اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3263
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک دفعہ) سفر کر رہے تھے (راستہ میں) چند اصحاب نے بلند آواز سے
اللہ اکبر پڑھنا شروع کیا یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر سختی
نہ کرو (اور آہستہ آہستہ ذکر کرو)۔ اس لئے کہ تم جس ذات عالی کو پکار رہے ہو وہ نہ تو کم سننے والا ہے
اور نہ تم سے غائب ہے بلکہ تم جس ہستی کو پکار رہے ہو وہ تو سَمِيْعٌ وَّ بَصِيْرٌ خوب سننے والا اور خوب
دیکھنے والا ہے اور وہ ہر وقت تمہارے ساتھ ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور جس کو تم
پکارتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تم سے زیادہ قریب ہے (یعنی تمہاری شہ رگ سے بھی
زیادہ قریب ہے) حضرت ابوموسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے پیچھے سواری پر تھا۔ اور اپنے دل میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے عبداللہ بن قیس (یہ حضرت ابوموسیٰ اشعری کا نام ہے)
کیا میں تم کو ایسا خزانہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ضرور بتائیے آپ نے فرمایا (سنو) وہ کلمہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6384 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2704a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: "Raising their voices..." – This clarifies the ruling on loud and quiet remembrance of Allah.
Note 1
(۱) قوله: يجهرون إلخ وتحقيق الجهر والسر في باب ذكر الله عز وجل.