Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Purification

Hadith 283

Chapter on the Virtues of Ablution

In this book

Current reading

Purification

Chapter on the Virtues of Ablution

Zujajat al-Masabih 283Volume 1

English

In this hadith, the Prophet ﷺ describes a unique and distinguishing feature of his followers on the Day of Judgment. He will be the first to be allowed to prostrate, and the first to be permitted to raise his head. When he does, he will see before him and recognize his followers from among the nations. They will be identifiable by their distinct marks, such as the white marks of ablution (wudu), and their deeds will be evident as they will be given their deeds in their right hands. The Prophet ﷺ will also recognize their descendants walking before them. A companion asks how the Prophet ﷺ will recognize his followers among all the nations, and the Prophet ﷺ explains that their distinguishing marks from the effects of wudu will be visible, and no other nation will have this unique sign.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٨٣ - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يُرْفَعَ رَأْسُهُ، فَأَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلَ ذَلِكَ»، فَقَالَ رَجَلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيْمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: هُمْ غُرُ مُحَجَّلُوْنَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوْءِ، لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرَهُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 312
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت ہوگی اور سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھے ہوگی، پس میں اپنے روبرو دیکھوں گا اور اپنی امت کو تمام امتوں میں پہچان لوں گا، میں اپنے پیچھے دائیں اور بائیں بھی اسی طرح اپنی امت کو پہچان لوں گا۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کے زمانہ تک کی درمیانی امتوں میں اپنی امت کو کیسے پہچان سکیں گے؟ ارشاد فرمایا: میری امت وضوء کے نور کی وجہ سے روشن ہاتھ پیر والی ہوگی اور یہ بات کسی اور میں نہ ہوگی اور ان کو اس وجہ سے بھی پہچان لوں گا کہ ان کو نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس امت کی خصوصیت ہے کہ ان کو سب سے پہلے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا، یا ان کو اعمال نامہ دینے کی کوئی خاص صفت ہوگی اور اس وجہ سے بھی پہچان لوں گا کہ ان کے چھوٹے بچے (جو چھوٹی عمر میں انتقال کر گئے ہیں ان کی مغفرت کی کوشش میں) ان کے آگے دوڑتے ہوں گے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 300 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 300

Confidence and text similarity are not editorial verification.