سورت کو یا کسی ایک حصہ کو معین کرلینا مکروہ ہے۔ امام طحاوی اور اِسْبِیْجَابِی نے کہا ہے کہ یہ کراہت اس وقت ہوگی جب کہ وہ شخص قرآن کی کسی ایک سورت یا کسی ایک حصہ کو نماز میں پڑھنا واجب اور ضروری سمجھے اور اس کے سوا کسی اور سورت وغیرہ کو پڑھنا جائز نہ سمجھے لیکن اگر کسی نے کسی معین سورت کو اپنی آسانی کے لئے پڑھا یا حصول برکت کے لئے یہ سمجھ کر پڑھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کو پڑھا کرتے تھے تو اس میں کوئی کراہت نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ کبھی کبھی دوسری سورت کو بھی پڑھ لیا کرے تاکہ ناواقف لوگ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ یہ تبیین میں مذکور ہے۔