Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

Hadith 2792

(اس باب میں گناہوں سے مغفرت مانگنے اور توبہ یعنی گناہوں پر پشیمان ہونے

In this book

Current reading

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

(اس باب میں گناہوں سے مغفرت مانگنے اور توبہ یعنی گناہوں پر پشیمان ہونے

Zujajat al-Masabih 2792Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3286
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بنی اسرائیل میں دو شخص آپس میں گہرے دوست تھے۔ ان میں سے ایک عبادت میں مشقت اٹھاتا تھا اور دوسرا کہتا کہ میں تو گنہ گار ہوں۔ وہ (عابد گنہ گار سے) کہتا کہ تو جس گناہ میں مبتلا ہے اس کو چھوڑ دے۔ تو گنہ گار کہتا کہ: تو مجھے میرے رب کے حوالہ کر دے۔ (وہ غفور رحیم ہے) یہاں تک کہ اس عابد نے اس گنہ گار کو ایک بڑا گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا کہ اس گناہ سے باز آ۔ تو اس (گنہ گار) نے پھر وہی کہا: مجھے میرے رب کے حوالہ کر دے۔ کیا تو مجھ پر داروغہ بنا کر بھیجا گیا ہے؟ تو اس (عابد) نے جواب دیا کہ: قسم خدا کی اللہ تعالیٰ تجھے ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ تجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس (موت کے) فرشتوں کو بھیجا تو اس نے ان دونوں کی روح قبض کر لی۔ پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے گنہ گار سے کہا: تو میری رحمت کے سبب سے جنت میں داخل ہو جا اور دوسرے سے فرمایا۔ کیا تو میرے گنہ گار بندہ کو میری رحمت سے محروم کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا: نہیں اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا: اس کو دوزخ کی طرف لے جاؤ (تاکہ وہ اپنے غرور کی سزا بھگتے)۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2347 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 2347

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو یقین کے ساتھ دوزخی کہنا درست نہیں اس لئے کہ نجات کا مدار خاتمہ پر ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔ (حاشیہ مشکوۃ)