English
Ubayy ibn Ka‘b (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) would not recognize the end of a surah until In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful was revealed to him .
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٦٧٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنهما) ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّوْرَةِ حَتَّى1 يُنْزَلَ عَلَيْهِ ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3159
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب تک کہ ”بسم
الله الرحمن الرحيم“ کی آیت نازل نہیں ہوتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کے درمیان فصل
نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 788 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Until Bismillah... was revealed"—Our scholars cite this as evidence that the Basmalah is an ayah revealed to separate surahs. The apparent meaning of the hadith indicates its revelation was repeated, which carries no objection. Rather, it demonstrates its virtue, like the repeated revelation of Al-Fatihah according to one opinion (Al-Mirqah)
Note 1
(۱) قوله: حتى ينزل إلخ : قال في المرقاة»: تعلّق به أصحابنا حيث قالوا: إن البسملة آية نزلت للفصل، وظاهر الحديث أن الإنزال مكرر، ولا محذور فيه، بل يدلُّ على شرفها كتكرار نزول الفاتحة على قول.
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ ہمارے فقہاء احناف نے فرمایا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ ایک مستقل آیت ہے جو سورتوں کے درمیان فصل کے لئے نازل کی گئی ہے اور یہ کسی سورت کا جزو نہیں ہے اور صدر کی حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کا نزول مکرر ہوا ہے۔ (ایک مرتبہ تو (سورۂ نمل، آیت نمبر:30) میں ”إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ ہے اور دوسری بار سورتوں کے فصل کے لئے ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کا نزول ہوا ہے اس لئے بھی اس کی عظمت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے جس طرح ایک روایت میں ہے کہ سورۂ فاتحہ بھی دو مرتبہ نازل ہوئی۔ جو اس کی عظمت اور بزرگی پر دلالت کرتی ہے۔12